Home / کالم / امجد حسین / ڈاکٹر غلام شبیر کے ساتھ پشاور شہر کے سیر

ڈاکٹر غلام شبیر کے ساتھ پشاور شہر کے سیر

ڈاکٹر غلام شبیر ہمارے شہر کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ آپ فزیشن ہیں اور خیبر میڈیکل کالج میں پروفیسر آف میڈیسن کے عہدے پر فائز ہیں۔ میں یہ کالم شبیر صاحب کی ڈاکٹری کے حوالے سے نہیں لکھ رہا۔ میں ڈاکٹر شبیر آرٹسٹ کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ڈاکٹر موصوف ایک بہت ہی منجھے ہوئے آرٹسٹ ہیں اور ان کی تصاویر اندرون شہر کے گھروں اور ان گھروں میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
ڈاکٹر شبیر نے تصویر کشی بغیر کسی ٹریننگ کے شروع کی۔ جوں جوں وہ تصویریں بناتے رہے۔ ان کے فن میں پختگی آتی گئی۔ اب ان کی تصویروں کی نمائش نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی ہوتی ہے اور انہیں کئی ملکی اور غیر ملکی انعامات مل چکے ہیں۔
شبیر صاحب پانی اور رنگوں کے امتزاج سے تصویریں بناتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ انتہائی مشکل آرٹ فارم ہے۔ آئل پینٹنگ بناتے وقت کوئی غلطی ہوجائے تو وہ آسانی سے درست کی جاسکتی ہے لیکن واٹر کلر میں معمولی سی بھی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لئے ایک مشاق اور چابکدست واٹر کلر آرٹسٹ کی حیثیت سے ڈاکٹر شبیر عزت اور توقیر کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب چھٹی والے دن علی الصبح اندرون شہر کی مٹرگشت کے لئے جاتے ہیں کیمرہ ساتھ ہوتا ہے نئے سورج کی تازہ کرنوں کی روشنی میں شہر کی گلیوں میں نئے زاویے ڈھونڈتے ہیں اور کیمرے میں اتار لیتے ہیں۔ کوئی دو ہفتے ہوئے ان کی دعوت پر میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ شبیر صاحب کی طرح پشاور کا اندرون شہر میرا بھی دیکھا ہوا ہے۔ ان کی پیدائش مسجد گنج علی خان سے ملحق گلی کے مہرے والے مکان میں ہوئی تھی اور میری پیدائش مسلم مینا بازار میں پرائمری سکول کے سو قدم آگے‘ سید پوری سٹریٹ کے ساتھ ہوئی تھی‘ شہر تو ہم دونوں کا جانا پہچانا ہے لیکن وہ شہر کو ایک آرٹسٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور میں شہر کو تہذیب و تمدن‘ روایات اور رسومات کی روشنی میں دیکھتا ہوں‘ ہم نے اپنی گشت تحصیل گورگٹھڑی سے شروع کی اس وقت سورج طلوع ہورہا تھا۔ بازاروں میں سناٹا تھا۔ ٹریفک خال خال تھی۔ شہر کے خدوخال انہی حالات میں اجاگر ہوتے ہیں۔

ہم کریم پورہ کے اطراف کی گلیوں میں گھومے ان میں سے کئی گلیاں میری دیکھی ہوئی نہیں تھیں انہوں نے ان مکانات کی نشاندہی کی‘ جن کی پینٹنگز انہوں نے بنائیں تھیں مجھے ایک تصویر اچھی طرح یاد تھی مکان دیکھنے کے بعد تصویر کا عنوان بھی ذہن میں ابھرا۔ عنوان تھا حجلہ عروسی‘ تصویر میں اوپر والی منزل کی بارک نما کھڑکیاں کھلی ہوتی تھیں اور ان میں سے کھڑکیوں کے ریشمی پردے‘ باہر ہوا میں لہرا رہے تھے۔ پردوں اور کھڑکیوں کے پیچھے کا منظر آپ کا اور شبیر صاحب کا ذہن جانے۔ مجھے تو پشاور شہر کے گھروں کے وہ کمرے یاد آگئے جو دلہا دلہن کی پہلی ملاقات کے لئے سجائے جاتے تھے۔ انواع و اقسام کا فروٹ‘ مٹھائیاں اور مشروبات کمرے میں رکھے جاتے تھے۔ کیا معلوم شبیر صاحب کی بنائی ہوئی تصویر میں بھی پس پردہ یہ لوازمات موجود ہوں اور دلہا دلہن اپنی زندگی کے سفر کا پہلا قدم رکھ رہے ہوں۔ دیکھیں ایک تصویر ہمیں کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ صرف تخیل کی باگ ڈھیلی کرکے اس کو ایڑھ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم نے گھنٹہ گھر کے آس پاس مچھلیوں کی خرید و فروخت بھی دیکھی اور کیمرے سے تصویریں بنائیں۔ ہوسکتا ہے ڈاکٹر شبیر مچھلی مارکیٹ کو بھی کینوس پر اتار لیں۔ وہیں ایک بند دکان کے تختے پر ایک سفید ریش آدمی ناشتہ کررہا تھا۔ چھوٹی چینک اور دو بلغمی پیالیاں‘ ایک گول ٹرے (مجمے) میں رکھے وہ تندوری روٹی اور ملائی سے ناشتہ کررہا تھا مجھے بہت ہی خوشی ہوتی اگر میں اس بزرگ کے ساتھ تختے پر بیٹھ کر چائے کی ایک پیالی سے لطف اندوز ہوتا۔
ڈاکٹر غلام شبیر جہاں گلی یا بازار میں بارش کے پانی کے گڑھوں کو دیکھتے تھے تو نیچے جھک کر یا بیٹھ کر اس پانی میں سے عمارت‘ گھر یا کسی دکان کے عکس کی تصویر لیتے تھے۔ جب وہ اس قسم کی تصاویر لے رہے تھے تو مجھے داؤد کمال کی انگریزی نظم کا ایک بند بہت یاد آیا۔
مرحوم داؤد کمال کا تعلق پشاور سے تھا اور وہ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کے چیئرمین تھے۔
Look, How I have captured yesterday’s sun in a handful of water.
’’دیکھو میں نے کیسے گزشتہ روز کے سورج کو ایک چُلو بھر پانی میں مقید کرلیا ہے‘‘ ہمارے ڈاکٹر غلام شبیر بھی پشاور کی گم گشتہ سنہری تاریخ‘ سڑک کے کنارے پانی کے گڑھوں میں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اور پھر چابکدستی سے وہ عکس کینوس پر منتقل کرتے رہتے ہیں۔