بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بلوچستان،مردم شماری میں حصہ لینے والے تین اساتذہ اغواء

بلوچستان،مردم شماری میں حصہ لینے والے تین اساتذہ اغواء


کوئٹہ۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران سے مردم شماری میں حصہ لینے والے تین سرکاری ملازمین کو اغوا کر لیا گیا ۔ ان افراد کو ضلع کے علاقے گیشگور سے اغوا کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اغوا ہونے والے یہ تینوں افراد اساتذہ ہیں جو کہ مردم شماری سے متعلق تربیت حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ سرکاری حکام کے مطابق آواران بھی بلوچستان کے ان 15 اضلاع میں شامل ہے جہاں پہلے مرحلے میں مردم شماری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

کوئٹہ میں محکمہ شماریات کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مردم شماری کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جن 15 اضلاع میں پہلے مرحلے میں مردم شماری کا عمل مکمل کیا جائے گا ان میں مردم شماری سے متعلق تمام اشیاء4 فراہم کی جا چکی ہیں۔دوسری جانب بلوچستان کی بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے مردم شماری کے حوالے سے بڑے پیمانے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ان کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ مردم شماری کے عمل سے پہلے افغان مہاجرین سمیت تمام غیر ملکیوں کو واپس بھیجا جائے اور شورش کے باعث بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو ان کے علاقوں میں دوبارہ آباد کیا جائے۔

ان تحفظات کے علاوہ ایک بلوچ عسکریت پسند تنظیم کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مردم شماری کے عمل کو سبوتاڑ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔تاہم کمشنر شماریات کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے حوالے سے سکیورٹی کا کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے عملے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی کے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔