بریکنگ نیوز
Home / کالم / جذبات اپنی جگہ لیکن

جذبات اپنی جگہ لیکن

قومی اسمبلی جس بھی ملک کی ہے اس میں کچھ نہ کچھ ہنگامہ تو لگا ہی رہتا ہے شاید صرف انگلستان کی اسمبلی ایسی ہے کہ جس میں ایسی حرکتیں نہیں دیکھی گئیں جو آج کل مختلف ممالک کی اسمبلیوں میں دیکھی جا رہی ہیں ہمار اتو خیر ملک ہی ان پڑھ لوگوں کا ہے اور ہم ہی میں سے اسمبلیوں کے اراکین چنے جاتے ہیں ایک دفعہ جو حکومت نے قدغن لگائی کہ اسمبلی میں گریجویٹ سے کم کوئی بھی اسمبلی کا رکن نہیں بن سکتا تو یار لوگوں نے ڈگریوں کے ڈھیر لگا دیئے اور اگلے پانچ سال انکی پڑتال میں گزر گئے پھر ہماری سپریم کورٹ نے حکم صادر کر دیا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کو کسی پڑھے لکھے رکن کی ضرورت نہیں اس لئے کہ الیکشن لڑنا پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے اور اگر ہم اس پر قدغن لگائیں گے تو یہ انسانی حقوق کی حق تلفی ہو گی خیر ہم کیا کہہ سکتے ہیں اس سے کچھ لوگوں کو صدارت کے مزے اٹھانے کا حق تو مل گیا مگر اسمبلی میں جو طہارت ہونی چاہئے تھی وہ نہ ہو سکی۔ یہ الگ با ت ہے کہ ہم پاکستانی ہر اچھائی کا توڑ کر سکتے ہیں صرف برائی کو دور کر نے کی طاقت ہم میں نہیں اور اگر بھولے سے کوئی اس طرف قدم اٹھاتا بھی ہے تو انسانی حقوق راستے میں آ جاتے ہیں اسکا ایک اور فائدہ جو ہمیں ہوا ہے وہ اسمبلی اور اسمبلی کے باہر زبان کا استعمال ہے اب تو اندر اور باہر وہ زبان استعمال کی جا رہی ہے جسے ہم ڈرائیوروں کی زبان کہتے ہیں ہمارے لیڈران کرام اپنے جلسوں میں جو زبان ایک دوسرے کیلئے استعمال کر رہے ہیں اگر یہ زبان ہمارے وہ لیڈر سن لیں جنہوں نے ہمارے لئے ایک اسلامی مملکت کے حصول کیلئے جیلیں کاٹیں اور انگریز کی مار کھائی تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی جد و جہد پر پشیمان ہو جائیں ہمارے لیڈروں کو یہ خیال ہی نہیں آتا کہ انکی زبانوں کا عوام پر منفی اثر پڑ رہا ہے جمہوریت میں ظاہر ہے کہ اپنی پارٹی کا منشور عام کرنے کی کھلی اجازت ہوتی ہے۔

لیڈران کرام جلسوں میں اپنی پارٹی منشور کا پرچار کرتے ہیں اسکے ساتھ ہی وہ دوسری پارٹی کے منشور پر تنقید بھی کرتے ہیں جسکا مقصد اپنے منشور کو دوسرے سے بہتر دکھانا ہوتا ہے تا کہ لوگ انکی طرف مائل ہوں اور انہیں ووٹ دیں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی کا منشور روٹی کپڑا اور مکان پر رکھا اور اس کا نہایت کا میابی سے پر چار کیا وقت کی کمی کی وجہ سے انہیں مشرقی پاکستان میں اپنے منشور کو متعارف کروانے کا موقع نہیں ملا ورنہ پورے پاکستان میں مکمل اکثریت مل جانی تھی تاہم بات منشور کی تھی اور انہوں نے اس کو عام کر کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر لیا یہی کچھ جمہوریت میں ہوتا ہے دوسری دفعہ میں بھٹو صاحب نے منشور پر زور دینے کی بجائے لوگوں کی تضحیک کو اپنایا اور بات دور تک پہنچ گئی۔پتہ چلا کہ اگر سیاسی حضرات اپنے منشور پر پکے رہیں تو انکی کامیابی ہوتی ہے اور اگر منشور سے ہٹ کر بات کریں تو نقصان ہو سکتا ہے بھٹو صاحب نے جو تضحیکی سیاست کی نیو رکھی تو ہمارے موجودہ لیڈروں نے اسکی نقل کرنا شروع کر دی اور سیاسی دوستوں کے نام رکھنے اور ان کو برا بھلا کہنے کی رسم ڈال دی اب اگر آپ ایک لیڈر کو برا کہیں گے تو لازماً آپ کو بھی دوسرے برا کہیں گے اسلئے کہ ہر انسان میں کمزوریاں تو ہوتی ہیں اور کمزوریوں کی پردہ پوشی صرف اللہ تعالیٰ ہی فرماتے ہیں ۔

انسان تو دوسروں کی کمزوریوں کو اچھالتا ہے تو اگر آپ دوسرے کی غیبت کر رہے ہیں تو اپنے لئے بھی تیار رہنا چاہئے اگر دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں تو خود بھی حوصلہ رکھیں کہ آپ کو بھی برا بھلا کہا جائے گا اب اتنی سی بات کو لیکر ہنگامہ کھڑا کر دیا گیااور بات بڑھ کر گالم گلوچ اور دھکا مُکا تک چلی گئی اگر ہمارے لیڈران کرام اپنے کارندوں کی تربیت پر بھی نظر رکھتے تو بات یہاں تک پہنچنی ہی نہیں تھی اور اگر پہنچ گئی ہے تو اس کا مداوا اس طرح کرنا چاہئے کہ اپنے ورکروں کو تحمل اور بردباری کا سبق دیا جائے اور ان کو زبان کا صحیح استعمال سکھایا جائے یہی لیڈر کی صلاحیت ہونی چاہئے اور اس طرح اسمبلی کے ماحول کو بہتر بنایا جائے اسمبلی میں بہت کچھ کہنے کو ہوتا ہے اس کو ذاتی استعمال میں نہ لائیں بلکہ اس میں ملکی حالات اور حکومتی کمزوریوں کو زیر بحث لائیں اور مثبت انداز میں حالات کا مقابلہ کرنیکی صلاحیت پیدا کریں یہ خیال رہے کہ ہم ایک نادیدہ دشمن سے حالت جنگ میں ہیں۔