بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / مردم شماری

مردم شماری


اللہ کا شکر ہے کہ دیر سے ہی سہی ایک قدم ایسے مسئلے کی جانب اٹھایا تو گیا کہ جو اصل میں کسی بھی ملک کا بنیادی مسئلہ ہوتا ہے۔پچھلے بیس سال سے ہماری حکو متوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ملک کی آبادی کتنی ہے اور وسائل کی تقسیم کیسے کی جائے کس صوبے کو کتنا حصہ ملنا چاہئے یہی وجہ ہے کہ جو بھی آیا اس نے اپنی ہی ’’ گوگی روڑی‘‘ ۔ یہ بھی ہوا کہ ایک شہر پر نوے ارب خرچ کئے گئے مگر وہاں ایک سڑک تک نہ بن سکی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سندھ پر لگایا گیا مگر حالت ہے کہ کراچی میں اس قدر کچرا اکٹھا ہو گیا ہے کہ اسے کچراچی کو نام دیا جا رہا ہے۔ اب اس کا کوئی والی وارث بننے کو تیا ر نہیں ہے اگر بر وقت مردم شماری ہو جاتی تو کراچی کو اس کی آبادی کے مطابق وسائل مل جاتے اور اس پر خرچ بھی کئے جاتے تو کم از کم کچراچی تو نہ بنتی اسی طرح جس شہر پر نوے ارب روپے خرچ ہوئے اس کاکچھ تو منہ سر نظر آتاادھر ایک نام بڑا مشہور ہوا ہے اور وہ ہے چھوٹے صوبے۔آبادی کا پتہ نہ ہونے کہ وجہ سے ان صوبوں کو جو حصہ بجٹ سے ملا کسی کو خبر نہیں کہ وہ کس تناسب سے ملا بہت زیادہ حصہ لینے کے بعدبھی وہ صوبے ابھی تک چھوٹے ہیں ایک مسئلہ ہمارے ہاں افغان مہاجرین کا بھی ہے یہ جو لاکھوں کے حسا ب سے ملک میں در آئے اور انکو واپس بھیجنے میں ابھی تک حکومتیں شش و پنج میں ہیں ان سے بھی ایک مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ بلوچستان میں ان لوگوں کو پاکستانی شناختی کارڈ دے کر پاکستانی شہری بنا دیا گیا ہے ادھر بلوچ آبادی کو ان کے مفرور رہنماؤں نے شہروں سے نکال کر پہاڑوں پر چڑھا دیا ہے ۔

اب جو بھی مردم شماری ہو گی اس میں بلوچوں کی تعداد ان کے نام نہاد لیڈروں کی وجہ سے کم ہوگی اور پھر ایک مسئلہ بلوچوں اور پشتونوں کے درمیان کھڑا ہو جائے گااسی لئے جب بھی مردم شماری کی بات ہوتی تھی توبلوچستان کے تحفظات سامنے آ جاتے تھے اسی طرح کے پی میں بھی ہندکو اور پشتو بولنے والوں کے تحفظات اپنی جگہ ہیں اور شاید رہیں گے زلزلوں اور دہشت گردی نے ہزارہ کی آبادی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے یہاں افغان مہاجرین کے علاوہ وزیرستان، دیر ،سوات اور دیگر علاقوں سے ایک کثیر تعداد اس ڈویژن میں ہجرت کر کے آ گئی ہے جس سے اسکی آبادی میں بھی فرق آیا ہے اوریہ فرق وسائل کی تقسیم پر اثر انداز ہو گا‘ادھر بات تو معمولی سی ہے کہ گھروں کی گنتی کریں گھروں کے مکینوں کو شمار کریں اور اللہ اللہ خیر سلا مگر اس میں جو گھپلوں کا گمان کیا جا رہا ہے اسکا بھی خیال رکھا جائے گو فوج کے اس طرح سے شامل ہونے سے کہ ایک لسٹ فوجی اہلکار بھی تیار کر یں گے اور پھر سویلین اور فوجی لسٹوں کو یکجا کر کے ریزلٹ بنایا جائے گا ۔

تو اس میں کسی کوشک نہیں ہونا چاہئے کہ مردم شماری میں کوئی گھپلا نہیں ہوگا پھر بھی اگر کسی کو شک ہے تو اس کا علاج ممکن نہیں شک کا اظہار صرف نام نہاد وطن پرست جماعتیں کر رہی ہیں اور یہ ہماری اس پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ہم نے قوم کی بجائے قومیتوں کو جنم دیا ہے اور اب ہر قومیت دوسری قومیت پر شک کر رہی ہے۔ اللہ کرے کہ یہ کام بخیر و خوبی تکمیل کے مراحل طے کر لے تا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو سکے اصل جھگڑ ا ہوتا ہی وسائل کی تقسیم سے ہے ابھی تک کے پی میں جو بھی حکومتیں رہی ہیں انہوں نے اپنے اپنے علاقے کو ہی ترجیح دی ہے اس میں ہزارہ بری طرح پسا ہے اگر اکرم خان درانی وزیر اعلیٰ تھے تو سارے وسائل بنوں کی طرف شفٹ ہو گئے اور اگر حیدر ہوتی تھے تو سارے وسائل نے مردان کا رخ اختیار کیا اور اب نوشہرہ کی باری ہے ‘رہا ہزارہ تو اسکی طرف تو کسی کی نظر ہی نہیں جاتی اسلئے کہ یہ دریائے سندھ کے دوسری طرف ہے اور دریائے سندھ عبور کرنا کے پی حکومتوں کیلئے ایک مشکل مسئلہ رہا ہے۔ شاید مردم شماری میں اس ڈویژن کی قسمت کا ستارہ بھی چمک جائے۔