بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / کا لج اساتذہ کے مسائل

کا لج اساتذہ کے مسائل


سرکاری کالجز کے موجودہ نظام میں اصلاحات سے متعلق چند دن قبل شائع ہونے والے میرے ایک کالم کااگر بعض قارئین نے خیرمقدم کیا ہے تو بعض قارئین نے اسکے بعض حصوں سے جزوی اختلاف کیا ہے‘ ان قارئین کا اپنے دلائل کے حق میں کہنا ہے کہ کالجز کی موجودہ نظام سے معاشرے کو اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جو کھیپ مل رہی ہے وہ بذات خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے کالجز کئی مسائل اور چیلنجز کے باوجود بہت کچھ ڈیلیور کر رہے ہیں کالجز کے سینکڑوں اساتذہ کے ان احساسات کی ترجمانی کا حق ہمارے ایک مستقل قاری اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج تیمر گرہ کے نوجوان لیکچرر جمشید خان صاحب نے اپنے ایک جامع برقی خط کے ذریعے ادا کرنے کی کوشش کی ہے اس بات میں کوئی شک اور دوآراء نہیں ہیں کہ ہمارے صوبے کے کالجزبے پناہ مسائل کا شکار ہیں جن سے ہمارے لیکچررز ‘ پروفیسرز ‘ پرنسپلز‘ دیگر سٹیک ہولڈرز اور سب سے بڑھ کر ہماری نوجوان نسل کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے‘یہ بات محتاج بیان نہیں کہ ہمارے کالجزکو ہر نئی برسر اقتدار آنیوالی حکومت نے مختلف اقدامات کے ذریعے تجربہ گاہ بنائے رکھاہے حتیٰ کہ موجودہ حکومت جو تبدیلی کے نام پر برسراقتدار آئی تھی نے بھی پرانی حکومتوں کے نقش قدم پرچلتے ہوئے کالجز کو مشق ستم بنانے سے گریز نہیں کیا‘بظاہر موجودہ حکومت اصلاحات کے ایک جامع ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔

لیکن عملاً کالجز کا سارا نظام نہ صرف جوں کا توں برقرار ہے بلکہ یہ تنزل اور پستی کا شکار ہوتا جا رہا ہے واضح رہے کہ صوبے کے206کالجز میں 1500 تا2000 اساتذہ کی مختلف اسامیاں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں کالج اساتذہ کی ترقی کا چار درجاتی فارمولہ پچھلے پانچ سال سے تجدید کا منتظر ہے کالج اساتذہ میں یہ تاثر عام ہے کہ اساتذہ کی ٹرانسفراورپوسٹنگ سیاسی وابستگی اور سفارش کے بغیر کرناجوئے شیر لانے کے مترادف ہے دہشت گردی اور قدرتی آفات سے تباہ شدہ کالجز کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ان کالجز میں جہاں دیگر سہولیات کے فقدان سمیت طلباء اور اساتذہ کے بیٹھنے تک کامعقول انتظام تک نہیں ہے وہاں ان مسائل سمیت بعض دیگر مسائل میں ہونے والے اضافے نے اعلیٰ تعلیم کے اس اہم شعبے کو عملاً ادنیٰ تعلیم کے درجے پر پہنچادیا ہے کالج اساتذہ کے وقار کی بحالی اساتذہ کیساتھ ساتھ حکومت کی ذمہ داری ہے کیوں کہ یہ وہ ستون ہے جس پر اعلیٰ تعلیم کی پوری عمارت کھڑی ہے کالج اساتذہ کی ون سٹیپ اپ گریڈیشن،ٹیچنگ الاؤنس کا اجراء ‘تمام اساتذہ خصوصاً خواتین اساتذہ کیلئے محفوظ اور پر امن تعلیمی ماحول کی فراہمی اور زمینی حقائق پر مبنی حاضری نظام اس سلسلے میں ایک بہتر نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے‘ حکومت وقت کے چند نمایاں حالیہ عزائم مثلاً کالجز کی ممکنہ نجکاری نے کالجز کے تمام سٹیک ہولڈرز کوسخت تشویش میں مبتلاکر رکھاہے۔ان مجوزہ اقدامات کے بارے میں کالج اساتذہ میں یہ تاثر عام ہے کہ ان سے نہ تو اعلیٰ تعلیم کے موجودہ نظام میں کسی خاطرخواہ بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ایسے کسی فیصلے سے حکومت کی تبدیلی کے ایجنڈے کو کوئی فائدہ ہوگا اساتذہ کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ کالجز کی خود مختاری کی فرسودہ اور سرمایہ دارانہ سوچ کی بجائے کالج کونسل،جائنٹ مینجمنٹ کونسل اورصوبائی مینجمنٹ کونسل جیسے اداروں کو مضبوط اور بااختیار بنایاجانا چاہئے تاکہ مختلف تعلیم دوست اقدامات کے ذ ریعے موثر اور حقیقی تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکے اسکے علاوہ تجربہ کار پروفیسر صاحبان پر مشتمل ایک گائیڈنس کونسل بھی قائم کی جاسکتی ہے ۔

جوکالج اساتذہ کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے سمیت اعلیٰ تعلیمی نظام کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کے علاوہ متعلقہ صوبائی انتظامیہ کو ان سفارشات کو عملی جامہ پہنانے میں رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتی ہے یہاں یہ بتانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کالج اساتذہ سے بہتر نتائج کی توقع رکھتی ہے لیکن اساتذہ کے مسائل کو کوئی خاص اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں کالج اساتذہ کیلئے ایم فل اور پی ایچ ڈی الاؤنس میں اضافہ ناگزیرہے بلکہ کالج اساتذہ کو ریسرچ کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کیلئے بھی بعض اقدامات کا اٹھایا جانا ضروری ہے کالجز کے مسائل کے حوالے سے اساتذہ میں جوتشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بلا وجہ نہیں ہے بلکہ ان سے مزید بے اعتنائی برتنا بھی یقیناًقرین انصاف نہیں ہو گا امیدہے حکومت اور متعلقہ ادارے کالجز کیلئے کوئی لائحہ عمل طے کرتے ہوئے کالج اساتذہ اور ان کے نمائندوں کی آراء اور تجاویز کو خصوصی توجہ دینے کے علاوہ کالج اساتذہ کی اپ گریڈیشن کیساتھ ساتھ اساتذہ کو اپنے فرائض مزید جانفشانی سے ادائیگی پر مائل کرنے کیلئے بہتر امتحانی نتائج اور حاضریوں کے نظام کو موثر بنانے کیساتھ ساتھ تحقیقی سرگرمیوں نیز ایم فل اور پی ایچ ڈی تعلیم کے خواہش مند اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایسے اساتذہ کو خصوصی مراعات فراہم کرنے میں کسی مصلحت اور بخل سے کام نہیں لیں گے۔