بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ڈان لیکس کی انکوائری جاری ہے ٗ طارق فاطمی

ڈان لیکس کی انکوائری جاری ہے ٗ طارق فاطمی


اسلام آباد۔وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کی انکوائری جاری ہے انہیں ہٹائے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ایک انٹرویو میں طارق فاطمی نے کہاکہ 46سال ڈپلومیسی کی کبھی بات باہر نہیں نکالی ڈان لیکس پرمیڈیا میں ہونے والی قیاس آرائی پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہاکہ ڈان لیکس کی انکوائری جاری ہے انہیں ہٹائے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے تاہم نہوں نے کہا کہ وزیراعظم جس کو چاہیں ہٹا سکتے ہیں اور جس کو چاہیں لگا سکتے ہیں،لاہور اور سیہون واقعات کے بعد افغان بارڈرکی بندش مجبوری تھی۔پڑوسیوں سے اچھے تعلقات یک طرفہ نہیں ہوسکتے ،تعلقات کی بہتری کے لیے بھارت کو بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کے کامیاب انعقاد سے آئی سی سی سمیت کرکٹ کھیلنے والے ممالک سمیت پوری دنیا کو ایک کامیاب پیغام جائے گا اور آپ دیکھیں گے کہ ملکی کھیل کے میدان پھر سے آباد ہوں گے کیونکہ پاکستان کی سیکیورٹی صورت حال میں کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نہ صرف دہشت گرد تنظیموں بلکہ انفرادی طور پر بھی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائیاں کر رہی ہے جس سے ملکی امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے جو خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر و مسلح افواج نے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے سارک کانفرنس کو سبوتاژ کیا، کلبھوشن یادیو کے پاکستان میں مداخلت کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن کے بارے میں اقوام متحدہ سمیت تمام اہم فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھا رہے ہیں اور بھارتی مکروہ چہرے کو بے نقاب کر رہے ہیں۔اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ای سی او کا کامیاب انعقاد پاکستان کے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے جس میں مختلف ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے شرکت کی جو خطے کے استحکام اور اقتصادی ترقی و خوشحالی کے لیے معاون ثابت ہو گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں سید طارق فاطمی نے کہاکہ ہماری افواج نے جس جرات اور بہادری سے دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

امن کی بحالی کے لیے ہم نے پہلے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا تاہم جب دوسری جانب سے کوئی مثبت جواب نہ ملا اور یہ مذاکرات ناکام ہو گئے تو ہماری بہادر افواج نے مثبت کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، اب نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ردالفسادکے تحت دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور تمام ملکی ریاستی ادارے اس بات پر متحد ہیں کہ کسی بھی انفرادی شخص یا کسی تنظیم کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔