بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / مقبوضہ کشمیر : بھارتی پولیس نے گیلانی ، میر واعظ اور یاسین ملک کوگرفتار کرلیا

مقبوضہ کشمیر : بھارتی پولیس نے گیلانی ، میر واعظ اور یاسین ملک کوگرفتار کرلیا


سرینگر۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پولیس نے حریت رہنماؤں سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کو گرفتار کر لیا ہے ۔ اس سے قبل میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں تبادلہ خیال کی غرض سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی سے جو گھر میں نظربند ہیں ملاقات کیلئے حیدرپورہ سرینگر میں انکی رہائش گاہ پرگئے تھے۔ تاہم وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں ملاقات سے روک دیا ۔ میر واعظ اور یاسین ملک سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر سڑک پرکھڑے تھے جب حریت چیئرمین پولیس اہلکاروں کا محاصرہ توڑتے ہوئے سڑک پر نکل آئے اور تینوں رہنماؤں نے احتجاج شروع کیا ۔پولیس اہلکاروں نے تینوں حریت رہنماؤں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ضلع کپواڑہ کے علاقے جگتیال میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں سات سالہ بچی کنیزہ کی شہادت پر علاقے میں لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران ایک مکان پر اندھادھند فائرنگ کی اوراس دوران کنیزہ اور اسکا بھائی فیصل گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا جنہیں فوری طورپر ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم کنیزہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی ۔

فوجیوں کے ہاتھوں بچی کی شہادت پر احتجاج کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ۔انہوں نے اس موقع پر بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے اور کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں انکی جان و مال محفوظ نہیں ۔ انہوں نے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ بچی کی والدہ دل کی مریضہ ہے اور جب سے اس نے کنیزہ کی موت کی خبر سنی ہے وہ اپنا ہوش و حواس کھو ۔فوجیوں کے ہاتھوں بچی کے قتل کے خلاف علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں حریت رہنماؤں سید علی گیلانی ، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہاہے کہ کشمیری قوم نے 130دن تک مسلسل احتجاج کر کے ایک اخلاقی فتح حاصل کی ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔

حریت رہنماؤں نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ کشمیری عوام نے حالیہ انتفادہ کے دوران احتجاج کر کے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ہم اپنی قسمت اور مستقبل کے خود مالک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل احتجاج سے کشمیریوں کے قوت اور عزم کا اندازہ ہوتا ہے اور وہی قوم جس میں اتنی گہری وابستگی ، قوت ارادی اور ہمت و استقلال ہو ایسی جدوجہد کو جاری رکھ سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری قوم نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ انہیں آزادی کی کس قدر تڑپ ہے جس کیلئے وہ اپنی قیمتی جانوں ، ذریعہ معاش ، تعلیم اور کچھ بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں بھارت کی مکاری اور ظلم و تشدد پر مبنی کارروائیوں اور دباؤ کے باوجود اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا ہے کیونکہ ہمارا سامنا ایک ایسے دشمن سے ہے جو حقیقت کو تسلیم کرنے سے نہ صرف انکار کررہا ہے بلکہ اور ہر وہ ہماری حق و انصاف پر مبنی جدوجہد کو کمزورکرنے کیلئے تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ہمارا یہ دشمن آسانی سے شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، وہ نہ صرف فوجی قوت کے بل پر ہمیں قابو کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ ہمارے ذریعہ معاش، تعلیم اور تمام نقل و حمل کے ذرائع کومسدود کررہا ہے ۔

مشترکہ قیادت نے کہاکہ قلیل مدتی تحریک سے طویل المدتی تحریک کیلئے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے اور عوامی مسائل کو دھیان میں رکھتے ہوئے تحریک آزادی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ مظاہروں کے مقصد اور مفہوم کو سمجھ کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے جس میں فیصلہ سازی کے عمل میں کشمیری عوام کوبھی شامل کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ان فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عوام خاص طور پر نوجوانوں کو اپنی جدوجہد کی تاریخ کا مقصد اور مفہوم سے باخبر کرکے اس کو جاری رکھنے کیلئے ایک حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں حال ہی میں ایک نمائندہ اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیموں نے شرکت کی اور اپنی تجاویز اور آرا پیش کیں اور انہوں نے بیک زبان ہو کر رواں تحریک کو جاری رکھنے کی زبردست حمایت کی ۔مشترکہ حریت قیادت نے کہاکہ موجودہ جدوجہد نے ہماری تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے امکانات اور دائرہ کارکو واضح کر دیا ہے اور ہم اپنی منزل کے قریب آگئے ہیں۔