بریکنگ نیوز
Home / کالم / قانون کی پاسداری

قانون کی پاسداری


جو سیاسی پارٹی اس وقت سندھ میں برسراقتدار ہے کسی زمانے میں اس کا نعرہ یہ ہوا کرتا تھا اسلام آباد ہمارا دین اور سوشلزم ہماری معیشت ہے صد شکر کہ سندھ میں تقریباً نو برس کے اقتدار کے بعد اسے خیال تو آیا کہ شراب نوشی غیراسلامی ہے چنانچہ جب اس نے صوبے بھر میں شراب نوشی اور شراب خانوں پر پابندی کے احکامات جاری کئے تو اس ملک کے عوام نے اس کے اس اقدام کو ازحد سراہا اسکے ساتھ ہی ساتھ اس ملک کے غیر مسلم بھی اس حکم پر خوش ہوئے کہ اب انہیں شراب فروشی جیسے ذلت آمیز دھندے کیساتھ منسلک نہیں کیا جاسکے گا شراب نوشی اور شراب فروشی کے دھندے سے منسلک افرادکی ذرا دیدہ دلیری تو دیکھیں کہ فوراً اعلیٰ عدالتوں میں جاپہنچے یہ دیکھ کر اس ملک کے ہر مسلمان کو دکھ ہواکہ شراب فروشی اور شراب نوشی کے مافیا سے موٹی موٹی فیسیں لیکر بعض وکلاء شراب خانوں کے کاروبار کے حق میں کیس لڑرہے ہیں جبکہ دوسری طرف غیر مسلم مذاہب کے نمائندے شراب پر پابندی کے حق میں عدالتوں کے سامنے اپنا موقف پیش کررہے ہیں یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اس ملک میں شراب خانوں کے وجود اور قیام کے حق میں بعض لوگ یہ دلائل پیش کرتے ہیں کہ چونکہ غیر مسلم اسے پیتے ہیں لہٰذا اس پر پابندی نہیں ہونی چاہئے حالانکہ کوئی بھی مذہب شراب نوشی کی اجازت نہیں دیتا ہندو دھرم کی جتنی بھی کتابیں ہیں ان میں شراب نوشی کو ایک غلط فعل قرار دیا گیا ہے آپ ذرا ان کی مذہبی کتابوں کو غور سے پڑھیں بھلے وہ ضد سمرتی ہو کہ شری مدبھگواتھ ان میں شراب نوشی کو گناہ کبیرہ قرار دیاگیا ہے گرونانک صاحب سکھوں کے مذہبی رہنماتھے انہوں نے گرنتھ صاحب کے صفحہ نمبر1377 میں خبردار کیا ہے کہ انسان چاہے کتنا بھی زیادہ عبادت گزار کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ شراب پئے گا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اس طرح عیسائی مذہب کی مقدس کتاب انجیل میں کہا گیا ہے کہ شراب زہریلے سانپ کی طرح ڈستی ہے اور زہر پھیلاتی ہے۔

بدھ مت اور یہودیوں کی کتاب تو رات میں بھی شراب نوشی سے لوگوں کو پرہیز کی تلقین کی گئی ہے یہ کتنا بڑا مذاق اور دھوکہ ہے کہ اس ملک میں عرصہ دراز سے کبھی Tourism یعنی سیاحت کے فروغ کے نام پر اور کبھی غیر مسلم افراد کے نام پر شراب کے خصوصی پرمٹ حکومتیں جاری کرتی آرہی ہیں کہ جن کو استعمال کرنے والے مسلمان ہیں جو مسلمان شرابی کبابی ہیں وہ شراب نوشی کے خصوصی پرمٹ غیر مسلموں سے اچھے داموں خرید کر انگور کی بیٹی کو اپنے منہ سے لگاتے آئے ہیں ان کا نشہ بھی پورا ہوجاتا ہے اور اس دھندے میں غیر مسلموں کو بھی اچھی خاصی رقم ہاتھ آجاتی ہے یہ کاروبار عرصہ دراز سے اس ملک میں چل رہا ہے یہ تو بھلا ہو سول سوسائٹی کے بعض افراد اور عدالتوں کاکہ دیر آید درست آید‘ انہوں نے اس اہم مسئلے کا نوٹس لے کر سندھ میں اس گھناؤنے کام کو بند کرایا۔

ہمارے دین میں کئی احکامات ایسے ہیں کہ جن پر کسی قسم کا کمپرومائز ہوہی نہیں سکتا اور شراب نوشی کی ممانعت ان احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس ملک میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں ‘اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ارب پتی اور کروڑ پتی افراد کے گھروں میں جو پارٹیاں ہوتی ہیں وہ اس وقت تک مکمل قرار نہیں دی جاتیں کہ جب تک ان میں شراب کی بوتلیں نہ انڈیلی جائیں یہ ایک ایسی لعنت ہے کہ جو دیمک کی طرح ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر سے چاٹ رہی ہے ہماری عدلیہ سے یہ توقع ہے کہ وہ اس معاملے میں بغیر کسی سیاسی یا تجارتی مصلحت کا خیال کئے ایسا حکم صادر کریگی کہ جس سے اس قوم اور ملک کی شراب نوشی اور شراب فروشی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ جائے۔