بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حسین حقانی کی باتیں قومی سلامتی کے منافی ہے، خواجہ آصف

حسین حقانی کی باتیں قومی سلامتی کے منافی ہے، خواجہ آصف


اسلام آباد۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حسین حقانی کی باتیں قومی سلامتی کے منافی ہیں گزشتہ دور حکومت میں سکیورٹی اداروں کو پس پردہ رکھتے ہوئے ہزاروں امریکیوں کو ویزے جاری کئے گئے اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم ہونی چاہئے جو میمو گیٹ ، ایبٹ آباد کمیشن سمیت دیگر کمیشن کی رپورٹس طلب کر سکیں ۔ مڈل ایسٹ میں آرمی کی کوئی بریگیڈ نہیں بھیجی ان کے ساتھ 1982 سے معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت آرمی کے جوان وہاں جاتے ہیں یمن کے مسئلہ میں پاکستان مداخلت نہیں کرے گا ۔ حسین حقانی کے بیان پر پیر کو ایوان زریں میں پالیسی بیان دیا جائے گا ۔

بدھ کو ایوان زریں میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ حسین حقانی کی باتیں قومی سلامتی کے منافی ہیں مسلم لیگ نواز میمو گیٹ کا کیس سپریم کورٹ میں لے کر گئے ۔ حسین حقانی اجازت لے کر امریکہ گئے تھے مگر واپس نہیں آئے یہ سارا مسئلہ ریکارڈ پر ہے ۔ حسین حقانی نے اس وقت کے دو اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگوں پر الزام لگایا ان کے بیان کو اس وقت کے صدر اور وزیر اعظم نے تصدیق کی ۔ پیر کو اس مسئلہ پر ایک پالیسی بیان دوں گا اور ایک پارلیمانی کمیشن بھی قائم کیاجائے اس ایوان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہر دو سے تین ماہ بعد اس طرح کے سر اٹھائے جاتے ہیں لوگوں کو ویزے جاری کئے گئے جس میں سابق وزیر داخلہ بھی ملوث تھے ۔ صدر زرداری بھی امریکی حکام سے تعلقات بڑھانے کی باتیں کرتے تھے ایک کمیشن بنایا جائے جو پارلیمان کے اراکین پر مشتمل ہو ۔ حسین حقانی نے پہلی مرتبہ پاکستان کی سکیورٹی پر یا سکیورٹی اداروں پر بات نہیں کی بلکہ پہلے بھی کر چکے ہیں انہوں نے خود کہاکہ سکیورٹی اداروں کو پس پردہ رکھتے ہوئے ہزاروں امریکیوں کو ویزے جاری کئے گئے ۔ اس ایوان کو مسئلہ کی تحقیق کرنی چاہئے ۔ سپریم کورٹ میں میمو گیٹ کے حوالے سے ریکارڈ سمیت تمام چیزیں سامنے لائیں گے ۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے بات ہونی چاہئے میں نے حسین حقانی کو غدار کہا ہے خوشی ہے کہ پارلمانی کمیٹی بنانے کی بات کی گئی ہے ۔ ڈان لیکس ، میمو گیٹ سکینڈل سمیت تمام متنازعہ چیزیں ایوان میں آنی چاہئے ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے ۔اس سے پارلیمنٹ کی اہمیت بڑھے گی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن شفقت محمود نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سپورٹ کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ مڈل ایسٹ کی میڈیا میں بات چل رہی ہے کہ پاکستان کی ایک بریگیڈ تعینات کی گئی ہے اس حوالے سے وزیر دفاع ایوان کو آگاہ کر دیں ۔خواجہ آصف نے کہاکہ ہم نے کوئی بریگیڈ نہیں بھیجی ہمارا ان سے 1982 سے معاہدہ ہے فوجی پہلے ہی موجود ہیں ۔ یمن کے مسئلہ پر پاکستانی افواج کوئی مداخلت نہیں کرے گی ۔ پارلیمنٹ کی قرار داد کو اہمیت دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ دو اسلامی ممالک کے مسئلہ پر پاکستان نہیں آئے گا ۔ ایم کیو ایم کے رکن صلاح الدین نے کہاکہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کا کیا بنا ۔ پارلیمانی کمیٹی ضروری بننی چاہئے ۔

حسین حقانی کے تمام لوگوں سے تعلقات کا پتہ ہونا چاہئے ۔ خواجہ آصف نے کہاکہ اس کمیٹی کو اختیار ہونا چاہئے کہ وہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی منگوائے ۔ایم این اے عارف علوی نے کہاکہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پہلے ہی سامنے آ جائے تو بہتر ہے اس کمیٹی پر بوجھ نہ ڈالا جائے اس کمیشن کو میڈیا کے سامنے ہونا چاہئے ۔ کتنے لوگوں کو ویزے جاری کئے گئے ۔انہوں نے پاکستان کی سڑکوں میں دندانتے پھرتے ہوئے انہوں نے ناحق قتل کئے ۔ ان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے ۔ اس پر ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن متفقہ طور پر کمیشن کے ٹی او آر طے کر کے قرار داد پیش کریں گے ۔