بریکنگ نیوز
Home / کالم / نئی روایت

نئی روایت


یہ تو ہم نے سنا بھی تھا اور دیکھا بھی تھا کہ سرکاری محکموں میں مختلف اسامیوں پر بھرتی کیلئے خواہشمند امیدواروں کا انٹرویو لیا جاتا ہے لیکن یہ ہم نے نہ پہلے کبھی دیکھا نہ سنا کہ سیاسی پارٹیوں میں بھی مختلف عہدوں پر فائز ہونے کیلئے انٹرویوز ہوتے ہیں یہ روایت یہ ریت پی پی پی نے ڈال دی ہے ‘ بلاول زرداری کے بارے میں اس نوع کی خبریں شائع ہو ئی ہیں کہ موصوف نے پی پی پی پنجاب میں ضلعی یا ڈویژنل سطح پر پارٹی کے اہم عہدوں پر تعیناتی کیلئے خواہش مند حضرات کے انٹرویوز لینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ہماری دانست میں یہ کوئی صحت مند اور جمہوری روایت نہیں ‘ نہ جانے پارٹی کے اندر مختلف مناصب پر تعیناتی کے لئے پی پی پی انٹرا پارٹی الیکشن سے کیوں کترا رہی ہے بہتر تو یہ تھا کہ ضلعی سطح پر شروعات کی جاتیں اور رفتہ رفتہ نیچے سے اوپر کی طرف بڑھا جاتا ضلعوں کے بعد ڈویژن اور پھر صوبائی اور مرکزی سطح پر بتدریج الیکشن ہوتے جمہوریت ایک تکون کی مانند ہوتی ہے نیچے سے چوڑی اور اوپر سے پتلی صرف انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے ہی وہ افراد پارٹی کے کلیدی عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں کہ جنہیں پارٹی کے کارکن سمجھتے ہیں کہ عوام میں ان کی جڑیں مضبوط ہیں اور وہ ڈیلیور کر پائیں گے جو انٹرویوز کا سلسلہ بلاول نے شروع کر رکھا ہے اس میں تو ذاتی پسند اور نا پسند کا زیادہ عمل دخل ہو گا یہ تو جمہوریت کی ایک لحاظ سے نفی تصور ہو گی لیکن ہم صرف پی پی پی سے ہی انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے کا گلہ کیوں کریں دیگر سیاسی پارٹیاں بھلا کونسے انٹرا پارٹی الیکشن کرا رہی ہیں ایک جماعت اسلامی کو چھوڑ کر کہ جس میں جامع انٹرا پارٹی الیکشن کا ایک سسٹم موجود ہے باقی ماندہ سیاسی پارٹیوں میں تو ہر سطح پر اوپر سے ہر پارٹی کیڈر پر نامزدگیاں ہوتی ہیں کہ جن کو جمہوری کہنا جمہوریت کی توہین ہے افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے اکثر سیاسی لوگ کس منہ سے جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔

کہ جب ان کے گھر کے اندر جمہوریت کا دور دور تک نشان نہیں پنجاب میں پی پی پی کا برا حال ہے وہ ابھی وہاں مکمل طور پر ڈوبی تو نہیں ہے لیکن ڈوب رہی ہے اور اگر وہاں داغدار لوگوں کو اوپر سے پارٹی پر مسلط کیا گیا تو اس سے پارٹی کو آئندہ الیکشن میں فائدہ کے بجائے نقصان کا احتمال ہے پی پی پی کا المیہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک عام لوگوں کوپتہ نہیں کہ اوپر سے ڈوری کون کھینچ رہا ہے بظاہر توزرداری صاحب ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے کہ پارٹی کا قائد بلاول ہے لیکن کیا عملاً واقعی ایسا ہی ہے ؟ نیام میں صرف ایک ہی تلوار سما سکتی ہے د و کشتیاں ہیں اور پارٹی کے کارکنان حیران پریشان ہیں کہ کس کشتی پر پیر رکھیں دونوں کشتیوں پربیک وقت پاؤں رکھنے والے اکثر ڈوب جایا کرتے ہیں زرداری صاحب روایتی سیاست کے علمبردارہیں کہ جو کچھ دو اور کچھ لو کے کلیے پر چلتی ہے جبکہ ان کی اولاد کی سوچ ذرا مختلف ہے لیکن ظاہر ہے مشرقی معاشرے میں اولاد اکثر کھل کر اپنے والدین کے طرز عمل کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔

لیکن جس بات پر ہم زور دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ پی پی پی ایک قومی سطح کی پارٹی ہے کہ جس میں یہ اہلیت ہے کہ بقول کسے وہ ملک کی زنجیر بن جائے لیکن اس کیلئے اس پارٹی کی قیادت اتنی ہی مالی طور پر دیانتدار ہو کہ جتنا دیانتدار اس پارٹی کا خالق ذوالفقار علی بھٹو تھا اس کے بدترین سیاسی حریف بھی اس کی مالی دیانتداری کی قسم کھاتے ہیں وہ نہ کمیشن کھانے کا شوقین تھا اور نہ اراضی خریدنے یا فیکٹریاں لگانے کا اگر اس جیسی قیادت دوبارہ اس پارٹی کو نصیب ہو جائے تو شاید اس کی بات بن جائے لیکن اگراس پارٹی کے رہنماؤں نے وہی لچھن دکھائے کہ جو انہوں نے 2008ء اور 2013 کے درمیان دکھائے تھے تو پھر اس کا اللہ ہی حافظ کیا پارٹی کے اندر کوئی ایسا شخص نہیں کہ جو زرداری صاحب کو مجبور کرے کہ وہ پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن فوراً سے پیشتر کروائیں گو کہ اب شایداس کیلئے بھی ان کے پاس وقت تھوڑا ہی رہ گیا ہے۔

کیونکہ نئے ملکی الیکشن سر پر ہیں 2018ء میں تو الیکشن نے ہونا ہی ہونا ہے لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ کہیں وہ اس سے پیشتر نہ ہو جائیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں مردم شماری کا عمل نئے الیکشن سے پیشتر پورا کیا جائے اور ووٹرز کی فہرستو ں کو اس کی روشنی میں اپ ڈیٹ کیا جائے ۔