بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چیئرمین سینٹ کا وزراء کی عدم موجودگی میں ایوان بالا کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے انکار

چیئرمین سینٹ کا وزراء کی عدم موجودگی میں ایوان بالا کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے انکار


اسلام آباد ۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے جمعہ کو ایوان میں وزراء کی عدم موجودگی میں احتجاجاً ایوان بالا کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے انکار کردیا‘ چیئرمین سینٹ نے واضح کیا ہے کہ حکومت ایوان بالا کو چلانا ہی نہیں چاہتی حکومت کا رویہ غیر سنجیدگی پر مبنی ہے۔ یہ انتباہ چیئرمین سینٹ نے ایوان بالا میں ایک توجہ مبذول کروانے کے نوٹس پر جواب کیلئے وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے نہ آنے پر جاری کیا۔

گزشتہ روز پی پی پی کی سینیٹر کامران سحر نے اسلام آباد کے نجی سکولوں کے نصاب کی کتابوں میں آزاد جموں وکشمیر کا علاقہ جموں وکشمیر کا پاکستانی مقبوضہ علاقہ قرار دینے کو قومی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر توجہ مبذول کرانے کا نوٹس پیش کیا۔ قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے آگاہ کیا کہ وزیر مملکت برائے تعلیم ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں کسی اور وزیر کی ذمہ داری لگائی گئی ہوگی چیئرمین سینٹ نے اس وزیر کے بارے میں دریافت کیا تاہم اس دوران چیئرمین سینٹ کو معاون عملے نے آگاہ کیا کہ اس نوٹس کے جواب کی ذمہ دار وزارت کیڈ ہے چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان سے استفسار کیا کہ جواب تو وزیر مملکت کیڈ نے دینا ہے وہ کہاں ہیں ۔ وزیر مملکت کیڈ کی عدم موجودگی پر میاں رضا ربانی نے کہا کہ حکومت اس ایوان کو چلانا ہی نہیں چاہتی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔

انہوں نے اجلاس کی کارروائی کو احتجاجاً آگے بڑھانے سے انکار کردیا اور کارروائی پیر تک ملتوی کردی۔ قبل ازیں چیئرمین سینٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے قائد ایوان کے ذریعے وزراء کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ حکام تک پہنچائیں گے۔ وقفہ سوالات کے دوران شیخ آفتاب احمد نے ایک سوال پر کہا کہ ان کو فائلیں دے دی جاتی ہیں اور میں پڑھ دیتا ہوں۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وزراء کے آنے کے حوالے سے میری رولنگ تھی۔ وزراء کو یہاں آنے پر پابند کیا جائے۔ انہوں نے راجہ ظفر الحق سے کہا کہ وہ اس معاملہ کو اعلیٰ حکام تک پہنچائیں۔ میری رولنگ بھی ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اب وزراء کو یہاں آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ وزراء کی سپریم کورٹ میں کوئی ڈیوٹی نہیں تھی۔ اعتزاز احسن خود کافی عرصہ بعد تشریف لائے ہیں معلوم نہیں کس مقدمہ میں مصروف تھے۔