Home / بزنس / تجارتی جنگ ہوئی تو پہلی چوٹ امریکہ پر پڑے گی ، چینی وزیر اعظم

تجارتی جنگ ہوئی تو پہلی چوٹ امریکہ پر پڑے گی ، چینی وزیر اعظم

بیجنگ ۔ چین کے وزیر اعظم لی کی کیانگ نے کہا ہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے درمیان تجارتی جنگ نہیں چاہتا کیونکہ یہ ہماری تجارت کو شفاف اور منصفانہ نہیں بنائے گا ، اگر تجارتی جنگ ہو ئی تو غیر ملکی سرمائے سے چلنے والی کمپنیاں خاص طورپر امریکی کمپنیوں پر اس کی چوٹ سب سے پہلے پڑے گی ،اس بات سے قطع نظر چین امریکہ تعلقات کو کیا دھچکا لگتا ہے تا ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے، چین کو یقین ہے کہ دونوں ممالک کے عوام ذہین ہیں اور وہ اختلافات کو مناسب انداز میں نپٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت اور حالات بھی موجود ہیں کہ ہمیں اپنے مشترکہ مفادات میں توسیع جاری رکھنی چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار چینی وزیر اعظم نے نیشنل پیپلز کانگرس کے اختتامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے اپنے خطاب میں مختلف موضوعات پر کھل کر بات چیت کی ،ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت مضبوط ہے اور ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ، اس سال ہماری قومی شرح پیداوار میں 6.5فیصد سے اضافہ ہو سکتا ہے ، چین اپنے اہداف حاصل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ، ہم ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی اجازت نہیں دے سکتے ، حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنی برآمدات میں اضافے کے لئے چینی یوآن کی قدر میں کمی نہیں کریں گے۔

، چین عالمی پیداوار میں اضافے کا ایک اہم عنصر رہے گا اور وہ عالمی معیشت میں کساد بازاری کے باوجودآگے بڑھتا رہے گا ، چینی جی ڈی پی 74ٹریلین یوآن (11ٹریلین امریکی ڈالر ) سے بڑھ گئی ہے ،ملکی معیشت میں 6.5فیصد اضافہ کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ چینی معیشت کمزور ہورہی ہے، گذشتہ تین سال کے دوران چین میں ہر روز اوسطاً چالیس ہزار نئے لوگ مارکیٹ میں رجسٹرڈ ہوئے ، اس کامطلب یہ ہے کہ سالانہ ایک کروڑ نئے داخلے ہورہے ہیں جو چینی معیشت میں ترقی کی علامت ہیں۔ انہوں نے پورپی یونین پر زور دیا کہ وہ چین کی برآمدات پر سے پابندیاں ختم کرد ے کیونکہ اس سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو تجارتی خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس میں بڑے فرق کے باعث تجارت غیر متوازن ہو سکتی ہے ، چین تجارتی توازن کو ترجیح دیتا ہے ،بصورت دیگر یہ پائیدار نہیں ہو گا۔

، چین یورپی یونین کا امریکہ کے بعد دوسرا بڑا شراکت دار ہے جبکہ یورپی یونین چین کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ چین متحدہ یورپی یونین کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے ، یورپی یونین اور چین کے تعلقات کا مستقبل روشن ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی معیشت کے بارے میں کمزوری کی پیشنگوئیاں بند کر دی ہیں ، چین درمیانے اور اعلیٰ درجہ کی صنعتوں میں طویل المیعاد پیداوار برقرارکھنے کے قابل ہے ، چین نے گذشتہ چار سال کے دوران روزگار کے پانچ کروڑ نئے وسائل پیدا کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اصلاحات کرنے میں مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ضرور ہے تا ہم ہم ان پر قابو پاسکتے ہیں ۔ ایشیاء بحرالکاہل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایشیاء بحرالکاہل میں امن و استحکام جاری رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ چین اپنے دروازے کھول دے گا اور یہ وسیع سے وسیع تر ہوتے جائیں گے ، چین دوسرے ممالک کے ساتھ عالمی گورننس نظام کی بہتری کے لئے کام کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور وہ عالمگیریت ، عالمی امن ، ترقی اور تعاون کو ضروری خیال کرتا ہے کیونکہ دروازے بند کرنے اور ہمسایوں کو نقصان پہنچا کر اپنی معیشت کو بہتر کرنے کی پالیسی سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔

About نیوز ڈیسک