بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / برطانوی پارلیمنٹ کے دارالامرا نے “بریگزٹ” بل کی منظوری دیدی

برطانوی پارلیمنٹ کے دارالامرا نے “بریگزٹ” بل کی منظوری دیدی


لندن ۔برطانوی حکومت کی جیت، پارلیمنٹ کے ایوان بالا دارالامرا نے یورپی یونین سے اخراج کے لئے آرٹیکل پچاس کو متحرک کرنے کی اجازت دے دی۔ برطانوی دارالامرا کے دو سو چوہتر ارکان نے وزیر اعظم تھر یسا مے کو آرٹیکل پچاس متحرک کرنے کی اجازت دے دی جبکہ ایک سو اٹھارہ نے مخالفت کی۔ اس سے پہلے دارالامرا نے ایوان زیریں دارالعوام کے پاس کئے مسودے میں ترامیم تجویز کی تھیں لیکن دارالعوام نے انہیں مسترد کر دیا تھا۔ اب یہ مسودہ ملکہ برطانیہ کی منظوری کے لئے بھیجا جائے گا۔ وزیراعظم رواں ماہ کے آخر تک یورپی یونین کے معاہدہ لزبن کے آرٹیکل پچاس کے تحت بریگزٹ کی کارروائی شروع کریں گی۔

وزیر اعظم اصولی طور پر آرٹیکل 50 کے تحت باقاعدہ طور پر بریگزٹ کے عمل کا جلد از جلد آغاز کر سکتی ہیں۔تاہم ڈاوننگ سٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا اس ہفتے تو نہیں ہوگا اور امکان ہے کہ وزیر اعظم رواں ماہ کے اختتام تک یورپی یونین کو برطانیہ کے ارادوں سے آگاہ کرنے کے لیے انتظار کریں گی۔اس سے قبل برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں نے حتمی ووٹ کے ذریعے برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے مذاکرات کے آغاز کی منظوری دی تھی۔ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی عدالت عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ بریگزٹ پر عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ پارلیمان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جائے۔ اس عدالتی فیصلے کا مطلب یہ تھا وزیراعظم ٹریزا مے ارکان پارلیمان کی منظوری کے بغیر یورپی یونین کے ساتھ بات چیت شروع نہیں کر سکیں گی۔خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔