بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وزیر خزانہ کا خطاب اور ارضی حقائق

وزیر خزانہ کا خطاب اور ارضی حقائق


وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار وطن عزیزپر بڑھنے والے قرضوں کے بوجھ سے متعلق خبروں کو بے بنیاد پروپیگنڈا اور افواہیں قرار دیتے ہیں‘40 ہزار روپے مالیت کے پریمیم پرائز بانڈ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ملک کی اقتصادی ریٹنگ بہت بہتر ہو چکی ہے عالمی ماہرین پاکستان کو 2030ء میں دنیا کی 20بڑی معیشتوں میں شمار کر رہے ہیں وزیز خزانہ کے دیئے گئے اعداد و شمار اپنی جگہ درست ہیں حکومت نے واقعی میں معیشت کے استحکام کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں جن کے نتائج آنے والے دنوں میں یقیناًسامنے بھی آئیں گے تاہم اس سب کے باوجود ارضی حقائق سے صرف نظر کی کوئی گنجائش موجود نہیں بیرونی قرضوں کا بوجھ ایک حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ہمارے فنانشنل منیجرزقرضوں کی نئی اقساط منظورہونے پر غم کی بجائے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اسے اپنی اقتصادی پالیسیوں پر عالمی اداروں کا اعتماد قرار دیا جاتا ہے انکار اس حقیقت سے بھی ممکن نہیں کہ حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے تاہم جھٹلایا اس حقیقت کو بھی نہیں جا سکتا کہ اس وقت بھی گردشی قرضوں کا حجم تشویشناک ہے او ر خصوصاً پی ایس او او ر آئی پی پیز کے بقایاجات بد انتظامی کی نشاندہی کرتے ہیں اس سب کے ساتھ اس برسرزمین حقیقت سے انکار ممکن نہیں ۔

کہ تمام تربہتر ہوتے اقتصادی اعشارئیے عام شہری کیلئے ریلیف کا کوئی سامان نہیں کر پا رہے ‘ بجلی ‘ گیس کے بحران کے ساتھ بھاری یوٹیلٹی بل غریب اور متوسط طبقے کے پورے گھریلو بجٹ کو تباہ کر دیتے ہیں اس طبقے کے شہریوں کو مارکیٹ میں انتہائی مہنگائی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے اس شہری کو تعلیم اور علاج جیسی بنیادی ضروریات تک فراہم نہیں حکومت کے پاس پہنچنے والے اعداد وشمار یقیناًدرست ہیں معیشت میں بہتری آ رہی ہے لیکن جہاں تک اس کا تعلق عام آدمی کی ریلیف سے ہے تو اس ضمن میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس سے اقتصادی شعبے کی ترقی فائلوں سے نکل کر زمین پر نظر آئے گی۔
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیا لوجی؟

خیبر پختونخوا میں یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آنیوالی تین حکومتیں پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو آپریشنل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں انگریزی روزنامے کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اس ادارے کیلئے عمارت بھی تیار ہے تاہم حکومت ابھی تک اس کیلئے بورڈ آف گورنر نہ بنا سکی ‘ منصوبے کا آغاز 2005ء میں متحدہ مجلس عمل حکومت نے کیا جو اب تک سروسز فراہم کرنے کے قابل نہ ہو سکا اس ضمن میں عدالت عالیہ بھی حکومت کو بی او جی بنانے کا کہہ چکی ہے ‘ صوبے کی سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ لیڈی ریڈنگ کی ایمر جنسی میں امراض قلب کے آنیوالے مریضوں کو ضروری ادویات دیکر دوسرے ہسپتالوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتاہے ایسا صرف مریضوں کی تعداد میں اضافے اور بیڈز کی کمی کے باعث ہے دل کے مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں تک لے جانا بھی خطرناک ہے کیا ہی بہتر ہو کہ طبی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح قرار دینے والی حکومت ایک دہائی سے زائد مدت پرانے اس پراجیکٹ کو آپریشنل کر دے ایسا اسی صورت ممکن ہے جب وزیراعلیٰ اس مقصد کیلئے ڈیڈ لائن دیں جو زیادہ سے زیادہ جاری مالی سال کے اختتام تک کی ہو ۔