بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ترک صدر طیب اردگا ن نے ڈچ قوم کو نازیوں کی باقیات قرار دے دیا

ترک صدر طیب اردگا ن نے ڈچ قوم کو نازیوں کی باقیات قرار دے دیا


انقرہ۔ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ترکی کے وزیر خارجہ کی ریلی منسوخ ہونے پر ترک صدر طیب اردوگان نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈچ قوم کو نازیوں کی باقیات اور فسطائی قرار دیدیا۔ترک وزیر خارجہ کو صدر طیب اردوگان کو مزید اختیارات دینے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم سے متعلق ایک ریلی سے خطاب کرنا تھا۔ شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ اس ریلی پر سکیورٹی وجوہات کے سبب پابندی عائد کی گئی۔ ادھر ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ترکی کے قونصل خانے کے باہر صدر رجب طیب اردوغان کے حامیوں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مظاہرے کو ڈچ پولیس نے منتشر کر دیا ہے۔یہ کارروائی ایک ترک وزیر کو قونصل خانے میں داخل نہ ہونے دینے کے بعد عمل میں آئی۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف منظم انداز میں گھوڑوں پر سوار ہوکر کارروائی کی۔

یہ مظاہرین دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازعے میں اضافے کے بعد وہاں جمع ہوئے تھے۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو گھیر لیا تھا اور ان پر بوتلیں پھینک رہے تھے۔خیال رہے کہ آئندہ ماہ 16 اپریل کو ترکی میں صدر اردگان کے اختیارات میں اضافہ کے لیے ایک ریفرینڈم کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ترکی کو پارلیمانی طرز حکومت کے بجائے امریکہ کی طرح صدارتی طرز حکومت میں تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔اگر یہ ریفرینڈم کامیاب رہتا ہے تو صدر کو مزید اختیارات حاصل ہو جائیں گے جس کے تحت وہ وزیر نامزد کر سکیں گے، بجٹ تیار کر سکیں گے، سینیئر ججز کی تقرری کر سکیں گے اور بعض قوانین وضع کر سکیں گے۔اس کے تحت صدر ملک میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں اور پارلیمان کو برخاست کر سکتے ہیں۔ ریفرینڈم کو کامیاب بنانے کے لیے انھیں اندرون اور بیرون ملک رہنے والے دونوں قسم کے ترکیوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔اس لیے جرمنی آسٹریا اور ہالینڈ سمیت ان ممالک میں مختلف قسم کی ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں ترکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

بہر حال سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بہت سے ممالک میں ریلیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ آسٹریا کے وزیر خارجہ سیبسٹیئن کرز نے کہا کہ صدر اردوگا ن کو وہاں ریلیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے اختلاف بڑھے گا اور ہم آہنگی کو دھچکہ لگے گا۔بہت سے یورپی ممالک گذشتہ سال ناکام بغاوت کے بعد ترکی کے رویے سے بھی نالاں ہیں جس میں ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور لاکھوں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا۔ اس سے قبل ہالینڈ کی حکومت نے ترکی کے وزیر خارجہ کی پرواز کو اترنے کی اجازت دینے سے منع کر دیا تھا۔ جس پر ترکی کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے دورے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت قسم کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔