بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مسلم ممالک کے اختلافات کو دشمن امت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے،مولانافضل الرحمان

مسلم ممالک کے اختلافات کو دشمن امت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے،مولانافضل الرحمان


اسلام آباد۔جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ مسلم ممالک کے باہمی اختلافات کو دشمن امت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔ انہوں نے پاکستان کی دینی جماعتوں کی طرف سے مسلم ممالک میں دوریاں کم کرنے کیلئے خدمات پیش کردی ہیں ۔ پشاور میں 8-9اپریل کو صد سالہ عالمی اجتماع میں چالیس لاکھ افراد شریک ہوں گے اور پاکستان کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ پوری دنیا کیلئے امت کی طرف سے وحدت کا بہت بڑا پیغام جائے گا۔ مسلم ممالک کے سفیر خود اس کا مشاہدہ کرسکیں گے ۔وہ گزشتہ شب اسلام آباد میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی طرف سے مسلم ممالک کے سفیروں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کررہے تھے ۔

مولانافضل الرحمان نے تمام مسلم ممالک کے سفیر وں کو اپریل میں جمعیت علماء اسلام ف کے ساتھ سدسالہ اجتماع میں شرکت کی دعوت دے دی ۔ تقریب میں سعودی عرب ، ترکی ،مصر،ایران ،ملائشیاء ، انڈونیشیاء ،افغانستان ،بنگلہ دیش ، مالدیپ ، ملائشیاء ، مراکش ، عمان ، لبنان ،برونائی ،سوڈان ، صومالیہ ، ترکمانستان ، ازبکستان ، یمن ،الجزائر آزبائی جان اور بوستیاں سمیت 32ممالک کے سفیروں نے شرکت کی ۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے پاکستان میں دینی جماعتوں کی پارلیمانی وسیاسی جدوجہد سے مسلم ممالک کو آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان کی دینی جماعتیں ہر قسم کی دہشتگردی اور تشدد کی مذمت کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر تین بار خود کش حملے ہوچکے ہیں ۔ ہم امت کے اتحاد کے داعی ہیں ۔ اس موقع پر مولانافضل الرحما ن نے تمام سفیروں کو مسلم ممالک میں قریبی روابط کیلئے دینی جماعتوں کی خدمات پیش کیں اور کہا کہ امت مسلمہ کے باہمی اختلافات کے دشمن عالم اسلام کو کمزور کرنے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔

ہم امت انسانیت ،اور انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری جدوجہد کا بنیادی مقصد امت مسلمہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو یکجہا کرناہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک تشکیل پائے اور ہر شعبے میں قریبی تعاون ہو امت مسلمہ کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنا چاہتے ہیں اسلام دشمن قوتیں امت مسلمہ میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں اور اگر اس آگ کی شدت بڑھ گئی تو اس بھجانا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں 8-9اپریل کو صد سالہ عالمی اجتماع میں چالیس لاکھ افراد شریک ہوں گے اور پاکستان کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ پوری دنیا کیلئے امت کی طرف سے وحدت کا بہت بڑا پیغام جائے گا۔ مسلم ممالک کے سفیر خود اس کا مشاہدہ کرسکیں گے ۔