بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کویت نے پاکستان میں پائپ لائن کی تعمیر کیلئے رضا مندی ظاہر کر دی

کویت نے پاکستان میں پائپ لائن کی تعمیر کیلئے رضا مندی ظاہر کر دی


کویت نے کراچی سے پنجاب تک پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کیلئے وائٹ آئل پائپ لائن کی تعمیر پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے پررضامندی ظاہر کر دی ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کویت کے حالیہ دورے کے دوران پاکستانی حکام نے کویت کو بلوچستان میں آئل ریفائنری لگانے اور تیل کی پائپ لائن بچھانے کی دعوت دی جس کاجواب بہت مثبت تھا اور اب کویت کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان آکر ان دونوں منصوبوں پر مذاکرات کریگا ۔
روائتی طور پر کویت پاکستان کو تیل فراہم کرنے والا بڑا سپلائر رہا ہے جبکہ اس وقت سفید تیل کی پائپ لائن پاک عرب پائپ لائن کمپنی لمیٹڈ (پیپکو ) چلا رہا ہے ۔ پائپ لائن پاکستان کے وسطی علاقوں سے ڈیزل لیتا ہے جوملک میں پٹرولیم کے مجموعی استعمال کا تقریباُُ60فیصد بنتا ہے ۔
کراچی سے ملک کے دیگر علاقوں میں تیل کی نقل و حمل کا ایک دوسرا ذریعہ ٹینکر ز ہیں مگر ان سے تیل چوری کر لیا جاتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے ہر سال کم و بیش 200ملین ڈالر کا تین چوری ہوتا ہے ۔
سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ سفید تیل کی دوسری پائپ لائن کی تعمیر سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ اس سے تیل کی محفوظ سپلائی بھی ممکن ہو سکے گی ۔”پاکستان اور کویت پہلے ہی بلوچستان میں آئل ریفائنزی قائمکرنے پر کام کر رہے ہیں اور حالیہ ملاقاتوں کے دوران عرب ملک نے پاکستان میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے آئل ریفائنری کی تعمیر کی اہمیت پر اتفاق کیا جس کے بعد پاکستان نے بلوچستان کے ساحلی علاقے میں ریفائنری منصوبے کے قیام کے حوالے سے کویت پٹرولیم کارپوریشن کو کام شروع کر نے کی اجازت دیدی ہے ۔
اس کے علاوہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بولی کا سہارا لیے بغیر کویت سے فرنس آئل اور طیاروں کا ایندھن درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے کیونکہ اس وقت پی ایس او 90روز کے ادھار پر خلیجی عرب ریاست سے ڈیزل درآمد کر رہا ہے ۔
2000ءسے قبل پاکستان نے کویت کی حکومت سے طویل مدتی معاہدے کے تحت ڈیزل خریدا تھا مگر مارکیٹ کے اتار چڑھاﺅ کے بعد پاکستان نے پی ایس او کو کویت پٹرولیم کیساتھ تیل کی سپلائی کے معاہدے میں شامل ہونے کا کہا جس کے فوری بعد دونوں فریقین نے حکومت پاکستان کی جانب سے ادائیگی کی گارنٹی دینے پر ہائی سپیڈ ڈیزل کی خریدوفروخت کا معاہدہ کیا ۔
اس سے قبل بھی کویت پٹرولیم نے بلوچستان کے ساحلی علاقے میں آئل ریفائنری لگانے اور فرنس آئل اور طیاروں کا ایندھن برآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی ۔ اس وقت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی سالانہ طلب
.تقریباُُ2کروڑ30لاکھ سے زائد ہے جو 2020ءتک بڑھ کر 2کروڑ 70لاکھ تک پہنچ جائے گی
اس مجموعی طلب میں سے 1کروڑ ٹن جو 44فیصد بنتی ہے مقامی ریفائنزیز سے حاصل کی جا رہی ہے جبکہ 1کروڑ 30لاکھ ٹن برآمد کیا جارہا ہے جو 56فیصد بنتا ہے ۔