بریکنگ نیوز
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / سائنسدان ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کرنے میں کامیاب

سائنسدان ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کرنے میں کامیاب


نیویارک۔ امریکی ماہرین نے ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا ذخیرہ کرنے کا ایک نیا تجربہ کیا ہے جسے مستقبل میں ڈی این اے ہارڈ ڈرائیوز کی سمت ایک اہم عملی قدم بھی قرار دیا جارہا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی اور نیویارک جینوم سینٹر کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر ایک نظام وضع کرتے ہوئے اس میں ایک پرانی فرانسیسی فلم، ایک ایمیزون گفٹ کارڈ اور دوسری ڈیجیٹل فائلوں پر مشتمل ڈیٹا ڈی این اے میں نہ صرف کسی خامی کے بغیر محفوظ کیا ہے بلکہ اسے کامیابی سے پڑھ بھی لیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پچھلے 2 سال میں جتنا ڈیجیٹل ڈیٹا تخلیق کیا گیا ہے اس کی مقدار کمپیوٹر کی پوری تاریخ میں تخلیق کردہ ڈیجیٹل ڈیٹا سے زیادہ ہے اور اگر ڈیجیٹل ڈیٹا میں اضافے کا یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند سال ہی میں ساری دنیا کی ہارڈ ڈسک ڈرائیوز، فلیش ڈرائیوز اور ڈیٹا اسٹوریج کے دوسرے تمام ذرائع ناکافی پڑجائیں گے۔

اگرچہ ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کرنے کی کوششیں پچھلے 20 سال سے جاری ہیں لیکن وہ بہت ہی ابتدائی نوعیت کی رہی ہیں جن سے عملی میدان میں کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ البتہ امریکی ماہرین کا بنایا ہوا مذکورہ نظام ان سب کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار اور عملی نوعیت کا ہے جسے مزید پختہ کرتے ہوئے مستقبل میں ’’ڈی این اے ہارڈ ڈرائیوز‘‘ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

اس طریقے کے تحت پہلے ڈیجیٹل ڈیٹا ایک ایک بِٹ کرکے ڈی این اے نیوکلیوٹائیڈز میں محفوظ کیا جاتا ہے جس کے بعد ان نیوکلیوٹائیڈز کو ترتیب وار یکجا کرکے ایک ٹیسٹ ٹیوب میں رکھ دیا جاتا ہے۔ نیوکلیوٹائیڈز میں محفوظ ڈیجیٹل ڈیٹا ’’پڑھنے‘‘ کےلیے ان سالمات کی سلسلہ بندی (سیکوینسنگ) کی گئی۔ اس سارے عمل کو تیز رفتار اور خامیوں سے پاک بنانے کے لیے ’’ڈی این اے فاؤنٹین‘‘ کہلانے والی ایک حکمتِ عملی سے استفادہ کیا گیا جس کا مرکزی جزو ریاضی کی ’’کوڈنگ تھیوری‘‘ ہے۔