بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی چھلانگیں

سیاسی چھلانگیں


ہماری سیاست کا عجب حال ہے ایک وقت تھا کہ ہم کسی رکن اسمبلی کو مسلم لیگ کے ٹکٹ پر جتوا کر اسمبلی میں بھیجتے جب کل نتیجہ سامنے آتا تو معلوم ہوتا کہ حکومت تو پی پی پی کی بن رہی ہے اگلے ہی دن ہمارے مسلم لیگ کے رکن اسمبلی کا معلوم ہوتا کہ وہ پی پی پی میں چلے گئے ہیں اور ووٹر ان کا منہ تکتے رہ گئے ہیں اگر ہمارے ووٹوں کایہی حشر ہونا تھا تو ہم نے پہلے ہی کیوں پی پی پی کے امیدوار کو کیوں نہ ووٹ دے دیاتھاخیرہمارے پچھتاوے کو کون پوچھتا ہم نے تو جو کرنا تھا کر دیا اب پانچ سال بعد دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے پانچ سال کیلئے تو ہمارے ووٹ ضائع ہو ہی گئے اس عمل کانام لوٹا کریسی رکھا گیا مگر ہمارے لوٹا ارکان اسمبلی کے پاس سے شرم چھو کر بھی نہ گزر سکی ادھر جس پارٹی کے پاس بھی دولت کی ریل پیل تھی وہی حکومت کرنے کے قابل ہو پائی اسلئے کہ لوٹوں کی اپنی اپنی قیمت ہے کوئی ٹکے پربک جاتا تھا اورکسی کی قیمت کروڑوں میں ہوتی تھی فائدہ دونوں صورتوں میں رکن اسمبلی کا ہی ہوتا تھا ادھر مسلم لیگ زندہ باد کے نعروں والے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوتے کہ یہ کیا ہوا ہمارے ایک دوست نے ان دنوں بڑا اچھا تبصرہ کیا کہ مسلم لیگ بڑی ہی فرٹائل جماعت ہے ہرالیکشن میں ایک یا ایک سے زیادہ بچے جن دیتی ہے دیکھا جائے تو جو جماعتیں پاکستان بناتے وقت مسلم لیگ کے علاوہ تھیں وہ اپنی جگہ قائم رہیں اور اپنی جگہ سے ذرا بھی نہ ہلیں ۔ ہاں اکا دکا کی بات الگ ہے مگر مسلم لیگ کی بات ہی انوکھی ہے پاکستان کے بننے کے فوراً بعد اس میں سے ایک عوامی مسلم لیگ پیدا ہوئی جو بعد میں صرف عوامی لیگ بنی اور پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کا سبب بنی اس کے بعد مسلم لیگ سے ایک کنونشنل مسلم لیگ اور ایک کونسل مسلم لیگ بن گئی پھر تو ایک سلسلہ ہی شروع ہو گیا اسی سے پیپلز پارٹی نے جنم لیا اسی سے مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ( ق) مسلم لیگ (ض) اور مسلم لیگ (ر) وغیرہ وغیرہ پیدا ہوئیں اب بہت سی مسلم لیگیں ہیں اور ہر ایک خود کو قائداعظم کی مسلم لیگ کہتی ہے ادھر دیگر جماعتوں میں اکا دکا کمزوریاں آتی رہیں مگر اس قدر جماعتی ٹکڑے نہیں ہوئے مسلم لیگ کے یہ ٹکڑے عموماً اقتدار کیلئے ہوئے۔صرف ایک حصہ کچھ اصولوں پر جدا ہوا تھا اور وہ عوامی لیگ تھی جس کے اختلافات اصولی تھے مگراسکے بعد جو بھی ٹکڑے ہوئے وہ مارشل لاؤں کی حمایت اور مخالفت میں ہوئے۔

ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ جو بعد میں تقریباً ساری کی ساری پی پی پی میں تبدیل ہو گئی اور کونسل مسلم لیگ بنی یہ پہلے ماشل لا ء کی پیدا وار تھی دوسرے مارشل لاء نے مسلم لیگ( ن) کو جنم دیا اورتیسرے مارشل لاء کی پیداوار مسلم لیگ ( ق ) ہے یہ ساری ہی مسلم لیگیں اپنے آپ کو قائد اعظم ؒ کیساتھ جوڑتی ہیں اور ہر ایک یہ کہتا ہے کہ اس کی مسلم لیگ اصلی ہے تا ہم ہر مسلم لیگ مارشل لاء کی پیداوار ہے اور ہر مسلم لیگ اقتدار کے عاشقوں کی جماعت ہے جو بد قسمتی سے مستقل اقتدارمیں نہیں رہی مگر اسکے اراکین کسی نہ کسی طرح ہمیشہ ہی اقتدار میں رہے۔چاہے وہ مسلم لیگ (ن) کی صورت میں یا پی پی پی کی صورت میں یا مسلم لیگ( ق) کی صورت میں ہاں صرف ایک مسلم لیگ اقتدار کے علاوہ بنی اور ما شاء اللہ ابھی تک ایک رکن اسمبلی پر مشتمل ہے اور وہ ہے مسلم لیگ (ر) جو عوامی مسلم لیگ کے نام سے مشہور ہے اور جس کے صدر سے لیکر عام ورکر تک صرف شیخ رشید ہی ہیں۔ کچھ لوگ اس غرض سے انتخابات سے کچھ پہلے ایسی جماعتوں میں چلے جاتے ہیں جن کے متعلق انکا خیال ہوتا ہے کہ اقتدار میں آئیں گی پچھلے انتخابات سے قبل ایک جماعت کا چرچا تھا۔

جس میں دوسری جماعتوں کے دھتکارے یااقتدار کے بھوکے اس خیال سے شامل ہوئے کہ یہ جماعت سویپ کرے گی یہ تھی تحریک انصاف۔ جیسے ہی اس کا ایک جلسہ کامیاب ہوا ابن الوقتوں نے ادھر کا رخ کیا سیاسیوں نے جلسوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ لگایاکہ یہ جماعت سویپ کرے ہی کرے مگر ان کو ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ لوگ ان جلسوں میں عمران خان کی وجہ سے کم اور گویوں کی وجہ سے زیادہ آئے مگر جب یہ جماعت فیل ہو گئی تو اب یہ بے چارے نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے۔اب کچھ لوگ اس وجہ سے پھر اس جماعت کی جانب راغب ہو رہے ہیں کہ شاید یہ جماعت 2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آجائیگی اسلئے پہلے لوٹے بننے والے اراکین اب اسکی طرف رخ کر رہے ہیں مگر جوتشیوں کا کہنا ہے کہ اس جماعت کا اقتدار میں آنا کہیں دور دور تک نظر نہیںآرہامگرجمعیت علماء کے لوگ جوگیوں جوتشیوں کی پیش گوئیوں پر یقین نہیں رکھتے۔