بریکنگ نیوز
Home / کالم / یہ ملکیت کا سوال کیوں ہے؟

یہ ملکیت کا سوال کیوں ہے؟

دنیا میں پچاس سے زائد اسلامی ممالک ہیں ان ممالک کے اکثر حکمران جو زندگی گزار رہے ہیں‘ جو انکے رہن سہن کے طریقے ہیں‘جو ان کی بودوباش ہے اس کا اسلامی اقدار سے دور دور کا تعلق بھی نہیں ان میں بعض تو بادشاہ ہیں ‘بعض فوجی آمر اور بعض اپنے آپ کو جمہوری حکمران تو کہتے ہیں پر ان کے لچھن بھی بادشاہوں سے مختلف نہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ یہ جو انہوں نے اربوں کھربوں روپے مغرب یا مشرق وسطیٰ کے بینکوں میں رکھے ہیں یہ کہاں سے آئے البتہ کرنل قذافی‘حسنی مبارک وغیرہ کو تو اپنے کئے کی سزا مل گئی پر ان کے ہم عصر درجنوں اسی قسم اور قماش کے حکمران اب تک نہ خدا کی پکڑ میں آئے ہیں اور نہ اس دنیا کے قانون کے ۔یہ مشرق وسطیٰ میں تیل اور دوسری معدنیات پر جو عرب حکمران اللے تللے کررہے ہیں یہ کس کھاتے میں کررہے ہیں کیونکہ اسلام تو ایک فرد کو یا اس کے قائدین کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ زمین سے نکلنے والی معدنیات پر وہ خود قابض ہوجائیں اور ریاست کے باشندوں کو صفر میں ضرب دے دیں جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے اسلامی فقہ میں ایک قانون ہے کہ جسے قانون تحدید یعنی limitation کہتے ہیں اور اس قانون کے تحت ریاست ملکیت کی حد بھی مقرر کرسکتی ہے کہ جاؤ بھئی کوئی فیڈرل لارڈ25ایکڑسے زیادہ نہری زمین اپنے پاس نہیں رکھ سکتا ریاست لوگوں کی زمین پر قبضہ بھی کرسکتی ہے اگر ریاست محسوس کرے کہ دولت کا بے تحاشہ استعمال عام افراد کی نفسیات پر منفی اثرات ڈال رہا ہے تو ریاست اس صورت میں بھی اس دولت پر قبضہ کرسکتی ہے اسلامی فقہ میں ایک قانون حجر بھی ہے آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو اس وقت اپنا مال بھی خرچ کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔

جب سوسائٹی کو نقصان ہورہا ہو اسلامی فقہ میں ایک لفظ کا استعمال ہوتا ہے کہ جسے سفہ کہا جاتا ہے اس کا مطلب ہے ’مالی فساد‘ اگر سرمایہ دارتبذیر اتر آئیں تو ان پر حجر کیا جاسکتا ہے۔ باالفاظ دیگر انہیں اپنا مال بھی خرچ کرنے سے منع کیا جاسکتا ہے اسلامی فقہ میں اپنے مال کو غلط استعمال کرنے والے کو سفیہ اور مفسد کہا جاتا ہے اور ان کی خرید وفروخت اور انتقال ملکیت کے حق پر پابندی لگ سکتی ہے یہ جو معاشرے میں مالی فساد برپا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر سو عدم مساوات پھیلی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ کمیونزم اور سوشلز م جیسی لادینی تحریکیں اور نظریات اس ملک میں بھی پنپتے رہے ہیں اور اگر ہم نے اسلامی نظام معیشت کو اپنے ہاں من وعن نافذ نہ کیا تو موجودہ مالی فساد تشدد کی راہ پر بھی گامزن ہوسکتا ہے اس ملک میں ’مالی فساد‘ صرف اس روز ختم ہوگا کہ جب اسکے حکمرانوں نے سرکاری پیسوں پر مزے اڑانے چھوڑ دیئے ان ممالک کے حکمرانوں کو کہ جنہیں ہم غیر مذہب دہریے یااغیار کے نام سے پکارتے ہیں۔

انہوں نے وہ تمام صفات اپنالی ہیں کہ جو ہم میں ہونی چاہئیں تھیں بقول کسے اگر وہ کلمہ پڑھ لیں اور ایک خدا اور رسول اور قرآن پاک پر یقین کرلیں تو ان سے پھر اچھا کوئی مسلمان نہیں ہوگا بڑے بڑے محل نما رہائش گاہوں میں وہ نہیں رہتے غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں تو خصوصی چارٹرڈ‘جہازوں کے بجائے وہ عام کمرشل فلائٹ میں جاتے ہیں الیکشنوں میں وہ دھاندلی کے مرتکب نہیں ہوتے اپنے عہدوں اور مناصب کے بل بوتے پر وہ اپنی ذاتی تجارت نہیں بڑھاتے چالیس برس سے زیادہ کاسٹرو کیوبا کا حکمران رہا ایک لمبے عرصے تک ہن چن می شمالی ویت نام کا بے تاج بادشاہ رہا 30برس سے زیادہ ماوزئے تنگ اور چو این لائی چین کے بالترتیب صدر اور وزیراعظم رہے پانچ برس سے زیادہ نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کا حاکم رہا دس برس سے زیادہ جولیس نیارارئے تنزانیہ کا صدر رہا کیا آپ نے کبھی سنا یا کہیں پڑھا کہ انہوں نے اپنے پیچھے اپنی اولاد کیلئے لمبی چوڑی پراپرٹی چھوڑی ۔