بریکنگ نیوز
Home / کالم / انسداد دہشت گردی کی درست حکمی عملی

انسداد دہشت گردی کی درست حکمی عملی


وفاقی حکومت کی تعریف بنتی ہے جس نے دینی قوتوں کو انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں شریک کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کیخلاف فتوے جاری کرنے سے آگے نکل کر دین کا اصل بیانیہ پیش کرنا ہے‘ دہشت گردی کے نظریات کے خاتمے کیلئے علماء حکومت سے تعاون کریں جامعہ نعیمیہ لاہور میں عالم اسلام کے اتحاد کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ’’علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ سماج کو دین کے بیانیہ سے آگاہ کریں معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دہشت گردی کے سہولت کار بن رہے ہیں دہشت گردوں نے جہاد کے پاکیزہ تصور کو مسخ کیا‘ دہشت گردی کیلئے دینی دلائل تراشے جاتے ہیں‘ جنہیں علماء کرام نے مسترد کرنا ہے۔‘‘مسلم لیگ نواز کی حکومت کو دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں حکومت ملی تو وراثت میں بدترین دہشت گردی سمیت لوڈشیڈنگ‘ لاقانونیت اور اِداروں کی تباہ حالی سمیت ملنے والے دیگر متعدد مسائل بھی شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوششیں ضرور کیں مگر دہشت گردی کا خاتمہ اْس ماحول میں ممکن نہیں تھا اسی دور میں دہشت گردوں کی کچھ سیاسی و مذہبی جماعتیں کھل کر حمایت کرتی تھیں دہشت گردوں کا معاشرے اور ذرائع ابلاغ میں ایک دبدبہ اور خوف تھا عمومی طور پر انکے خلاف آواز بلند نہیں ہوتی تھی پیپلز پارٹی کی حکومت نے انکے ساتھ مذاکرات کا آپشن مسترد کر دیا تھا پیپلز پارٹی کے حلقے بینظیر بھٹو کے قتل میں آج بھی بیت اللہ محسود کو ملوث قرار دیتے ہیں ۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا آپشن اختیار کیا ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی اس عمل کے دوران بھی انکی طرف سے دہشت گردی جاری رہی ‘فوج نے ضرب عضب کا آغاز کر دیا جس کی حکومت نے تائید کی‘ جس کی کامیابی کے ثمرات قوم کے سامنے ہیں مسلم لیگ نواز اقتدار میں آئی تو روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی ہوتی تھی بعض دنوں میں تو ایک سے زیادہ بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے تھے ضرب عضب کے باعث حالات میں تبدیلی آئی اسی کے سبب وزیراعظم نواز شریف یہ کہنے کے قابل ہوئے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور اکا دکا بچنے والوں کو بھی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کیساتھ مذاکرات کیلئے جن لوگوں نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا‘ یہ انکے ساتھ رابطوں ہی کی بدولت ممکن ہو سکا تھا انہوں نے یہ حکومت کی خواہش پر کیا۔ کیا اب مذاکرات کے سہولت کاروں کے کالعدم ’ٹی ٹی پی‘ کے رہنماؤں کیساتھ رابطے ختم ہو گئے ہیں؟ بالفرض! حکومت کو انہی کیساتھ پھر مذاکرات کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا انہی قوتوں کی پھر خدمات حاصل کی جائیں گی؟ کالعدم ٹی ٹی پی کیساتھ مذاکرات کے پرجوش حکومتی زعما بھی کیا اپنے دل سے شدت پسندوں کیلئے نرم گوشہ نکال چکے ہیں؟

گو آج حالات ایسے بیانیہ کیلئے نسبتاً سازگار ہیں مگر علمائے کرام کو بیانیہ کیلئے حکومت کا تعاون اور بیانیے کے فروغ کیلئے حکومتی مشینری و سپورٹ درکار ہے۔دہشت گردی اب مقامی مسئلہ نہیں رہا‘ اسکی جڑیں پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں دہشت گرد بجا طور پر دین کو اپنے بیانیے اور مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں‘ ان کے نظریات کو رد کرنے کیلئے عالمی سطح پر کوششوں کی بھی ضرورت ہے اس کے لئے ’او آئی سی‘ کا پلیٹ فارم استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان میں حق کی آواز بلند کرنیوالے علماء موجود اور نمایاں بھی ہیں اسی طرح وہ لوگ اور انکے سرپرست بھی روپوش اور زیر زمین نہیں ہیں جو جہاد کے نام پر فساد کو فروغ اور قتل و غارت گری کو جائز قرار دیتے ہیں حکومت نے بجا طور پر دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے قوم اور سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا مگر انکے خلاف جس حد تک حکومت کو جانا چاہئے اس میں مصلحتیں دباؤ مفادات اور سیاسی وابستگیاں کار فرما نظر آتی ہیں ضرب عضب کے دوسرے مرحلہ میں ’ردالفساد‘ جاری ہے دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ضرب عضب ہی کافی تھا بشرطیکہ حکومت اپنے تشکیل کردہ انسداد دہشت گردی کے ’نیشنل ایکشن پلان‘ پر بلا کم و کامت عمل کرتی دہشت گردوں کے رابطہ کار اور سپورٹر سارے کے سارے زیر زمین نہیں ہیں البتہ وہ کھل کر اب ان کی حمایت نہیں کرتے مگر وہ تو پارلیمنٹ اور اقتدار کے ایوانوں تک میں بھی موجود ہیں ان پر ہاتھ ڈالنے تک ارض پاک دہشت گردوں کے وجود سے پاک نہیں ہو سکتی۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: سہیل میمن۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)