بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیا کسی کو طلوع آفتاب پر بھی اعتراض ہے؟

کیا کسی کو طلوع آفتاب پر بھی اعتراض ہے؟

حلقہ ارباب ذوق کی سالانہ ادبی کانفرنس کے اختتامی اجلاس کیلئے مجھے نہ صرف صدارت کیلئے بلکہ کلیدی خطبہ دینے کیلئے بھی مدعوکیاگیااوریہ میرے لئے ایک اعزاز تھا کہ حلقہ ایک ایسی ادبی تربیت گاہ ہے جہاں سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور اسکے سیکرٹری کے فرائض بھی ایک برس انجام دیئے… ڈاکٹر امجد طفیل نے جس طور انتہائی محدود وسائل کے باوجود اس دوسری ادبی کانفرنس کا انعقاد کیا اور اردو کے اہم ترین ادیبوں اور نقادوں کو جمع کیا‘ اس کی ستائش میں صرف بے بہرہ لوگ ہی بخل کے مرتکب ہو سکتے ہیں… اپنے کلیدی خطبے میں مجھے اقرار کرناپڑا کہ جیسے ہر پچاس برس بعد نہ صرف سچ کے پیمانے بدل جاتے ہیں‘ فیشن‘ خوراک‘ رہن سہن کے طور طریقے اور زبان بدل جاتی ہے بلکہ مذہب کی توجیہہ بھی مختلف ہو جاتی ہے یعنی خدا حافظ کی بجائے اللہ حافظ رائج ہو جاتا ہے… اسی طورمعاشرے اور حکومتوں کے رویے میں بھی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے‘ ایک ایسا وقت تھا جب آپ فوجی آمریت کے احتجاج میں اور مذہبی تنگ نظری کیخلاف آپ اپنی تحریروں کے راستے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے تھے… حکومت وقت آپ پر پابندیاں عائد کرتی تھی بلکہ بعض اوقات صحافی حضرات کو کوڑے بھی لگائے جاتے تھے لیکن معاشرہ آپکی حمایت کرتا تھا‘ آپکو تحسین کی نظروں سے دیکھتا تھا کہ یہ لوگ مزاحمتی ادب تخلیق کر رہے ہیں اور آج عجب وقت آن پڑا ہے کہ حکومت وقت کو کچھ پرواہ نہیں کہ آپ کیا لکھتے ہیں اس لئے بھی کہ حکومت زیادہ پڑھی لکھی نہیں جبکہ یہ معاشرہ ہے جو آپکے گلے پڑ جاتا ہے… آپ ایک حکومت کا ستم تو برداشت کرسکتے ہیں لیکن اگر معاشرہ آپکے پیچھے پڑ جاتا ہے تو فرار کے سب راستے مسدود ہوجاتے ہیں‘ ہر موڑ پر اپنے مخصوص عقیدے کی تلواریں لہراتے لوگ آپکی جان کے درپے ہو جاتے ہیں… آپ انکے طے کردہ مذہبی اصولوں سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرسکتے…

چنانچہ آپ تاریخ اور تصوف تو کیا جانوروں کے بارے میں بھی شگفتہ انداز میں ہی سہی‘ نہیں لکھ سکتے کہ اس پر بھی’’ مدلل حوالے‘‘ دے کر فتوے صادر ہو جائینگے چنانچہ آپ ان تمام موضوعات سے اجتناب کرتے ہوئے نہایت بے ضرر اور معصوم سے موضوعات پر لکھتے چلے جاتے ہیں… ایک دوست نے اپنے بڑے بیٹے کو ایک ایسے سکول میں داخل کروایا جہاں معمول کے نصاب کے علاوہ خصوصی طور پر مذہب پر توجہ دی جاتی تھی اور دوست چاہتے بھی یہی تھے کہ انکابیٹا مذہبی تعلیمات سے آگاہ ہو… اور میں ہرگز مبالغہ نہیں کر رہا کہ ایک روز وہ بچہ جھوم جھوم کے سبق یاد کرتے ہوئے کہہ رہا ہے… شراب نہیں پینی… جوا نہیں کھیلنا‘ زنا نہیں کرنا‘ چغلی نہیں کرنی‘ جھوٹ نہیں بولنا‘ گناہ ہوتا ہے… تو میں بھی اکثر یہ سبق یاد کرتا رہتا ہوں کہ… جوا نہیں کھیلنا‘ شراب نہیں پینی… یعنی ایسے کالم نہیں لکھنے جن سے معاشرے کی دل آزاری ہو تو پھر آج کیا لکھا جائے… میرا خیال ہے کہ پچھلے دنوں جو نئے سال کا سورج طلوع ہوا ہے اسکے حوالے سے دنیا کے مختلف خطوں میں طلوع آفتاب کے جو منظر دیکھے ہیں انکی تفصیل نہیں صرف جھلکیاں بیان کر دی جائیں اس امید کیساتھ کہ معاشرے کو ایک طلوع آفتاب کے بیان سے کوئی عقیدے کا بغض نہیں ہوگا…دریائے چناب کے پانیوں پر جب آفتاب ابھرتا ہے تو اس دریا کے پانیوں کی سطح پر سونا بچھ جاتا ہے‘ یہاں تک کہ انکی تہہ میں تیرتی مچھلیاں بھی سنہری ہو جاتی ہیں‘ سونے کے زیورات کی مانند چناب کو سجا دیتی ہیں… سوہنی کا کچا گھڑا اس منظر کی گواہی دے سکتا ہے … دریائے سندھ کے سفر کے دوران ایک سویر کشتی سے باہر عرشے پر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے پانیوں میں سے ایک اندھی ڈولفن ابھر رہی ہے اور اس کا وجود سورج کی پہلی کرنوں سے روشن ہو رہا ہے‘ کنکورڈیا کے برف زاروں میں وہ صبح بھی کیسی جادو بھری تھی جب میں اپنے خیمے میں سے باہر آیا تو شاہ گوری یا کے ٹو کی چوٹی ایک ہیرے کی مانند سورج کی پہلی شعاعوں سے منور ہو رہی تھی… یہ شہر ہرات کی صبح کا قصہ ہے‘ میں شہر سے باہر ایک بلند ٹیلے پر بیٹھا ہوں اور ملکہ گوہر شاد کے نیلے مقبرے اور بیقارہ مدرسے کے سربریدہ میناروں کے عقب سے سورج طلوع ہو رہا ہے…

پہلی کرنوں کے سنہرے تیر تمہاری جانب چلے آتے ہیں اور تمہارے بدن پر وار کرکے اسے بھی روشن کرتے ہیں‘ الاسکا کے خزاں رسیدہ جنگلوں کی گھناوٹ میں الجھا ہوا سورج دھیرے دھیرے ابھرتا ہے‘ اس کی کرنوں میں ٹھنڈک ہے اور وہ جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں تک کے ویرانوں کو ہولے ہولے روشن کرتا چلاجاتا ہے‘ ایک اور یادگار جرمنی کے بلیک فارسٹ پر طلوع ہونے والے آفتاب کی ہے‘ یہ جنگل اسلئے بلیک فارسٹ کہلائے کہ انکے اندر دن کو بھی شب کی سیاہی کا سماں ہوتا ہے کہ یہ اتنے گھنے ہیں‘ سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاعیں درختوں کی چوٹیوں پر ہی بسیرا کرتی ہیں‘ جنگل کے پاتال تک نہیں پہنچ پاتیں‘ ایک فاصلے سے دیکھئے تو ایک سیاہ لینڈ سکیپ کا بالائی حصہ تو روشن ہے لیکن اس کے تلے شجروں کی ایک سیاہ رات ٹھہری ہوئی ہے‘ یہ چین کے مسلمان صوبے سنکیانگ میں واقع عظیم صحرا تکلامکان پر طلوع ہونے والا ایک سورج ہے… ابھی اس سویر میں ٹھنڈک کی صدائیں خنک ہوتی ہیں اور ابھی سورج چڑھنے کے کچھ دیر بعد پورا صحرا سلگنے لگتا ہے‘ ایسے درجنوں طلوع آفتاب ہیں جو میری آنکھوں میں طلوع ہوئے‘ سب کا ذکر کہاں ممکن ہے…کون جانے اب کتنے طلوع باقی رہ گئے ہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ کم از کم ایک غروب ایسا ہے جو نزدیک آرہا ہے جب میرے چہرے پر زردی بچھ جائے گی… بس اسی کا انتظار ہے…
اٹھ فریدا ستیا‘ ہن داڑھی آیا بور
اگا نیڑھے آگیا تے پچھا رہ گیا دور