بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / دہشت گردی کیخلافحتمی و یقینی کامیابی کیلئے عالم دین ریاست اور حکومت کا ساتھ دیں،نواز شریف

دہشت گردی کیخلافحتمی و یقینی کامیابی کیلئے عالم دین ریاست اور حکومت کا ساتھ دیں،نواز شریف


لاہور۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی سنگین مسئلہ ہے ،ریاست دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کررہی ہے ،مگر علماء کرام کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ،جہاد کے نام پر بے گناہوں کاخون بہایا جارہا ہے ، ایسے نازک حالات میں علماء کرام دہشت گردی اور جہاد پر فتویٰ دیں، منبر سے معاشرے کی تربیت اور ذہن سازی کی جائے ،علماء کرام کی حمایت سے دہشت گرد جلد انجام تک پہنچ جائیں گے،حالیہ دہشت گردی کے چھوٹے چھوٹے واقعات میں دہشت گردوں کے سہولت کار ملوث ہیں ،ریاستی ادارے ان کو جلد اپنے انجام کو پہنچا دیں گے، ہمیں دہشت گردوں کیخلاف لڑ نے کیلئے متحد ہونا ہو گا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے مفتی محمد حسین نعیمی کا عرس اور اتحاد بین المسلمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق ، مجیب الرحمن شامی،حامد میر ، خلیل الرحمن چشتی ، غلام محمد ، مبشر جاوید ، علامہ نصیر الدین ، مولانا محفوظ الرحمن اور دیگر بھی موجود تھے ۔وزیراعظم نوازشریف نے جامعہ نعیمہ میں آمد ہمیشہ میرے لئے روحانی تجربہ رہی ہے اس ادارے کی فضاء میں عشق مصطفیؐ کی مہک ہے اور یہاں قرآن مجید اورحضورؐ کی روشنی پھیلی ہوئی ہے اور مفتی سرفراز نعیمی جیسے عالموں کی یادیں اس کی فضاء میں موجود ہیں ۔وزیراعظم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے ادارے میں آکر کسی کو روحانی سکون نہ ملے تو پھر کہاں ملے ؟یہاں آنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ معتبر علماء کی زیارت ہوجاتی ہے اوردرد دل کہنے کا موقع بھی ملتا ہے جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ آج پاکستان اور دنیا بھر میں اسلام کے نام پر جس طرح ظلم کا بازار گرم ہے اور اسلام کے نام پر نفرت کو فروغ دیا جارہا ہے اس کا مداوہ علماء کرام کے پاس ہے عام لوگوں کو ان ظالموں سے علماء کرام نے ہی نجات دلانی ہے جس میں جامعہ نعیمہ نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے ۔جامعہ نعیمہ نے ہمیشہ اتحاد کی بات کی ہے اور اس ادارے کے دروازے تمام فرقوں کے لئے کھلے ہیں ۔مفتی سرفراز نعیمی نے مسلمانوں کے اتحاد کے لئے کردار ادا کیا تو ظالموں نے ان کو شہید کردیا ایسے ظالموں کا اسلام سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ؟مفتی سرفراز نعیمی جیسے لوگوں کا خون رائیگاں نہیں جا نے دیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ 2013ء میں عوام نے ہمیں حکومت کے فرائض سونپے تو ہم نے عوام کے جان و مال کی حفاظت کو اولین ترجیح بنایا اور ملک میں قیام امن کے لئے سیاسی قیادت کو متحد کیا جس کے بعد قانون نافذ کرنیوالے ادارے میدان میں نکلے اور عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دے کر دہشت گردوں کی کمر توڑی۔

ہم نے دور حاضر میں دہشت گردوں کے خلاف بہت بڑا معرکہ لڑا ہے اور ان کے ہاتھ ٹوٹ گئے جیسے ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹے تھے ۔وزیراعظم نے کہاکہ چھوٹے چھوٹے واقعات اب بھی ہورہے ہیں جن میں ان کے سہولت کار ملوث ہیں لیکن ریاستی ادارے ان کا پیچھے کررہے ہیں اور وہ بھی جلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے لیکن اصل کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک علماء کرام ایک بیانیہ کے تحت ان دہشت گردوں کیخلاف عوام کی ذہن سازی نہیں کرتے ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لئے دینی دلائل پیش کرتے ہیں اس لئے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے علماء کرام کو سامنے آنا ہو گا تاکہ انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔دہشت گردی سنگین مسئلہ ہے جس کا ایک مظہر فرقہ واریت اور دوسرا جہاد ہے ، جہاد کے معنی کو غلط رنگ دے کر بے گناہوں کاخون بہایا جارہا ہے،وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کرنے کیلئے دینی دلائل استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں ہمیں مسترد کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف حتمی اور یقینی کامیابی کے لیے علمائے کرام کا ساتھ ضروری ہے، عالم دین ریاست اور حکومت کا ساتھ دیں،انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی اور جہاد 2 الگ چیزیں ہیں، مگر انتہاپسندوں نے جہاد کے نظریئے اور بیان کو مسخ کرکے دہشت گردی میں بدل دیا، پھر مسلمانوں کی تفریق کرنے کے بعد جہاد کے نام پر قتل کو جائز قرار دیا گیا، آج اس نظریے اور اس بیان کو غلط ثابت کرنے اور اسے مسترد کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ کام عالم دین ہی کر سکتے ہیں ۔

اور ایسے نازک حالات میں ضرورت ہے کہ اس حوالے سے واضح بیانیہ جاری اور فتویٰ دیا جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ یہ کام آسان نہیں مرحوم مولانا حسن جان اور سرفراز نعیمی نے ان جیسے لوگوں کو چیلنج کیا اور امن کے لئے آواز اٹھائی تو ان کو شہید کردیا گیا لیکن ان کے شاگرداپنے پیروں کے راستے پر چلنے والے ہیں وہ اپنے راستے سے ہٹیں گے نہیں ، ہمیں ہمارے اسلاف کا بیانیہ یعنی امن کا بیانیہ دینا ہو گا ، امن و سلامتی اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا اور یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس بیانیہ کو عوام کے سامنے رکھا جائے ، علماء کرام منبر کے ذریعے معاشرے کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرے، لوگوں کو بتایا کہ وہ معاشرہ انسانی معاشرے کہلانے کا حق نہیں ہوسکتا جہاں اقلیتیں غیر محفوظ ہوں اور فرقہ واریت کے نام پر لوگوں کا خون بہایا جائے ۔یہ علماء کرام کا کام ہے کہ وہ ایسے حالات کا تجزیہ کریں کہ دینی مدارس میں ہمارے بچوں کو جو تعلیم دی جارہی ہے کیا اس کے ذریعے ان کی دینی تربیت اسلام کے اصولوں کے مطابق ہورہی ہے اور اس کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں یا پھر معاشرہ تقسیم ہورہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اختلاف اپنی جگہ امام احمد بن حمبل، امام مالک، امام ابو حنیفہ اور امام شافیؒ کے اختلاف کا لوگ احترام کرتے ہیں اور سرفراز نعیمی شہید نے بھی اختلاف کا ہمیشہ سے احترام کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے اتحاد میں جامعہ نعیمہ اور اشرافیہ کا اہم کردار رہا ہے ، یہ ادارے امن کے ضامن رہے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے تمام ادارے اس طرح امن کے ضامن بنے رہیں تواس کے لئے ہمیں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا ،مسجد کا منبر ابلاغ کا اہم ذریعہ ہے ان کے ذریعے فتنوں کا راستہ روکا جاسکتا ہے ۔مذہب ، فرقے ، صوبے اور قومیت کے نام پر عوام کا خون بہانے والے لوگوں کو مؤثر جواب دینا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو جمع کریں گے اور پشتون ، سندھی ، پنجاب ، بلوچی کے تعصب کو ختم کرکے ملک کو آگے بڑھائیں گے ، مسلم لیگ نے بھی 1947ء میں لوگوں کو جمع کیا جس میں علماء کرام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا جن میں مولانا شبیر عثمانی اور جماعت علی شاہ پیش پیش رہے اور آج بھی ہمیں ایک معرکہ لڑنا ہے جس کے لئے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت ہے ، آپ نے منبر سے تعصب اور فرقہ کی آواز نہیں بلکہ اسلام اور اسلام کے اصولوں کی آواز دینی ہے ۔آپ نے وحدت کا پیغام لوگوں کو پہنچانا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) آپ کی ہر طرح سے مدد کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ میری دعا ہے کہ ادارہ جامعہ نعیمہ آنیوالے دنوں میں امن وا تحاد کا مرکز بنا رہے۔دریں اثناء وزیراعظم محمد نوازشریف نے پنجاب پولیس کے ڈیجیٹل سسٹم کا افتتاح کیا اور اس موقع پر ان کو پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی دی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔