بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ذمہ داریوں کا احساس ضروری ہے

ذمہ داریوں کا احساس ضروری ہے


وزیراعظم نوازشریف دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام سے دست تعاون دراز کرنے کا کہہ رہے ہیں، لاہور کی جامعہ نعیمیہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ قوم کے سامنے دین کا حقیقی بیانیہ رکھنا ہوگا اور اسی بیانیے کی اساس پر معاشرہ سازی ہونی چاہئے، اس سب کیساتھ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ علاقائی اور صوبے کے نام پر نفرت کا کاروبار کیاجارہا ہے، مسلم لیگ بھی اس سازش کو ناکام بنائے گی، عین اسی روز جب وزیراعظم علماء کرام کو ذمہ داریوں کا احساس دلارہے تھے، وزیردفاع خواجہ آصف سیالکوٹ کی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب میں یہ کہہ رہے تھے کہ آج جن کے نشانے پر ہمارا ملک سوسائٹی اور نظام ہے ان کے ہاتھوں میں بندوقیں 30سال پہلے اس وقت کی ریاست نے تھمائی تھیں تاہم اس وقت مقاصد مختلف تھے، جہاں تک ذمہ داریوں کے احساس کا تعلق ہے تو یہ علماء کرام کیساتھ پورے ملک میں انفرادی اور اجتماعی سطح پرہر ایک کو کرنا ہوگا۔

وزیراعظم خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ملک میں علاقائی اور صوبوں کے ناموں پر نفرت کاکاروبار ہو رہا ہے اور مسلم لیگ اس سازش کوناکام بنائے گی یہ بھی ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کو نبھانے میں پوری سیاست قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اصلاح احوال میں ریاست کے پورے انتظامی سیٹ اپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلانا ہوگا جو حکومت کے زیر سایہ کام کرتا ہے، وطن عزیز میں اصلاحات کی ضرورت پوری انتظامی مشینری کیلئے ہے، آج حکومتی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کا ثمر عام شہری کو نہیں مل رہا، عوامی مسائل میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، مرکز اور صوبوں کے درمیان اہم معاملات پر اتفاق اور انہیں فوری طور سلجھانے کی ضرورت اپنی جگہ ہے، ملکی معیشت کو بیرونی قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرانا ایسی قومی ذمہ داری ہے جس سے پہلو تہی کسی صورت نہیں ہونی چاہئے اگر آج ہم نے ہر شعبے میں اپنے اپنے حصے کے کردار کا احساس وادراک نہ کیا تو صورتحال مزید بگڑتی چلی جائیگی۔

انتقال جائیداد کے نئے پرانے طریقے

ڈیڈک پشاور کے چیئرمین نے زمین وجائیداد کے انتقال کاپرانا طریقہ بحال کرنے حکم دیاہے ان کا کہنا ہے کہ پہلے انتقالات تحصیلدار کے دورے کے موقع پر ہوتے تھے جو محفوظ طریقہ تھا اب تحصیل دفتر میں انتقالات سے معاملات پیچیدہ ہو رہے ہیں انتقالات کے سنجیدہ عمل سے متعلق ڈیڈک کے سربراہ کا احساس قابل اطمینان ہے تاہم ریونیو ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے عمل میں تاخیر کیساتھ مشکلات میں اضافے کا نوٹس لینا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے، یہ سب اس صورت ممکن ہوسکتا ہے جب صوبے کی حکومت ڈیڈلائن کا اعلان کردے اس اعلان کے بغیر پٹوارخانے کی اصلاح کیلئے حکومت کے اقدامات کسی صورت ثمر آور نہیں ہوسکتے، آج بھی حکومتی سطح پر پورے خلوص کے باوجود عام شہری ریونیو کے حوالے سے اسی طرح مشکلات کا سامنا کررہا ہے جن کا ازالہ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے ہی ممکن ہے، ریونیو ریکارڈ کمپیوٹر سکرین پر آنے سے بہت سارے ایسے تنازعات سے بچاجاسکے گا جو صرف برسوں بعد سامنے آنے والی دھول سے اٹی پٹوار خانے کی فائل کھلنے پرپیدا ہوتے ہیں اور جن میں آپس کی لڑائیوں کیساتھ عدالتوں پر کیسوں کا بوجھ بھی بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔