بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا انضمام کا ٹائم فریم

فاٹا انضمام کا ٹائم فریم


وفاقی کابینہ کی جانب سے قبائلی علاقوں کیلئے اصلاحات کی منظوری بلاشبہ ایک یادگار فیصلہ ہے، کابینہ سے منظور ہونے والے مسودے کے مطابق فاٹا میں رائج قانون ایف سی آر نئے رواج ریگولیشن میں تبدیل ہوگا، قبائلی عوام کو 2018ء کے عام انتخابات میں صوبائی سطح پر بھی نمائندگی مل جائیگی، این ایف سی ایوارڈ میں 3فیصد حصے کے ساتھ 321ارب روپے کا اضافی بجٹ ملے گا، قابل اطمینان ہے کہ اصلاحات کی نگرانی کیلئے خصوصی ڈائریکٹوریٹ بھی قائم کیا جائیگا، اس کے ساتھ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ازسر نوتشکیل بھی ہوگی ‘وطن عزیز میں اہم حکومتی فیصلے محض اس وجہ سے بے ثمر ہوکر رہ جاتے ہیں کہ ان کیلئے اوور سائٹ کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ، فاٹا اصلاحات میں بھی اگر خصوصی ڈائریکٹوریٹ اپنے فرائض صحیح طورپر سرانجام نہ دے پایا تو اصلاحات کا اصل مقصد ہی پیچھے رہ جائیگا، اسی طرح فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی ماضی کی طرح غیر فعال رہی تو تعمیر وترقی کی رفتار بھی وہی رہے گی جو ماضی میں تھی، اصلاحات کے سارے عمل میں اصل پوائنٹ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہے، اس انضمام کیلئے پانچ سال کا طویل وقت دیاگیا ہے۔

جس کو خیبرپختونخوا اسمبلی اور صوبائی حکومت کی جانب سے نامناسب قراردیاگیا ہے، خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ فاٹا کو بغیر کسی تاخیر کے صوبے میں ضم کیاجائے تاکہ صوبائی حکومت وہاں ترقیاتی منصوبوں کیساتھ بلدیاتی نظام کے حوالے سے پیش رفت کرسکے، اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومت نے وفاق کو بھجوائے جانیوالے خط میں اصلاحات پر عمل درآمد کیلئے ٹرانزیشنل ڈائریکٹوریٹ کے قیام کی تجویز بھی دی ہے جو براہ راست صوبائی حکومت کی نگرانی میں کام کرے، خیبرپختونخوا حکومت فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں سے متعلق دیگر معاملات میں اہم سٹیک ہولڈر ہے، فاٹا انضمام کا ٹائم فریم ہو یا ٹرانزیشنل ڈائریکٹوریٹ ضروری یہی ہے کہ خیبرپختونخوا کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھاجائے، اس ضمن میں 5سال پر محیط منصوبے کو کم وقت میں مکمل کیاجائے تاکہ حکومت کے اتنے بڑے فیصلے کے ثمرات ملنا شروع ہوں اور قبائلی عوام کو تعمیر وترقی کیساتھ بنیادی سہولیات ملنے پر تبدیلی کا خوشگوار احساس ہو۔

صوبائی اسمبلی کی قرار دادیں

خیبرپختونخوا اسمبلی میں جہیز پر پابندی اور شادی بیاہ کے اخراجات محدود کرنے کیلئے ون ڈش کا بل پیش کردیا گیا ہے، بل کے مسودے میں بارات نکاح اور ولیمے کی تقریبات رات 10بجے تک ختم کرنا بھی شامل ہے، اسمبلی نے ڈاکٹروں سمیت مختلف شعبوں کے 3ہزار 281اہلکاروں کو مستقل کرنے کیساتھ موبائل فونز پر نائٹ پیکجز کی پابندی لگانے سمیت 7قراردادیں منظور کی ہیں۔

جہاں تک ون ڈش اور شادی بیاہ کی تقریبات رات 10بجے تک ختم کرنے کا تعلق ہے تو پنجاب کے شہروں میں اس حکم نامے پر عمل ہو بھی رہا ہے، ہمارے ہاں ضرورت قانون سازی اور سرکاری احکامات پرعمل درآمد کیلئے سیٹ اپ کی ہے بہتر یہی ہوگا کہ ہر فیصلے کیساتھ واضح کیاجائے کہ اس پر عمل کون سا ادارہ کریگا اور اس کے پاس گراس روٹ لیول پر جانے کیلئے کیا انتظامات ہونگے بصورت دیگر احکامات صرف کاغذوں میں ہی رہ جائیں گے جنکی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔