بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / افسر یا خادم

افسر یا خادم


زیور خان برسوں ایک محکمے میں سیکشن افسر رہے محنتی تھے اسلئے سارے قوانین ازبر کرلئے تھے یوں ہر معاملے میں سیکرٹری سے لیکر سپرنٹنڈنٹ تک انکے مشورے کے محتاج تھے۔میں ان کو ٹائپ رائٹر کے زمانے سے جانتا تھا جب وہ صبح سویرے ہی آکر خود ہی آفس آرڈر لکھا کرتے تھے انکے دفتر میں عموماً سائلین کا ہجوم ہوا کرتا تھا زیورخان کا ڈیسک گریڈ اٹھارہ سے لیکر گریڈ بیس تک کے افسروں کی ترقی سے متعلق تھا اور اسلئے انکے سائلین ہماشما نہیں بلکہ بڑے بڑے افسر ہوتے تھے جو اپنی ترقی کیلئے فائلوں کے بنڈل لیکر موصوف کے در پر حاضر ہوتے تھے اتنی اہم پوزیشن پر ہوتے ہوئے زیور خان میں بھی تفاخر اور نخوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ایک دفعہ میں نے بھی ایک رشتہ دار کے ہمراہ قدم بوسی کا شرف حاصل کیاتھا میرے رشتہ دار وہیں سیکرٹریٹ میں ایک دوسرے شعبے میں ڈائریکٹر تھے اور زیور خان کے گاؤں ہی سے تعلق رکھتے تھے لیکن اپنے دفتر میں زیورخان کسی کو عزت دینے کے حق میں نہیں تھے چنانچہ انیس گریڈ کے دوست انکے میز کے پاس کھڑے رہے اور زیور خان نے سراٹھا کردیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی اسکے بعد سے میں نے عہد کیا کہ کبھی کسی افسر کے پاس دفتر میں کسی کام سے نہیں جاؤں گا مجھے اسکی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا جب سرکاری ملازمت میں تھا تو کئی سال تک میری ترقی رکی رہی اور صرف اسلئے کہ میں نے سرکار کے چرنوں میں حاضری سے گریز کیا اب بھی یہ صورتحال ہے کہ پندرہ برس ہونے کوہیں میں نے سرکاری ملازمت چھوڑی ہے اور مجھے تاحال اپنی پنشن نہیں ملی۔ پچھلے دنوں مجھے زیور خان ملے وہ ریٹائر ہوچکے تھے اب کوئی انکو سلام کرنے تک کا روادار نہیں مجھ سے کئی ساتھیوں کا گلہ کیا کہ جب تک سروس تھی تو عزت و احترام سے ملتے رہے اب معمولی کام بھی ہو تو وہی لوگ گھاس تک نہیں ڈالتے انکا ایک بیٹا ایف ایس سی میں کم نمبروں سے پاس ہوا تھا کئی ڈاکٹرہیں جنہوں نے پرائیویٹ میڈیکل کالج بنائے ہوئے ہیں زیورخان بڑی توقع لیکر ایک ایک کے پاس گئے پرانے تعلقات کے واسطے دےئے لیکن سب نے آنکھیں ماتھے پر سجالی تھیں اور بیٹے کو داخلے کیلئے فیسوں میں رعایت کرنے کو تیار نہ تھے۔

بعض تو صاف انکار کردیتے تھے زیور خان کے چہرے پر برستی بے چارگی دیکھ کر مجھے وہ لوگ یاد آگئے جو سائل بن کر انکی منتیں کرتے تھے اور زیور خان مفت میں فائل ایک میز سے دوسری میز تک لے جانے کے روادار نہیں ہوتے تھے۔ مجھے بیس گریڈ کے اپنے ایک پروفیسر یاد آئے جو ریٹائر ہونے سے قبل زبردست رعب رکھتے تھے لیکن زیور خان کے دفتر آتے تو اسے ’سر سر‘ کہہ کر مخاطب ہوتے اور زیور خان کن اکھیوں سے اپنے دفتری ساتھیوں کو مسکراہٹ کیساتھ دیکھتے۔ سرکاری نوکر بظاہر تو حقیر سا لگتا ہے لیکن اس کرسی پر بیٹھنے والے عام سائلین کیساتھ جس فرعونیت کا مظاہرہ کرتا ہے وہ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی کرسی پر بیٹھنے والا اپنے آپ کو عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والا نہیں سمجھتا بلکہ عوام اسے کمی کمین لگتے ہیں اور اس میں درجے اور ملازمت کا کوئی فرق نہیں گریڈ چار کا اردلی ہو یا گریڈ بائیس کا افسر ، عوام کو نیچی نظر ہی سے دیکھتا ہے بھلا ہو نیب اور دوسرے احتسابی اداروں کا کہ میں نے حاضر سروس ایسے افسروں کو ہسپتال میں داخلے کیلئے منتیں کرتے دیکھا ہے جو اپنے دفتر کے دروازے عوام پر بند ہی رکھتے کیونکہ نیب نے ان کو گرفتار کیا ہوا تھا اور جیل کی ہوا کھانے سے بچنے کیلئے ڈاکٹر کی زاری منتیں کرنے پر مجبور ہوتے مہذب ملکوں میں سرکاری ملازمین عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اسی لئے انکی عزت میں ریٹائر منٹ کے بعد کوئی فرق نہیں پڑتا انکے دفاتر کا ماحول ہمارے ہاں کے کارپوریٹ کلچر میں نظر آتا ہے آپ کسی بھی ملٹی نیشنل کمپنی کے دفتر میں داخل ہوں تو افسر آپ کیلئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے حتیٰ کہ موبائل میں سو روپے کا بیلنس ڈالنے کیلئے بھی آپ کسی ایسے دفتر میں داخل ہوں گے تو سارے ملازمین آپ کو اس تپاک سے ملتے ہیں گویا آپ ہی کی وجہ سے تو کمپنی چل رہی ہے اس کلچر میں اردلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہر شخص کو اپنی چائے کی پیالی خود بنانا پڑتی ہے اور اپنی سیٹ کی صفائی بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں ایسی ایسی غیرملکی کمپنیاں ہیں کہ ان کا صرف سالانہ منافع پاکستان کے پورے بجٹ سے زیادہ ہوتا ہے لیکن ان کے سامنے یہی کمی کمین وی آئی پی ہوتے ہیں جنہیں ہمارے سرکاری دفاتر میں گھسنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی مشرف کی حکومت نے نادرا کے نام سے ایک ایسے ہی کلچر والے محکمے کی ڈیل ڈالی جہاں سائلین کیساتھ اسی خوش اخلاقی سے پیش آنے کو مقدم سمجھا جاتا تھا تاہم جب پاسپورٹ کے دفتر میں ایف آئی اے کی طرف سے افسران کی تعیناتی ہوگئی تو وہاں وہی افسرانہ کلچر در آیا۔ سرکاری ملازمین بنیادی طور پر عوام کی خدمت کے نام پر میرے اور آپکے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ یہ سرکاری دفاتر اسی طرح سے عوامی سہولت دیں جس طرح سے ملٹی نیشنل کمپنیاں کسٹمر سروس فراہم کرتی ہیں عوام کیساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا ان سرکاری ملازمین کے حق میں بھی ہے کیونکہ ریٹائر منٹ کے بعد ان کو بھی اسی احتیاج کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جب یہی افسران سائل بن کر اپنے ہی دفتر کے طواف کرتے ہیں تو اس وقت شاید یہ تاسف کرتے ہوں کہ کاش انہوں نے ہی اپنے دفتر کو عوام دوست بنانے کی کوشش کی ہوتی یہی افسران جب پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھاری فیسیں دیکر علاج کرواتے ہیں تو کاش ان کو یاد آئے کہ انہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں کی ترقی میں کیا حصہ ادا کیاتھا جب انکے بچے پرائیویٹ اداروں میں پڑھتے ہیں اور انکو ہر ماہ بھاری فیس دینی پڑتی ہے آج پنشن کیلئے دربدر پھرنے والوں کواسوقت اسکا نظام آسان بنانا تھا جب وہ حاضر سروس تھے آج نیب اور دوسرے احتسابی اداروں کے قید خانوں میں سڑنے والے افسروں کو چاہئے تھا کہ ایسے قوانین بناتے جو محض الزام پر کسی ملزم کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کیخلاف ہوتا اور پولیس کو صرف اسی وقت گرفتاری کا حق ہوتا جب جرم ثابت ہوجاتا۔

عوام کو روزانہ صرف بلوں کی ادائیگی کیلئے جتنا خوار ہونا پڑتا ہے، کل کو یہ ریٹائر ملازمین خود بھی اسی نظام سے گزریں گے۔مجھے یاد ہے کہ کس نخوت سے ایک وفاقی ڈپٹی سیکرٹری نے پشاور میں برن وارڈ کی فائل پر فضول لکھ کر ہماری ساری محنت پر پانی پھیر دیا تھا اور اسکی ریٹائرمنٹ کے چند ہی ماہ بعد اسکی اپنی بھابھی کس طرح گھر میں جل گئی تھی اور کئی ماہ جان کنی کی حالت میں رہی۔اب دنیا میں حکومت کا نظام بدل رہا ہے شاندار دفاتر کی بجائے ایک بڑے ہال میں چھوٹے چھوٹے کابکوں میں کام کرنیوالے ملازمین پر نظر رکھنا آسان ہوجاتا ہے کمپیوٹر اور ای میل، انٹر نیٹ کے زمانے میں اردلی اور ٹائپسٹ کی اسامیوں کی کوئی گنجائش نہیں مستقبل کارپوریٹ کلچر کا ہے کاغذی فائلوں کی بجائے کمپیوٹر میں رکھے ڈیٹا پر کام کرنا چاہئے۔ گڈ گورننس ، ای گورننس سے ہی ممکن ہے اور اس میں فضول خرچی اور التوا سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ چیف سیکرٹری اور دوسرے محکموں کے سیکرٹریوں کیلئے موقع ہے کہ ریٹائر ہونے سے قبل اس نظام میں کسی خوبی کا تو اضافہ کریں کہ کل ان کو ہم اچھے نام سے یاد کرسکیں۔