بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر حفیظ / تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی کیساتھ میری پہلی ملاقات انکے دولت کدے پر ہوئی جہاں میرے علاوہ سینکڑوں لوگ آئے ہوئے تھے پہلی ہی ملاقات نے مجھے انکا گرویدہ بنادیا حضرت شیخ سے دوسری ملاقات راولپنڈی میں میرے بہت ہی عزیز دوست کرنل عبدالرب کی وساطت سے ہوئی اسی ملاقات میں مجھے ان سے درخواست کرنے کا موقع ملا کہ وہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی تشریف لاکر ہمارے اساتذہ اور طلبا کو شرف ملاقات بخشیں انہوں نے میری درخواست قبول کرلی خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں ایسی تقریب شاید پہلے کبھی نہ ہوئی ہو مقررہ تاریخ کو لوگوں کی اتنی زیادہ تعداد اس بابرکت تقریب میں شرکت کیلئے پہنچی کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہورہا تھا معزز مہمان خصوصی مقررہ وقت پر پہنچے یونیورسٹی گیٹ سے اپنے محافظوں کو واپس کردیاکیونکہ وہ یونیورسٹی کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے کے روادار نہیں تھے انہوں نے کے ایم یو آکر تین قابل تقلید مثالیں قائم کیں پہلی مثال ہماری دعوت بلاتامل قبول کرنا تھا دوسری مثال مقررہ وقت پر یونیورسٹی پہنچنا اور تیسری مثال یونیورسٹی کے ڈسپلن کا خیال رکھنا تھا حضرت شیخ نے ایک گھنٹہ یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبا اور دیگر مہمانوں سے خطاب کیا میں اپنی یادداشت کے مطابق انکے خطاب کو پیشگی معذرت کے ساتھ پیش کرنیکی جسارت کرونگا کہ اس میں کوئی بھول چوک ہوئی۔

ہو حضرت شیخ نے اپنے خطاب میں سب سے زیادہ تزکیہ نفس پر زور دیاجسکے معنی انسان کی روحانی صفائی ہے سرکار دوعالمؐ کا بھی یہی ارشاد ہے کہ قرآنی آیات کی تلاوت کے ذریعے اپنے نفس کو پاک کرو۔کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے نفس کی صفائی پر بھی توجہ دے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کچھ چیزوں کو دیگر پر مقدم سمجھتے ہیں اور انہیں پہلے نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں زندگی میں ترجیحات کا تعین اور اسکے مطابق اپنی معمولات ترتیب دینا بہت اچھی بات ہے لیکن اپنی روزمرہ معمولات اور اہم امور نمٹانے کے ساتھ ہمیں خود کو اچھا انسان اور بہتر مسلمان بنانے پر بھی توجہ دینی چاہئے ہمیں اچھا ڈاکٹر اور انجینئر بننے کیساتھ بہتر انسان بھی بننا ہے جس طرح ہسپتال میں مریض کی ہسٹری لی جاتی ہے اسی طرح انسان کی ہسٹری لینے کا کام قبر سے شروع ہوتا ہے وہاں تعینات فرشتے انسان سے تین سوال کرتے ہیں کہ تمہارا پروردگار کون ہے؟ تمہارا نبی کون ہے؟ اور تمہارا دین کیا ہے؟ سوال و جواب کے بعد قبر سکڑ جاتی ہے۔ وحدانیت پر یقین نہ رکھنے والے قبر سکڑنے کے موقع پر کچلے جاتے ہیں روز محشر ہسپتال کی طرح لوگوں کی تفصیلی ہسٹری لی جاتی ہے ان سے چار بنیادی سوالات کئے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندگی عطا کی تھی اسے تم نے کیسے گزارا تم نے اپنی جوانی کن کاموں میں صرف کی تم نے کیسے کمایا اور اسے کہاں اور کیسے خرچ کیا تم نے اپنے علم کو کس حد تک عمل کا جامہ پہنایا ان سوالوں کا جواب اس شخص کے اگلے مقام کا تعین کرے گا بے نمازی کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکر دھکادیا جائے گا وہ لڑھکتا ہوا نیچے آئے گا تو پورا جسم گھس جائے گا فرشتہ پوچھے گا کہ میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں سزا بھگتنے والا کہے گا کہ سخت بھوک اورپیاس لگی ہے فرشتہ اسے زقوم کے کانٹوں سے بھری خوراک دے گا۔

جسے وہ اگل سکے گا اور نہ ہی نگل پائے گا پینے کے لئے اسے گندے خون اور پیپ کی طرح کی بدبودار چیز دی جائے گی جسے حلق سے نیچے اتارتے ہی اسے شدید جلن کا احساس ہونے لگے گا پھر اسے پہلے والی حالت میں لایاجائے گا پھر اسے دوبارہ وہی سزائیں دی جائیں گی جن لوگوں نے زندگی میں زکوٰۃ نہیں دی ہوگی اور حرام کھایا ہوگا ان کا چہرہ تپتی ہوئی سرخ دھات سے جلایا جائے گا دوسروں میں عیب ڈھونڈنے والوں کو آتشی ستون کیساتھ باندھا جائے گا آگ کی تپش ان کے پورے بدن میں پھیل جائے گی اور ان کے دل پر جیسے خنجر چل رہے ہوں گے اس سزا کا مقصد ان لوگوں کو کسی کا دل دکھانے کی سزا دینا ہوگا کیونکہ دل ہی تو زندگی ہے جب وہ دکھتا ہے تو پوری زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ زناکار کو ایک تاریک غار میں دھکیل کر غار کے دہانے کو بڑے پتھروں سے بند کیا جائے گا اور غار کے اندر لاکھوں زہریلے بچھو اسے کاٹیں گے اور اس کے انگ انگ میں درد ہوگا جس طرح ہسپتال میں مریضوں کے بدن سے مرض کے جراثیم ختم کئے جاتے ہیں اسی طرح گنہگار کے جسم سے گناہ کے اثرات ختم کرنے کے بعد اسے جنت میں داخل کیا جائیگا جنت ہی ہماری اصل جگہ ہے جو ہمیں حضرت آدم علیہ السلام سے میراث میں ملی ہے وہی ہمارا آخری ٹھکانہ ہے جنت چونکہ پاک مقام ہے جہاں گناہگاروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں اسلئے ان کے تمام گناہ آگ میں دھو کر انہیں پاک کرنے کے بعد جنت میں داخل کیا جائے گا۔

جبکہ صالح اور نیک لوگ میدان حشر سے سیدھے جنت میں بھیجے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کوئی حساب نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں پھر گناہ کریں تو پھر معافی مانگیں ہم شاید گناہ کرتے کرتے تھک جائیں مگر وہ ہمیں معاف کرتے کرتے نہیں تھکتے۔اسلئے انسان کو اللہ سے معافی مانگنا اپنی عادت بنانی چاہئے اگر گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر پشیمان ہوں اور اپنے رب سے درگذر کرنے کی رو رو کر التجا کریں۔ نماز باقاعدگی سے ادا کریں قرآن کریم کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں۔ ذکر کو اپنا شعار بنائیں۔ روزانہ کم از کم سو باراستعفار اور درود شریف پڑھیں۔ ذکرقلبی کیلئے مراقبہ کریں جس سے آپ کو نیکی کرنے کی توفیق عطا ہوگی۔ تہجد گذاری کو اپنی عادت بنائیں جس سے آپ کو برائی سے خود کو روکنے کی قوت پیدا ہوگی حضرت شیخ نے آخر میں دعا کی کہ اے اللہ ہمارے دلوں کو صاف کردے، ہمیں گناہوں سے بچا لے ہمیں اپنی زندگی دین کے مطابق گذارنے کی توفیق عطا فرما۔ تاکہ ہماری آنے والی زندگی ہماری گذری ہوئی زندگی سے بہتر ہو۔