بریکنگ نیوز
Home / کالم / سمندرسے ملے پیارسے کو شبنم…

سمندرسے ملے پیارسے کو شبنم…


پنڈال بھرا ہوا تھا…آکسفورڈ کے کراچی لٹریری فیسٹیول کے پہلے دن اسکے شاندار افتتاح کے بعد ایک ادبی پروگرام’’ ادب کے تارے‘‘ کے نام سے ترتیب دیا گیا تھا جسکے بارے میں ہمیں کچھ خبر نہ تھی کہ ہم نے اس میں شامل ہونے کے بعد کرنا کیا ہے اور کہنا کیا ہے‘ تب کسی رازداں نے خبر کی کہ کچھ عرصہ سے ادیب حضرات اکثر طویل عمر کے لطف اٹھا کر دھڑا دھڑ رخصت ہوگئے ہیں تو انتظامیہ نے سوچا کہ یہ جو بچے کھچے بوڑھے دانے رہ گئے ہیں ان کی پذیرائی فوراً کرلی جائے کہ کیا پتہ کل ہی خبر آجائے… تو آج انکو جی بھر کے دیکھ لو… مجھے کچھ طمانیت ہوئی کہ کم از کم سعود اشعر اور زہرہ نگاہ مجھ سے بڑھ کر بزرگ ہیں جبکہ کشور ناہید مجھ سے محض چھ مہینے چھوٹی ہے‘ بہرطور وہ کہتی تو یہی ہے ورنہ ساری عمر اس نے ادیبوں کی پھوپھی بن کر گزاری ہے‘ میں نے سعود اشعر سے پوچھا کہ ہم تو بے زبان ہوا کرتے ہیں‘ اہل زبان آپ ہیں تو یہ تارے اور ستارے میں کیا فرق ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگے اور اپنی کھسکی ہوئی عینک کو ناک پر سے انگلی کی ٹھوکر لگا کر آنکھوں تک لے گئے’’ ستارے سے مراد ہے‘ سہ تارے یعنی تین تارے…تارا صرف ایک ہوتا ہے‘‘ لیکن سٹیج پر تو ہم چار تھے تو گویا ہم چہار تارے تھے‘ چونکہ نہ میزبان جانتا تھا کہ اس تقریب کی نوعیت کیا ہے اور نہ ہمیں کچھ خبر تھی چنانچہ سب لوگ اپنی اپنی کہتے رہے اور تب میں نے زہرہ نگاہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپا میری تازہ ترین کتاب ’’لاہور آوارگی‘‘ میں ایک باب’’لاہور کی محبوب عورتیں‘‘ نام کا ہے جس میں امرتا پریتم‘ امرتا شیر گل‘ فاطمہ جناح‘ ایواگارڈنر اور نورجہاں کے علاوہ ایک اور عورت کا تذکرہ بھی ہے ذرا سنئے…لکھنو کے اہل دل کو تو پنجابیوں نے قصہ ہیررانجھا سنا کر لوٹ لیا لیکن ایک مرتبہ یونیورسٹی سینٹ ہال کے ایک بڑے مشاعرے میں ایک موٹی موٹی آنکھوں والی دلکش لڑکی نے ایک غزل ترنم سے سنا کر اہل لاہور کو لوٹ لیا‘ ازاں بعد لاہوریوں نے جگر مراد آبادی سمیت دیگر سینئر شعراء کو سننے سے انکار کر دیا اور عابد علی عابد نے تنگ آکر مشاعرے کے اختتام کا اعلان کر دیا‘ آپ نے جس غزل سے لاہوریوں کو لوٹ لیا وہ میں نے درج کی ہے تو ذرا آج پھر سے وہی لڑکی ہو جایئے اور اسی غزل کے چند شعر عنایت کر دیجئے…زہرہ نگاہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں اور وہ پچھلے زمانوں میں سفرکرگئیں…

چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کیلئے…سنور رہی ہے تری بزم برہمی کیلئے…نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں… تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کیلئے…فیسٹیول کے افتتاح کے موقع پر جہاں ہندوستان‘ جرمنی‘ اٹلی‘ انگلستان اور فرانس کے سفارتکاروں نے تقریریں کیں‘ آصف فرضی اور ادبی میلوں کی والدہ محترمہ امینہ سید نے خطا ب کیا وہاں عائشہ جلال اور مجھے کلیدی خطبے کیلئے منتخب کیا گیا… عائشہ جلال ایک بین الاقوامی تجزیہ نگار اور سیاسی فلسفی جن کی کتاب قائداعظم کے حوالے سے’’ دا سول سپوکس مین‘‘ ایک شاہکار ہے… عجیب اتفاق ہے کہ تقریباً نصف صدی کے بعد ہماری ملاقات یہاں ہو رہی تھی… وہ بھی سعادت حسن منٹو کی مانند لکشمی فیشن کی باسی تھیں اور ہم سب’’ بچے‘‘ یعنی عائشہ جلال‘ شاہد جلال اور منٹو صاحب کی بیٹیاں مینشن کی دھول آلود گراؤنڈ میں اودھم مچایا کرتے تھے… توقع کے مطابق عائشہ جلال نے اپنی بے مثل انگریزی میں کیا اثرانگیز کلیدی خطبہ دیا اور محفل کو لوٹ لیا… سب سے آخر میں ایک سینئر ادیب کی حیثیت سے مجھے بھی ایک خطبہ وغیرہ دینا تھا لیکن محفل تو لٹ چکی تھی‘ اور وہ مزید لٹ گئی جب ہماری ماضی کی ہیروئن شبنم پنڈال میں داخل ہوئیں گئے زمانوں کی جھرنا بھی عمر کے بکھیڑوں سے بوڑھی اور مخبوط الحواس ہوچکی تھیں چنانچہ میں نے اپنی تقریر کے آغاز میں اقرار کیاکہ خواتین و حضرات ویسے تو میں نے بھی ایک نہایت فلسفیانہ اور عمیق گہرائی کا حامل ایک خطبہ تیار کر رکھا تھا لیکن جونہی شبنم بی بی پنڈال میں داخل ہوئیں تو میرا دل اس زور سے دھڑکا کہ قیامت کردی اور میں سب کچھ بھول بھال گیا کہ یہ ہماری محبوب ہوا کرتی تھیں‘ ہماری جوانی کی آگ ہوا کرتی تھیں اور میں انہیں انکے اصلی ملک پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں‘ شبنم نے اپنی ابھی تک پرکشش سیاہ بنگال کی جادو آنکھیں میرا شکریہ ادا کرنے کیلئے جھپکائیں اور دل پھر سے رکنے لگا…

میں نے جو کچھ اپنے کلیدی خطبے میں کہا اس کی تفصیل میں کیا جانا‘ اخباروں اور میڈیا میں وہ رپورٹ ہو چکا ہے… میں جب کراچی پہنچا تو مجھ سے پہلے نہ صرف جمیل عباسی اور اس کی بیگم عظمیٰ حیدرآباد سے چلے آئے تھے بلکہ’’ برڈز آف سیالکوٹ‘‘ والد کامران سلیم بھی سیالکوٹ سے مارا ماری کرتا مجھ سے پہلے’’ بیچ لگژری ہوٹل‘‘ پہنچ کر میرا انتظار کر رہا تھاکامران سلیم نے جس طورپورے فیسٹیول میں مجھے سنبھالا اور سہارا دیا‘ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں… وہ نہ ہوتا تو ادب کے شائقین مجھے اپنی محبت اور چاہت سے دفن کر دیتے‘ شکریہ کامران سلیم…
اسی شب جرمن سفیر کی جانب سے ہوٹل کے مالک اور میرے دوست ڈنشا آواری کی برلب سمندر رہائش گاہ میں فیسٹیول میں شریک مندوبین کیلئے ایک ضیافت کااہتمام تھا‘یہاں نہ صرف ایک عرصے کے بعد ٹینا ثانی سے ملاقات ہوئی جس نے مجھے ’’ شکوہ جواب شکوہ‘‘کی سی ڈی سے نوازا بلکہ شبنم بی بی کے ساتھ بھی کچھ لمحے گزارنے کا اتفاق ہوگیا… میرے کراچی کے دیرینہ دوست ناول نگار محمد حنیف اور ایچ ایم نقوی بھی مجھ سے ملنے کیلئے چلے آئے تھے…
سمندر کی جانب سے اسکی دلدل میں اگے ہوئے جنگل کی جانب سے کچھ آبی پرندے اڑے… جب وہ روشنیوں کی زد میں آئے تو دمک اٹھے‘ چاندی رنگ کے ہوگئے… کیسا سہانا منظر تھا… سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم…