بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / پیدائشی نقائص اور صحت انصاف کارڈ

پیدائشی نقائص اور صحت انصاف کارڈ


احسن کی عمر محض پانچ برس تھی لیکن وہ ابھی سے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے ڈرنے لگا تھا اسکے ماں باپ بڑی مشکل سے اسے میرے پاس لیکر آئے تھے اور میرے کلینک میں بھی وہ متوحش نظروں سے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا اسکی پیشاب کی نالی میں پیدائشی نقص تھا جسے ہائپوسپیڈیاس کہا جاتا ہے احسن جائز طور پر ہسپتالوں سے ڈر رہا تھا کیونکہ اب تک اسکے چار آپریشن ہوچکے تھے لیکن ابھی بھی اسکا نقص نکل نہیں پایا تھا ہمارا سنٹر اس وقت دنیا بھر میں ہائپوسپیڈیاس کے علاج کیلئے مشہور ہے اور ہر سال چند مریض بیرون ملک سے آکر ہمارے ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں اسلئے میرے اپنے دوست ڈاکٹر بھی اس پیچیدہ نقص کیلئے مریض میرے پاس ہی بھجواتے ہیں یہ ہسپتال گوکہ پرائیویٹ سنٹرمیں ہے جہاں مریض کا مفت علاج مشکل ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود میری کوشش ہوتی ہے کہ صرف پیسے کی وجہ سے کسی کا علاج رہنے نہ پائے۔ احسن کے والدین بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے احسن کا ایک بھائی بھی اس نقص کیساتھ پیدا ہوا تھا لیکن احسن کے ناکام علاج کے سبب اسکے والدین نے دوسرے بھائی کونظر انداز کیا ہواتھا بلکہ یوں کہئے کہ اس انتظار میں تھے کہ ایک بھائی کا آپریشن کامیاب ہوجائے تو پھر چھوٹے کے بارے میں بھی سوچیں اس نقص کا علاج دو تین آپریشنوں میں مرحلہ وار ہوتا ہے۔

اس لئے یوں بھی نہیں کہ بس ایک آپریشن کیلئے رقم جمع کی جائے یعنی چھ ماہ کے دوران کم از کم دو آپریشنوں کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے انہی دنوں ہماری صوبائی حکومت نے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کردیا اس وقت اس کارڈ کے ذریعے آبادی کا پچاس فیصد حصہ حکومت کی طرف سے صحت کی انشورنس کے چھاتے تلے محفوظ ہے اور انشورنس کمپنی مریض کا علاج سرکاری ہسپتالوں کیساتھ ساتھ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی کروانے کی فیس بھرتی ہے احسن کے والدین نے اپنی مالی مشکلات کا ذکر کیا تو مجھے یاد آیا کہ ہمارا ہسپتال بھی انشورنس کمپنی کے پینل پر ہے اسلئے میں نے اپنی سیکرٹری سے مدد مانگی کہ احسن کا علاج بھی اگر صحت انصاف کارڈ کے ذریعے ہوجائے تو والدین پر کوئی بوجھ نہیں بنے گا تاہم انشورنس کمپنی سے مشورہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کارڈ میں پیدائشی نقائص کا علاج شامل نہیں ہے۔

صحت اور علاج معالجے کیلئے انشورنس کروانا کوئی نئی بات نہیں مہذب ممالک میں تمام آبادی کو علاج معالجے کی سہولت انشورنس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے امریکہ کے علاوہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں ہر شہری خود بخود ہیلتھ انشورنس کے کَور میں شامل ہوتا ہے تاہم امریکہ میں پرائیویٹ انشورنس سب سے زیادہ آبادی کو علاج معالجے کی فراہمی کا ذریعہ ہے پرائیویٹ انشورنس مہنگی ہوتی ہے اور ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی تاہم زیادہ تر ملازم پیشہ لوگوں کو اپنی کمپنی کی طرف سے تنخواہ کیساتھ ساتھ ہیلتھ انشورنس شامل ہوتی ہے اوباما کے دور میں اوباما کیئر کے نام سے نادار اور بے روزگار افراد کیلئے حکومت کی طرف سے ایک انشورنس کا اعلان کردیا گیا تھا اور اسے عوام نے کافی پذیرائی بخشی تھی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ،جو فی الحال سرمایہ دارانہ نظام کا ایک بدترین نمونہ ہے اسے ختم کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ ہیلتھ انشورنس میں حکومت اپنی ذمہ داری فی خاندان کے طور پر انشورنس کمپنی کے حوالے کردیتی ہے اب انشورنس کمپنی کو فائدہ اس میں ہوتا ہے جب پورا خاندان صحت مند ہی رہے اور اسے کسی علاج کی ضرورت نہ پڑے اسے تو خاندان کے حساب سے رقم برابر ملتی رہتی ہے خواہ وہ خاندان بیمار ہو یا بالکل صحت مند۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر کمپنی یا کارپوریشن اپنے حصہ داروں کو منافع تقسیم کرنے کی پابند ہوتی ہے اسلئے ہر بیمہ کمپنی کوشش کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بیمہ شدہ افراد کا علاج کسی بہانے سے روک دے اس لئے بیمہ پالیسی کے معاہدے میں باریک خط میں ایسے شرائط لاگو ہوتے ہیں ۔

جو کمپنی کو علاج کروانے سے انکار کی اجازت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پرنائن الیون کے حملے کے بعد کئی بیمہ پالیسیوں میں دہشت گردی سے ہونیوالے زخموں یا نقصان کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا گیا۔ پلاسٹک سرجری ایک ایسا شعبہ ہے جو بدن کو پہنچنے والے نقصان کی دوبارہ تعمیر یا Reconstrucion میں اہمیت رکھتا ہے یہ نقصان پیدائشی نقص بھی ہوسکتا ہے اور بعد میں ہونے والے حادثے، کینسر یا سرجری سے بھی پیدا ہوسکتا ہے اس میں عمر کیساتھ ساتھ جو توڑ پھوڑ ہوتی ہے اسکی دوبارہ تعمیر بھی شامل ہے اس آخرالذکر حصے کو کاسمیٹک سرجری کہا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے عام تاثر یہ ہے کہ پوری پلاسٹک سرجری ہی محض کاسمیٹک سرجری ہے یوں جب کسی بھی انشورنس کمپنی کے پاس کسی پلاسٹک سرجن کی تجویز کردہ سرجری آجاتی ہے تو دیکھے بغیر کہ کس قسم کی سرجری ہے مریض کو انکار کیا جاتا ہے کہ ’آپ کے بیمے میں کاسمیٹک سرجری شامل نہیں ہے‘۔

بیمہ کمپنی کے ڈاکٹر اور ہمارے درمیان کئی حصوں پر مشتمل خط و کتابت کے بعد ہی کہیں بیمہ کمپنی اس علاج کیلئے تیار ہوجاتی ہے۔ پلاسٹک سرجری کیساتھ درپیش مشکلات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، بچوں کے پیدائشی نقائص والدین پر بے تحاشا بوجھ بنتے ہیں ان میں سے کئی ایسے نقائص بھی ہوتے ہیں جو کھانے پینے یا پیشاب کرنے میں تکلیف کا باعث بنتے ہیں اس لئے صوبائی حکومت سے التماس ہے کہ صحت انصاف کارڈ میں پیدائشی نقائص کا علاج شامل کیا جائے اور ان کیساتھ اس قسم کا امتیازی سلوک نہ کیا جائے یہ شق بیمہ کمپنی کے ساتھ معاہدے میں شامل کی جائے کہ بچوں کے پیدائشی نقائص کا علاج بھی بیمہ کمپنی کی ذمہ داری ہے یہی بچے بڑے ہوکر ہمارے لیڈر، افسر اور معاشرے کے ارکان بنیں گے ان کو زندگی بھر معذوری سے بچایا جاسکتا ہے اور صحت انصاف کارڈ ایک صحت مند معاشرے کے قیام میں مدد دے سکتا ہے دوسری طرف خیر سے صحت انصاف کارڈ کی ساری ذمہ داری سٹیٹ لائف انشورنس کو دی گئی ہے یہ ادارہ بھی پوری طرح سرکاری نہ صحیح لیکن اس میں عوام کے ٹیکسوں کی رقم شامل ہے اسلئے اس کے ذمہ داروں سے بھی درخواست ہے کہ وہ معمولی معمولی بہانوں سے مریضوں کو انکار نہ کیا کریں۔