بریکنگ نیوز
Home / بزنس / بعض عناصر سی پیک کے خلاف جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، احسن اقبال

بعض عناصر سی پیک کے خلاف جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، احسن اقبال


اسلام آباد۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بعض عناصر سی پیک کے خلاف جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں اور جاہلانہ پروپیگنڈا کررہے ہیں اسکی تردید اور مزمت کرتے ہیں، دنیا کے کئی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ چین کی صنعت ان کے ملک میں لگے اور سرمایہ کاری ان کے ملک میں جائے ،چین کی صنعت اگر پاکستان میں آرہی ہے تو اس سے اقتصادی شرح بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، آج تبدیلی آرہی ہے،ملک بہتری کی جانب گامزن ہے ، سی پیک نے پاکستان کو دنیا کا محبوب ترین سرمایہ کاری کے حوالے سے مرکز بنا دیا ہے، برطانیہ ‘ یورپ کے ممالک ‘ وسطی ایشیاء‘ سعودی عرب‘ ایران‘ جاپان سب سی پیک میں شامل ہونا چاہتے ہیں، امریکہ اور جاپان بھی سی پیک میں شمولیت کے لئے تعاون کرنا چاہتے ہیں،پاکستان کے سرمایہ کار بھی سی پیک کے تحت اکنامک زون میں صنعتیں لگا سکتے ہیں۔

سی پیک میں پاکستان کے مفاد کے منافی کوئی چیز شامل نہیں، سی پیک میں تمام صوبوں کے منصوبے شامل ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سمیت تمام وزراء اعلیٰ سی پیک کے لئے سفیر کا کردار ادا کررہے ہیں اور اپنے صوبوں کے لئے منصوبے سی پیک میں شامل کرانے کے لئے کوشاں ہیں،آج کے دور میں محض اسناد اپنی اہمیت کھو چکی ہیں اور آج علم اور صلاحیتوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے،حکیم محمد سعید کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں وہ نامور شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے معاشرے کی فلاح اور علم کے فروغ کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں، بیسویں صدی صنعتی انقلاب کی صدی تھی اور اکیسویں صدی تعلیمی انقلاب کی صدی ہے، پاکستان میں ترقی نہ ہونے کی وجہ پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور سیاسی عدم استحکام ہے۔ 65سال بعد ایک جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کی اور پھر کامیابی کے ساتھ اقتدار دوسری جمہوری حکومت کو منتقل کیا ،آ ج جن کو پاگلوں کے خواب کہا جاتا تھا حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کی 13ویں تقریب تقسیم اسناد منعقد کی گئی اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا۔پیر کو ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کی 13ویں تقریب تقسیم اسناد منعقد کی گئی ۔تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال تھے جبکہ اسلام آباد کے میئر شیخ عنصر عزیز نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال ‘ شیخ عنصر عزیز‘ چانسلر ہمدرد یونیورسٹی سعدیہ راشد اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالرحنان نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں وہ نامور شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے معاشرے کی فلاح اور علم کے فروغ کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی صنعتی انقلاب کی صدی تھی اور اکیسویں صدی تعلیمی انقلاب کی صدی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ فرسودہ تعلیم کو ترک کرکے جدید تقاضوں کے مطابق علم حاصل کرکے اس کو اپنایا جائے۔ آج کے دور میں محض اسناد اپنی اہمیت کھو چکی ہیں اور آج علم اور صلاحیتوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ہر ملک آج کوئی نہ کوئی مسئلے سے گزر رہا ہے ترقی کے لئے ضروری ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ پاکستان میں ترقی نہ ہونے کی وجہ پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور سیاسی عدم استحکام ہے۔ 65سال بعد ایک جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کی اور پھر کامیابی کے ساتھ اقتدار دوسری جمہوری حکومت کو منتقل کیا اور دوسری حکومت بھی اپنی مدت پوری کرے گی۔ ماضی میں ملک تجربہ گاہ بنا رہا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے اور ہم نتائج آج تک بھگت رہے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی استحکام آچکا ہے۔ پاکستان میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ جاپان اور کوریا نے ترقی کا جو سفر تیس سال میں کیا ہے وہ پاکستان دس سال میں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔ 2013 میں اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی ‘ مزدور سر پر کفن باندھ کر نکلتے تھے‘ معیشت زبوں حالی کا شکار تھی‘ اقتصادی ترقی کی شرح اڑھائی فیصد پر جامد ہوگئی تھی‘ دنیا کے کئی ادارے پاکستان کو خطرناک ترین ملک قرار دے رہے تھے۔ آج اٹھارہ سے بیس گھنٹے بجلی دستیاب ہے ‘ دنیا اور مغرب کے مستند جرائد پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشت قرار دے رہے ہیں۔ حکومت ان جرائد کو خرید نہیں سکتی یہ آزادانہ تجزیات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تبدیلی آرہی ہے اقتصادی شرح کی ترقی پانچ فیصد تک پہنچ چکی ہے‘ سی پیک نے پاکستان کو دنیا کا محبوب ترین سرمایہ کاری کے حوالے سے مرکز بنا دیا ہے۔ برطانیہ ‘ یورپ کے ممالک ‘ وسطی ایشیاء‘ سعودی عرب‘ ایران‘ جاپان سب سی پیک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور جاپان بھی سی پیک میں شمولیت کے لئے تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ سٹاک ایکس چینج ایشیاء کی بہترین مارکیٹ بن چکی ہے زرمبادلہ کے ذخائر 23ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ترقی کا سفر اسی رفتار سے جاری رہا تو پاکستان 2030 تک دنیا کی بیسویں بڑی معیشت بن جائے گا۔

جن کو پاگلوں کے خواب کہا جارہا تھا آج وہ حقیقت بن رہے ہیں۔ تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے خلاف بعض جاہل عناصر جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں اور کنفیوژن پیدا کررہے ہیں اس کی تردید کرتے ہیں اور مذمت کرتے ہیں۔ ساری دنیا کے ممالک یہ چاہتے ہیں کہ چین کی صنعت ان کے ملک میں لگے اور سرمایہ کاری ان کے ملک میں جائے اور چین کی صنعت اگر پاکستان میں آرہی ہے تو اس سے اقتصادی شرح بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ سی پیک میں پاکستان کے مفاد کے منافی کوئی چیز شامل نہیں۔ جاہلانہ پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔ سی پیک میں تمام صوبوں کے منصوبے شامل ہیں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سمیت تمام وزراء اعلیٰ سی پیک کے لئے سفیر کا کردار ادا کررہے ہیں اور اپنے صوبوں کے لئے منصوبے سی پیک میں شامل کرانے کے لئے کوشاں ہیں۔ میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہید حکیم محمد سعید کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ انہوں نے ہمدرد یونیورسٹی کے نجی تعلیمی شعبے میں خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ہمدرد یونیورسٹی اپنے معیار کو برقرار رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے وژن کے مطابق اسلام آباد کو دنیا کا جدید ترین شہر بنانے کے لئے تمام طبقہ فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ محنت کو اپنا شعار بنائیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ چانسلر سعدیہ راشد نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ گریجویٹس‘ پوسٹ گریجویٹس اپنی تعلیمی کامیابیوں میں دوسروں کی شراکت کو تسلیم کریں تب ہی وہ ملک اور معاشرے کی بہتری اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم‘ والدین اور تعلمی ادارے کوئی بھی اکیلے ان مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتا۔ تقریب میں وفاقی وزیر ترقی و منصو بہ بندی احسن اقبال نے کامیاب طلبہ میں اسناد تقسیم کیں۔