بریکنگ نیوز
Home / کالم / امن وسلامتی: پاکستان کا جاری سفر!

امن وسلامتی: پاکستان کا جاری سفر!


قیام امن کیلئے نئے عزم سے فوجی کاروائیاں ’ردالفساد‘ کے تحت ملک گیر سطح پر جاری ہیں اور اسی دوران صوابی میں دہشت گردوں کیساتھ ہونے والی سکیورٹی فورسز کی جھڑپ کے نتیجہ میں اہلکاروں کی شہادت اس بھاری قیمت کا حصہ ہے جو پاکستان چکا رہا ہے سکیورٹی فورسز دہشت گردی کیخلاف لڑ رہی ہیں جو دشمنوں کو انکے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دینگی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک آپریشن ردالفساد جاری رہے گا یہ درست ہے کہ سانحہ ’اے پی ایس‘ پشاور کے بعد سول اور عسکری قیادتوں کے اتفاق رائے سے شروع کئے گئے ضرب عضب اور گزشتہ ماہ فروری میں لاہور اور سیہون شریف کی دہشت گردی کی بدترین وارداتوں کی بنیاد پر شروع کئے گئے آپریشن ردالفساد سے سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کیخلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ضرب عضب کا آغاز شمالی وزیرستان میں ہوا جہاں دہشت گردوں کو انکے محفوظ ٹھکانوں اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر سمیت نیست و نابود کیا گیا سکیورٹی فورسز کی ان کامیابیوں کی تفصیلات وقتاً فوقتاً ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی جاتی رہی ہیں دہشت گردوں کا نیٹ ورک مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں میں بھی ضرب عضب کا دائرہ کار بڑھادیا گیا اور وسطی اور جنوبی پنجاب تک دہشت گردوں کا پیچھا کیا گیا پھر بھی دہشت گردوں نے اپنی ٹوٹی ہوئی کمر کیساتھ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا عمل جاری رکھا چنانچہ ضرب عضب کے دوران ہی قبائلی علاقوں کے علاوہ گلشن پارک لاہور میں بھی بدترین واردات ہوئی اور پھر گزشتہ ماہ چیئرنگ کراس لاہور کے خودکش حملے نے تو سکیورٹی فورسز کیلئے بھی کئی سوالات کھڑے کردیئے جس میں سولہ افراد کی شہادتیں ہوئیں!

سکیورٹی فورسز نے اس سفاکانہ دہشت گردی کو بطور چیلنج قبول کیا اور ملک بھر میں ’’ردالفساد‘‘ نامی فوجی کاروائی کا آغاز کردیا گیا جبکہ ضرب عضب کے ماتحت ملک بھر میں کومبنگ اور سرچ آپریشنز کا سلسلہ الگ سے جاری ہے تاہم دہشت گردوں کی جانب سے سیہون شریف میں مزار سخی لال شہباز قلندرؒ پر دھمال ڈالنے والے معصوم انسانوں بشمول خواتین اور بچوں کے جسموں کے خودکش حملہ کے ذریعے چیتھڑے اڑا کر سکیورٹی فورسز کو ایک نیا چیلنج دے دیا گیا اس چیلنج کو قبول کرکے سکیورٹی فورسز نے ردالفساد میں دہشت گردوں کی گردنیں ناپنے کے عمل میں اب تک دو سو سے زائد دہشت گردوں بشمول اہم کمانڈروں کو ٹھکانے لگایا ہے جبکہ اب تک سینکڑوں مشکوک افراد حراست میں لئے جاچکے ہیں اس دوران سکیورٹی فورسزنے سب سے اہم کامیابی افغانستان کے اندر جا کر سفاک دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کی صورت میں حاصل کی جس پر اشرف غنی کی افغان حکومت چیں بجبیں بھی ہوئی اور پاکستان کیلئے دھمکی آمیز لہجہ بھی اختیار کیا جبکہ ردالفساد سے دہشت گردی کے روٹ کاز سے متعلق دستیاب ہونیوالے شواہد نے دہشتگردوں کے افغانستان سے آنے اور افغانستان ہی سے انہیں کمک اور ہدایات ملنے کی تصدیق کی ہے اس تناظر میں دہشت گردی سے مستقل خلاصی کابل انتظامیہ کے تعاون کے بغیر ممکن نظر نہیں آتی مگر کابل انتظامیہ کا رویہ کسی بھی صورت دوستانہ نہیں جسکی جانب سے نہ صرف افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف ہماری سکیورٹی فورسز کی کاروائی پر بلکہ پاک افغان سرحد بند کرنے پر بھی رعونت بھرے لہجے میں سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے بھی جاری ہیں جو کابل انتظامیہ کی آشیرباد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتے۔

ٹرمپ انتظامیہ بھی پاک افغان موجودہ کشیدہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرچکی ہے تاہم جب تک کابل انتظامیہ کو بھارت کی شہ والی چھتری سے باہر نہیں نکالا جاتا اور کابل انتظامیہ کو خطے کے امن کی خاطر پاکستان کیساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کی مشترکہ حکمت عملی طے کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاتااس وقت تک نہ افغان سرزمین دہشت گردی سے محفوظ رہے گی اور نہ ہی پاکستان میں دہشت گردوں کی سفاک کاروائیاں روکی جا سکیں گی۔ اس معاملہ میں بہرصورت امریکہ کا کردار زیادہ اہم ہے۔ افغانستان میں بھی امریکی افواج موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے دہشتگردوں کو افغانستان کے اندر سے پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملوں کی جرأت ہو رہی ہے تو امریکہ کو پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا افغانستان میں قیام امن امریکہ کے اہداف کا بھی حصہ ہے‘ جس کی بہرصورت تکمیل ہونی چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر رفعت حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)