بریکنگ نیوز
Home / کالم / روپے کی غیر معمولی قدر

روپے کی غیر معمولی قدر


پاکستان کی برآمدات کم ہو رہی ہیں جبکہ درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے بیرون ملک سے ترسیل زر کم ہورہا ہے امریکہ کی جانب سے دہشتگردی کیخلاف جنگ کا حصہ بننے کی بنیاد پر ملنے والی ’اتحادی امداد‘ بھی کم ہو رہی ہے گذشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 2 ارب روپے کی غیرمعمولی کمی آئی ہے اگر ہم رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان کی آمدن و اخراجات کا میزانیہ دیکھیں تو امریکی ڈالروں کی آمد و اخراج میں گذشتہ مالی سال کے مقابلے 90فیصد کمی آئی ہے!جون 2013 سے جون 2016ء کے درمیان پاکستانی حکومت نے ورلڈ بینک سے 9.7 ارب ڈالر‘ آئی ایم ایف سے 6.2 ارب ڈالر‘ دوطرفہ معاہدوں سے 3.6ارب ڈالر‘ بانڈز کی فروخت سے 3.5ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں سے 1.8ارب ڈالر ادھار لئے۔ مجموعی طورپر 25اربڈالر قرض لئے گئے جنہیں آئندہ پندرہ ماہ کے بعد واپس کرنے کیلئے 6.5 ارب ڈالرسود ادا کرنا ہو گا۔ گذشتہ سات ماہ کے دوران پاکستان نے مزید 4.6ارب ڈالر کے نئے قرضے لئے ہیں اور اگر ہم گذشتہ 44 ماہ کی بات کریں تو پاکستان نے مجموعی طور پر 30ارب ڈالر کے قرضے لئے ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمت میں 28 ڈالر فی بیرل سے اضافہ ہو کر 54 ڈالر فی بیرل ہو چکا ہے جس کا مطلب ہے ہمیں ملکی ضروریات کیلئے تیل درآمد کرنے کیلئے اربوں ڈالر مزید کی ضرورت ہو گی۔ عالمی سطح پر کسی ملک کی کرنسی کی قدر کا تعین کرنے کے کئی ایک عوامل ہوتے ہیں پاکستان کی اگر بات کی جائے تو ہمارے ہاں مہنگائی کی شرح ہمیشہ زیادہ رہتی ہے لیکن حکومت اِسے کم بیان کرتی ہے جس کے باعث ہمارے روپے کی غیرملکی کرنسیوں کے مقابلے قدر طے کرتے ہوئے روپے کی قدر مستحکم رکھی جاتی ہے۔ ایسا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں درآمدات اور برآمدات میں توازن نہیں اور ہم چونکہ زیادہ مالیت کی درآمدات کرتے ہیں اس لئے بھی پاکستانی روپے کی قدر بڑھاتے رہتے ہیں تاکہ درآمدات کرتے ہوئے زیادہ خسارہ نہ ہو لیکن ایسا کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ روپے کی غیرحقیقی قدر کی وجہ سے ہماری برآمدات متاثر ہوتی ہیں جوعالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اب سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک کیلئے غیرحقیقی روپے کی قدر کتنی اچھی ہے؟عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرنسی کی قدر اس کی اصل قیمت کے مقابلے 20فیصد زیادہ ہے اور اسی کی وجہ سے ملک کی برآمدات میں کمی کا رجحان ہے۔ مجھے عالمی بینک کی اس بات سے تو اتفاق ہے کہ پاکستان کی کرنسی کی قدر غیر حقیقی ہے لیکن اس بات سے اتفاق نہیں کہ یہ فرق بیس فیصد ہے بلکہ میرے حساب سے اور عالمی سطح پر کسی ملک کی کرنسی کا حساب کتاب کرنے کی کسوٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی کرنسی کی قدر10سے 12فیصد ہی زیادہ ہے۔

پاکستانی روپے کی قدر کا تعین سٹیٹ بینک آف پاکستان کرتا ہے دو مارچ کو وفاقی کابینہ کی اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی (ای سی سی) اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے فنانس سیکرٹری طارق باجوہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ آمدن و اخراجات میں عدم توازن‘ برآمدات کی زوال پذیری‘ صنعتوں کی پیداوار کم ہونے‘ ترسیل زر میں کمی اور تجارت میں خسارے سے متعلق خوفناک نقشہ پیش کیا میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان اقتصادی طور پر اس قدر برے حالات میں آ پھنسا ہے کہ اب زیادہ دیر روپے کی قدر کو غیرحقیقی اور اسکی اصل قیمت سے زیادہ رکھنے سے اقتصادی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہمیں اپنی برآمدات کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کا اہل بنانا ہوگا اور اس کے لئے ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر ایک سو بارہ سے ایک سو پندرہ روپے کے درمیان ہونی چاہئے اور جب تک ہم پاکستانی روپے کو اس کی حقیقی قدر واپس نہیں لوٹائیں گے اس وقت اقتصادی طور پر ملک عالمی مارکیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)