بریکنگ نیوز
Home / کالم / مشرقی عورت

مشرقی عورت


ہماری یہ عادت بن چکی ہے کہ جو کچھ بھی مغرب کی جانب سے آتا ہے وہ ہمارے لئے فرض عین بن جاتا ہے ہمیں اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ آخر مغرب میں جو دن منائے جاتے ہیں وہ ہمارے لئے منانے کیوں ضروری ہیں مغرب میں اور ہمارے ہاں کی روایات اور رہن سہن میں بعد المشرقین ہے ہمیں جو باتیں مغرب سے سکھائی جاتی ہیں اس سے ہزار گنا زیاد ہ عمدگی خود ہمارے مذہب میں ہے افسوس کہ ہم اپنے مذہب کی خوبصورتی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے دوسروں کی نظروں سے دیکھتے ہیں مغرب میں جس طرح ہمارے دین کو دیکھا جاتا ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو اصل دین ہے اسی طرح ہمارے علما ء جس طرح مذہب کو فرقوں میں بانٹ کر دکھاتے ہیں مذہب اس سے بھی مختلف ہے مثال کے طور پر مغرب ایک فادر ڈے مناتا ہے ہم نے بھی اس کی دیکھا دیکھی یہ دن منانا شروع کر رکھا ہے جبکہ ہمارے مذہب نے تو ہمارے لئے ایک دن نہیں ہر دن والد اور والدہ کا دن بنایا ہے ہمیں تو حکم ہے کہ اپنے والدین کو اس طرح پاؤ کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں تو انکے سامنے اف تک نہ کہو ان کیلئے دعا کرو کہ اے اللہ ان پر اسی طرح رحم فرما جسطرح یہ مجھ پر میرے بچپن میں رحم فرماتے تھے مغرب میں تو یہ دن اسلئے مقرر کئے اور مناتے ہیں کہ ان کے والدین اولڈ ایج ہومز میں ڈال دےئے جاتے ہیں جہاں وہ اپنی اولاد کو دیکھنے کو بھی ترستے ہیں مغرب نے تو عورت کو( پوشیدہ چیز) رہنے ہی نہیں دیا ان کے ہاں تو عورت ایک اشتہار ہے جسکو آپ اپنے ہر پراڈکٹ کی مشہوری کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔

آپ نے کپڑے بیچنے ہیں تو عورت کی ضرورت ہے آپ نے صابن بیچنا ہے تو عورت کی ضرورت ہے آپ نے شیمپو بیچنا ہے تو عورت کی ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں کی عورت کیا چاہتی ہے یہ مجھے میل موصول ہوئی ہے جو میں آپ کے لئے شیئر کر رہا ہوںیہ ایک خاتون کی جانب سے ہے وہ کہتی ہے مجھے اچھا لگتا ہے مرد سے مقابلہ نہ کرناا وراس سے ایک درجہ پیچھے رہنا۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب کہیں باہر جاتے ہوئے مجھے کہتا ہے ’’رکو میں تمہیں لے جاتا ہوں یا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھ سے ایک قدم آگے چلتا ہے غیر محفوظ اور خطرناک رستے پر اسکے پیچھے پیچھے اس کے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے اس نے میرے خیال سے قدرے ہموار رستے کا انتخاب کیا ہے۔مجھے اچھا لگتا ہے جب گہرائی سے اوپر چڑھتے ہوئے اور اونچائی سے ڈھلان کی طرف جاتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر مجھے چڑھنے یا اترنے میں مدد دینے کیلئے بار بار اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب کسی سفر پر جاتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے سامان کا سارا بوجھ وہ اپنے دونوں ہاتھوںیا سر پر بغیر کہے اٹھا لیتا ہے ۔

اس کا یہ کہنا کہ ’’ چھوڑ دو یہ میرا کام ہے ‘‘ مجھے اچھا لگتا ہے جب میری وجہ سے شدید موسم میں سواری کے انتظار میں نسبتاً سایہ دار اور محفوظ جگہ کا انتخاب کرتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے ضرورت کی ہر چیز بغیر کہے لا دیتا ہے مجھے اچھا بہت اچھا لگتا ہے جب رات کی خنکی میں میرے ساتھ آسمان کے تارے گنتے ہوئے وہ میرے شانوں پر اپنا کوٹ ڈال دیتا ہے کہ مجھے ٹھنڈ نہ لگ جائے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے غیر کی نظروں سے محفوظ رکھنے کیلئے نصیحت کرتا ہے اور اپناحق جتاتے ہوئے کہتا ہے ’’ تم صرف میری ہو‘‘لیکن افسوس کہ اکثر لڑکیاں ان خوشگوار احساسات کو محض مرد کی برابری کرنے کی وجہ سے کھو دیتی ہیں۔مقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف احساسات کے لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجئے کیونکہ جب مرد یہ مان لیتا ہے کہ عورت اس سے کم نہیں تو وہ مدد کیلئے ہاتھ بڑھانا چھوڑ دیتا ہے۔