بریکنگ نیوز
Home / کالم / اندھا اعتقاد

اندھا اعتقاد


آخر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں اکثر تعجب میں پڑ جاتا ہوں کہ پاکستان کے لوگ اپنے ساتھ ہونے والی روزانہ کی تکالیف کو آخر خاموشی سے سہتے کیوں جاتے ہیں۔ وہ ملک میں پھیلی نااہلی اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کیلئے اٹھ کھڑے کیوں نہیں ہوتے؟ بنیادی تعلیم اور صحت کو دیکھیں تو ریاست لگ بھگ کچھ بھی تو فراہم نہیں کرتی۔ چوراسی فیصد پاکستانیوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے اور عوام دہشت گردوں اور مجرموں کے مسلسل خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تو پھر آخر کیوں لوگ بہتر حکمرانی کے مطالبے کے لئے سڑکوں پر نہیں نکلتے؟ بدترین طبی دیکھ بھال ایک عام بات بنی رہتی ہے کیوں کہ ڈاکٹرز اور نرسز کو معلوم ہے کہ ان کی غلطیاں نہ تو منظر عام پر آئیں گی اور نہ ہی کسی کو کوئی سزا ملے گی۔ اس کے برعکس دیگر ملکوں میں اسی طرح کی پیشہ ورانہ لاپرواہی یا غلطیوں کرنے پر مقدمہ دائر کر دیا جاتا۔ یہ رویہ معاشرے میں اس گہرائی سے بس گیا ہے کہ جب بھی پالیسی ساز‘ سیاستدان‘ بیوروکریٹس‘ اہلکار اور مختلف پیشہ ور اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام جاتے ہیں یا مایوس کن کارکردگی پیش کرتے ہیں تو اس رویئے کی وجہ سے انہیں بچ نکلنے کا آسانی سے نکلنے کا موقع مل جاتا ہے اور جب نااہلی پر ہی ذرا توجہ نہ دی جائے تو اصلاحات اور بہتری کے لئے تحریک بھی ممکن نہیں ہو پاتی۔ لہٰذا لگاتار ہونے والے جان لیوا حملوں کے بعد بھی کوئی تبدیلیاں رونما نہیں ہوتیں‘ یوں حکومت کسی بھی قسم سے الزام سے بَری ہو جاتی ہے۔

جہاں صبر کرنے سے درد اور غم کو برداشت کرنے میں مدد ملتی ہے وہاں یہ رویہ اس غم و غصے کو کم کر دیتا ہے جو کہ غیر ضروری تکالیف سے ایک انسان میں پیدا ہوتا ہے لہٰذا ذاتی یا سرکاری نااہلی کے باعث ہونے والے کسی بھی واقعے کے بعد وکیل بلانے یا سڑک پر احتجاج کرنے کے بجائے ہم صرف خود کو تسلی دیتے ہیں ‘1571ء میں معرکہ لیپانٹو کے موقع پر سلطنتِ عثمانیہ کی بحری فوج کو ہولی لیگ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک غیر معمولی بحری جنگ تھی اور اس کے نتیجے نے سلطنت عثمانیہ کی بحرۂ روم میں پیش قدمی کے خاتمے کا اشارہ دے دیا۔ گزشتہ نومبر میں جب گڈانی میں ایندھن کے جہاز میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں متعدد مزدور ہلاک اور زخمی ہوئے‘ اس کی وجہ بالکل صاف تھی: اسٹیل نکالنے کے لئے ساحل پر لنگر انداز ہونے والے اس بحری جہاز کے مالک نے اس میں مبینہ طور پر اسمگل شدہ ایندھن رکھا ہوا تھا۔ چنگاریاں نکالتی ویلڈنگ میں مصروف مزدور اس بڑے خطرے سے بے خبر تھے اور نتیجے میں ایک تباہ کن دھماکہ ہو گیا۔ کئی افسران اور سیاستدان جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ میڈیا نے ٹینکر کا جائزہ لینے میں انتظامیہ کی ناکامی پر تنقید کی مگر دن کے آخر میں تمام متعلقہ افراد اپنے سروں کو ہلاتے ہوئے سرگوشی میں کچھ بولنے لگے‘ پورے ملک میں موجود کانوں اور صنعتوں میں ایسا ہونا ایک عام سی بات ہو گئی ہے مگر ہر حادثے کے بعد کچھ نہیں بدلتا اور اسے معمول ایک حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ رویہ ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور قصورواروں کو بَری ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

’’خدا ان کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں‘‘ اس قول کو بھولتے ہوئے ہم نا سمجھی کے دلدل میں پھنسے جا رہے ہیں اس میں شک نہیں کہ زندگی کا حقیقی مقصد دنیاوی زندگی کے بعد کی تیاری ہے۔ اگر آپ ایک غریب اور کمزور پیدا ہوتے ہیں‘ تو آپ کو اگلی زندگی میں اس کا صلہ ملے گاتاہم جب تک کہ ہم اپنے تمام اقدامات کی ذمہ داری خود نہیں اٹھا لیتے‘ تب تک ہم مردہ دلی کی دلدل میں دھنستے جائیں گے، مسائل اور مشکلات کی ذمہ داری قبول کرنے کی عادت ہونی چاہئے اور ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ممکنہ وسائل کو کام میں لانا ہی ایک ہوشیار اور زندہ قوم کا طرز عمل ہے، اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑنا اور وسائل و اسباب کو برابر نہ رکھنا کسی بھی طرح نہ اسلامی طرز عمل ہے اور نہ ہی عقل اور فہم کے مطابق۔ہماری جو معاشرتی حالت ہے یا ہمیں جن مشکلات اور مسائل کا بحیثیت قوم سامنا ہے ان سب کیلئے قوم کے ہر فرد کو انفرادی ذمہ داری کا احساس اور اپنے مقام کا تعین کرنا ہوگا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عرفان حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)