بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستان مخالف بل

پاکستان مخالف بل


امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس میں پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرا ر دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے بل کے محرک ٹیڈپونے دہشت گردی سے متعلق ایوان نمائندگان میں دہشت گردی سے متعلق ذیلی کمیٹی کے صدربھی ہیں‘اس بل کے تحت امریکی صدر کو 90 روز کے اندر جواب دینا ہو گا کہ پاکستان بین الاقوامی دہشت گردی کو سپورٹ کرتا ہے یا نہیں اس طرح اس کے 30 روز بعد وزیر خارجہ کو ایک رپورٹ دینا ہو گی جس میں پوری صورتحال کی وضاحت کی جائے گی بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو انعام دینے پر پابندی بھی لگائی جائے‘دوسری جانب امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل جورف ووٹل اپنی آرمڈ فورسز کمیٹی کو بریفنگ میں کہتے ہیں۔

پاکستان کی کاروائیاں درست سمت میں مثبت پیش رفت ہیں وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کو اہم قرار دیتے ہیں جنرل جوزف پاک بھارت تنازعہ کو ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں ‘ امریکی ایوان نمائندگان میں پیش ہونے والے بل کے محرک جان بوجھ کر برسرزمین حقائق سے چشم پوشی کر رہے ہیں وہ یہ بات بھول جانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو خود امن کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ اس حقیقت کو بھی جھٹلا رہے ہیں کہ امن و امان کی صورتحال کے باعث پاکستان کی اکانومی کس حد تک متاثر ہوئی ہے خصوصاً خیبر پختونخوا میں صنعتوں کو تالے لگے ہیں اور لوگ اپنا سرمایہ دوسرے صوبوں کومنتقل کر نے پر مجبور ہوئے ہیں ‘ جہاں تک پاکستان کے پورے خطے میں امن کے قیام کیلئے کردار کا تعلق ہے تو یہ ریکارڈ کا ایسا حصہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ٹرمپ انتظامیہ کو اس ریکارڈ کی روشنی میں بل کے محرک کو جواب دینا ہو گا اور ساتھ ہی خطے کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے موقف کو سمجھنا ہو گا۔

مضر صحت دودھ پر کارکردگی رپورٹ

پشاور کی عدالت عالیہ نے صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کو معیاری دودھ کی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت کیساتھ محکمہ خوراک سے اس ضمن میں اب تک اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل بھی طلب کی ہے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں دودھ کے اندر مضر صحت اجزاء کی ملاوٹ سے متعلق جو تفصیل دی گئی ہے وہ تو اس بات کی متقاضی ہے کہ ایڈمنسٹریشن کے دیگر ذمہ دار ادارے بھی اب تک کی غیر ذمہ داری کی وضاحت اپنے انتظامی محکموں کو بھی کریں ‘ درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ مویشیوں کو خصوصی انجکشن لگا کر دودھ کی مقدار زیادہ لی جاتی ہے اور پھر اس میں کریم نکالنے کے بعد ڈٹرجنٹ‘ بلیچنگ پاؤڈر ‘ چونا ‘ گنے کارس اور کوکنگ آئل بھی ملایاجاتا ہے ‘ یوریا ‘ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ ‘ بورک پاؤڈر ایلومنیم اور فارملین بھی دودھ میں شامل ہوتی ہے ‘عدالت میں دائر درخواست میں بیان کردہ تفصیل کی روشنی میں دودھ کے کیمیائی تجزئیے کیساتھ اس ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی ناگزیر ہے صوبے کی حکومت ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو سہولیات سے آراستہ کر چکی ہے تاہم اگر ان لیبارٹریوں کی موجودگی میں ملاوٹ کا یہ حال ہے تو یہ سب قومی فنڈز کا ضیاع ہی سمجھا جاسکتا ہے ۔