بریکنگ نیوز
Home / کالم / سرحدی خطرات!

سرحدی خطرات!


پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ اور کشیدگی ختم کرانے میں امریکہ سمیت عالمی ادارے اگر فعال کردار ادا کرنا بھی چاہتے ہیں تو ایسا عملاً ہونے نہیں دیا جاتا حال ہی میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف وٹل نے کہا کہ پاکستان بھارت تنازعہ ایٹمی جنگ میں بدل سکتا ہے ‘‘ انہوں نے اس سلسلہ میں امریکی سینٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ پاکستان سے متعلق بھارتی پالیسی خطرناک ہے اور اس سے دہشت گردی کیخلاف جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان مغربی سرحد پر توجہ بڑھا دے گا۔‘‘ ان کے بقول بھارت پر توجہ کے باعث افغان سرحد پر پاکستان کی توجہ میں کمی آئی ہے جبکہ پاکستان میں آج بھی ’بیس دہشت گرد‘ گروپوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں پاکستان کو تو بلاشبہ بھارت اور افغانستان دونوں جانب کی سرحدوں پر اپنی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات کا سامنا ہے اور ہماری جری و بہادر سکیورٹی فورسز کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں تو ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملوں کا بھی فوری توڑ کرکے جوابی کاروائی میں ان جنونیوں کی لاشیں گرا رہی ہیں جبکہ ان دونوں سرحدوں پر فی الحقیقت ہمارا دیرینہ دشمن بھارت ہی ہماری سلامتی کے خلاف برسرپیکار ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت کا اپنا پیداکردہ مسئلہ کشمیر ہی دونوں ممالک کے مابین کشیدگی اور سردمہری کا باعث بنا ہوا ہے ۔

بھارت تو اب اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی انتہاء کرتے ہوئے پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر اور اس کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان تک پر نظریں گاڑے بیٹھا ہے جس کی جانب سے کبھی آزاد کشمیر کو پاکستان کے قبضے سے چھڑانے کی بات کی جاتی ہے اور کبھی بھارتی پارلیمنٹ میں گلگت اور بلتستان کے لئے نشستیں مختص کرنیکی قراردادیں لائی جاتی ہیں اس تناظر میں بھارت کی موجودہ مودی سرکار سے ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے یواین قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دیکر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پیش رفت کریگی اس کے برعکس مودی سرکار پاکستان کی سلامتی کمزور کرنیکی سازشوں کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ بھارت کے آرمی چیف پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کرکے مزید سٹرائیکس کی دھمکیاں دیتے ہیں تو نریندر مودی بلوچستان‘ آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے برگشتہ عناصر کو پاکستان سے علیحدگی پر اکساتے نظر آتے ہیں انہی سازشوں کے تناظر میں جب بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں پاکستان کے مجموعی بجٹ جتنا اضافہ کرکے امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ روس اور جرمنی سے کئے گئے معاہدوں کے تحت ایٹمی اور روایتی جدیدترین ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان کے انبار لگاتا نظر آتا ہے تو اسکی یہ ساری جنگی تیاریاں یقینی طور پر پاکستان ہی کی سلامتی کیخلاف ہیں جسکے ساتھ کشمیر اور پانی کے تنازعات گھمبیر بنا کر وہ سرحدی کشیدگی بڑھانے کی راہ پر گامزن ہے اس تناظر میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ نے پاکستان بھارت کشیدگی کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے مابین ایٹمی جنگ کے امکانات بجا طور پر ظاہر کئے ہیں اور ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے بارے میں بھارتی جارحانہ پالیسیاں ہی ایٹمی جنگ کے امکانات پیدا کررہی ہیں انکے بقول دہلی کی جانب سے پاکستان کو تنہاء کرنے کی کوشش دونوں ممالک کے مابین سازگار تعلقات میں رکاوٹ ہے۔

جس سے پاکستان کی توجہ افغان سرحد سے ہٹنے کے نتیجہ میں دہشت گردی کیخلاف جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ کو یقیناًاس حقیقت کا بھی ادراک ہوگا کہ افغان سرزمین بھارت ہی کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے جو افغانستان کے مختلف شہروں میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے دہشت گردوں کو تربیت‘ اسلحہ اور بھاری رقوم فراہم کرکے ڈیورنڈ لائن پر لاتا ہے اور انہیں پاکستان میں داخل کرکے دہشت گردی کے متعینہ اہداف پایۂ تکمیل کو پہنچاتا ہے۔ امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ کو اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ پاکستان آج اپنی سرزمین پر دہشت گردوں‘ ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف پہلے سے زیادہ شدت سے برسرپیکار ہے امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ کا یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی توجہ مغربی سرحد پر بھارت کی جانب سے مرکوز ہونے کے باعث ڈیورنڈ لائن پر اس کی توجہ ہٹ گئی ہے اسکے برعکس اگر امریکی افواج کی موجودگی میں افغانستان کے اندر سے دہشت گرد پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملہ آور ہورہے ہیں تو دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے یہ صورتحال خود امریکہ کیلئے لمحۂ فکریہ ہونی چاہئے پاکستان تو اس جنگ میں دہشت گردوں کی بلاامتیاز سرکوبی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا اگر کابل انتظامیہ بھی اسی جذبے کیساتھ دہشت گردوں کی سرکوبی پر آمادہ ہو اور پاکستان کیساتھ آپریشن کی مشترکہ حکمت عملی طے کرلے تو کوئی وجہ نہیں کہ ڈیورنڈ لائن کے آرپار دہشت گردوں کا کوئی محفوظ ٹھکانہ بچ جائے اور تمام دہشت گردوں کی سرکوبی نہ ہو۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: فہد جمیل خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)