بریکنگ نیوز
Home / کالم /  کرپشن پر مفاہمت

 کرپشن پر مفاہمت


سوئٹزرلینڈ میں266 بینک ہیں اور ایک مستند سروے کے مطابق ان میں پچاس فیصد اکاؤنٹس ان لوگوں کے ہیں جن کا تعلق باہر کی دنیا سے ہے یعنی وہ سوئٹزرلینڈکے باشندے نہیں ان میں ظاہر ہے کہ پاکستانی بھی ہیں جن کے بارے میں اسحاق ڈار صاحب نے دو سال قبل کہا تھا کہ انہوں نے 200ارب ڈالر کے قریب اپنا کالا دھن ان بینکوں میں چھپا رکھا ہے اس بات کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں کہ اس قسم کے کام وہی لوگ کرتے ہیں جنہوں نے حرام کی کمائی سے اپنی جیبیں بھری ہوتی ہیں نہ ان کوقبر کا خوف ہوتا ہے اور نہ خداکا ڈر‘ نارمل طریقہ کار سے وہ اپنی دولت باہر کے بینکوں یا کسی بھی بینک میں اسلئے جمع نہیں کرواتے کہ انکو کئی سوالات کے جوابات دینے پڑتے ہیں مثلاً یہ کہ یہ دھن انہوں نے کیسے کمایا اور کتنے عرصے میں کمایا کیا اس پر حکومت کا جو ٹیکس ہے وہ انہوں نے ادا کیا ہے ہمارے وزیر خزانہ صاحب کا اس معاملے میں تازہ ترین بیان تو یہ ہے کہ پاکستان اور سوئس حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پا چکا ہے کہ جس پر اس ماہ کی 21 تاریخ کو دستخط ہونیوالے ہیں اس معاہدے کے بعد یہ ممکن ہو جائیگا کہ 200 ارب ڈالر کے مالکان کے نام بھی آشکار کئے جائیں اور ان پرنکیل بھی ڈالی جائے کہ یہ رقم واپس پاکستان لائیں لیکن یہاں ایک نہایت ہی اہم سوال پیدا ہوتا ہے اس رقم کا انکشاف تو وزیر خزانہ صاحب نے دو سال قبل کیا تھا کہ 200 ارب ڈالر پاکستانیوں نے سوئس بینکوں میں چھپا رکھے ہیں ۔

دو سال کا عرصہ تو کافی عرصہ ہوتا ہے آپکا کیا خیال ہے کہ جن پاکستانیوں کا کالا دھن وہاں پڑا تھا کیا اس عرصے میں انہوں نے اس رقم کووہاں سے نکال کر کہیں اور منتقل نہ کر دیا ہو گا؟ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ سوئس حکومت سے یہ بھی پوچھا جائے کہ گزشتہ دو برس میں وہ کونسے پاکستانی اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں جنہوں نے اپنی رقم وہاں سے نکالی قوم جاننا چاہتی ہے کہ ان پردہ نشینوں کے نام سامنے آئیں جنہوں نے اس ملک کا معاشی استحصال کیا ‘ٹھیکوں میں کمیشن کھائی‘ رشوت لی ‘اپنا ہنر مہنگے دام فروخت کیا‘ سمگلنگ کی ‘ بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کی وغیرہ وغیرہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ حکومت 200 ارب ڈالر کے اکاؤنٹس ہولڈرز کے نام قوم کو بتائے گی اسحاق ڈار نے اس معاملے میں جو بیان دیا تھا وہ سیاسی تھا اور انکاحالیہ بیان بھی سیاسی لگتا ہے۔

اگر حکومت نے اس بات پرکوئی سخت اقدام اٹھانا ہوتا تو وہ کب کا اٹھا چکی ہوتی کئی لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ سوئس اکاؤنٹس کے سلسلے میں پی پی پی کی ٹاپ لیڈر شپ پر زیادہ الزامات ہیں خودزرداری صاحب کانام بھی اس سلسلے میں لیا جاتارہا ہے اسلئے ڈار صاحب نے یہ بیان محض اس لئے دیا کہ ذرا وہ دب جائیں پی پی پی اور (ن) لیگ کی قیادت ایک دوسرے کو خوب جانتی ہے وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں (ن) لیگ کے لیڈر جانتے ہیں کہ اگر آج انہوں نے مالی کرپشن میں پی پی پی کے لیڈروں کو سزا دلوا دی تو کل کلاں جب انکی باری آئیگی اور وہ اگر اقتدار میں ہوں گے تو وہ بھی ان کو نہیں چھوڑیں گے اور ان سے بدلہ لیں گے ان دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے اندرون خانہ یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر تنقید بھی کرتے رہیں گے لیکن کام وہی کریں گے جس سے انکے مفادات پر زک نہ آئے ۔