بریکنگ نیوز
Home / کالم / آیاز میر / ملک کو درپیش نازک صورت حال اور ہمارا رویہ

ملک کو درپیش نازک صورت حال اور ہمارا رویہ


پاکستان دہرے حملے کی ز د میں ہے ، (1) انڈیا کی طرف سے ، جس کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں پھوٹنے والاالاوہ ہے، اور اسے روکنے کے لیے انڈیا جو کچھ بھی کررہا ہے ، اُس کا مطلق اثر نہیں ہورہا، اور (2) افغانستان اور امریکہ کی طرف سے ، کیونکہ طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور وہ کسی طور ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ اس وقت اگر پاکستان چاہے بھی توانڈیا کو کشمیر اور امریکہ کو افغانستان میں کوئی رعایت دلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ ستم یہ کہ امریکہ اور انڈیا، دونوں اسے ہی موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ انڈیا کشمیر کی موجودہ تحریک کو مکمل طور پر کشمیریوں کی اپنی تحریک ماننے سے انکاری ہے ۔ وہ اس آگ کو دہکانے کی ذمہ داری پاکستان اور ’’سرحد پار دہشت گردی‘‘ پر ڈال رہا ہے ۔ دوسری طرف امریکہ اور افغانستان طالبان کو میدانِ جنگ میں شکست سے دوچار کرنے سے قاصر ، چنانچہ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے طالبان کے حامی گروہ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہیں کی ۔

پاکستان کوداخلی طور پر اپنے طالبان ، ٹی ٹی پی، سے سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اب فوج ان کے خلاف گزشتہ دوبرس سے بڑی حد تک کامیاب آپریشن کررہی ہے ۔تاہم امریکہ کو افغان طالبان سے مسئلہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کسی طور معجزانہ طریقے سے ان قوتوں کو شکست سے دوچار کرے جنہیں وہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران پوری عسکری توانائی جھونکنے کے باوجود شکست نہ دے سکا۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک کشمیر اور افغان محاذ وں پر کوئی تصفیہ نہیں ہوتا، پاکستان ان دہرے حملوں کی شدت میں کمی کی توقع نہیں کرسکتا۔ امریکہ اور بھارت، جن کی الزام تراشی کے ساتھ افغان بھی اپنی آواز ملا رہے ہیں، ببانگ دہل پاکستان کو تمام مسائل کی جڑ قرار دیں گے ۔ پاکستان دشمنی کے اس ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ ہم قدم پیچھے ہٹاسکتے ہیں، قلابازی کھاسکتے ہیں، لیکن خدشہ ہے موجودہ صورتِ حال میں کوئی اقدام بھی بھارتیوں ، امریکیوں اور افغانوں کو مطمئن نہیں کرے گا۔

ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں ، اگر جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی اور تمام کورکمانڈر سنجیدگی سے مل کر چاہیں تو بھی وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کو نریندر مودی اور افغانستان کی صورتِ حال کو امریکی انتظامیہ کی منشا کے مطابق تبدیل نہیں کرسکتے ۔ یہاں ہماری سکت اور معجزانہ طاقت، جو بھی ہے ، جواب دے جاتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ہم کہوٹہ کو معائنے کے لیے کھولتے ہوئے یورنیم کی افزودگی روکنے کا اعلان کردیں، لیکن اب امریکی مطمئن ہونے والے نہیں ۔وہ افغانستان میں اپنی شرائط پر امن قائم کئے بغیر پاکستان سے راضی نہیں ہوں گے اور امریکی کانگرنس سے آنے والی مختلف آوازیں، کہ اب امریکہ کو افغانستان میں پاکستان کی اُس طرح ضرورت نہیں جیسی نائن الیون کے بعد تھی، پاکستان کی طرف شعلہ بار رہیں گی۔

اس صورتِ حال کی وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں ، جیساکہ کچھ حلقوں کی طرف سے آنے والی احمقانہ آوازیں ظاہر کرتی ہیں۔ کشمیر کی موجود شورش ابھارنے میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ اس کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کئی عشروں کے بعد بھی کشمیریوں کے دل جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اب کشمیری بھارتی تسلط سے تنگ آچکے ہیں۔ شاید ایک سو خفیہ ایجنسیاں مل کر بھی یہ صورتِ حال پیدا نہیں کرسکتی تھیں۔ اب بھارت کو سمجھ جانا چاہئے کہ سرحد پار دہشت گردی کے الزامات ان حالات کو تبدیل نہیں کرپائیں گے‘ دوسری طرف جب امریکی اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑنے کے باوجودافغانستان کو فتح کرنے میں ناکام ہوچکے تو پاکستان کیا کرسکتا ہے ؟تھوڑی دیرکے لیے اعدادوشمار پر غور کریں۔ پاک چین معاشی راہداری کا کل مالیاتی حجم کتناہے ؟ کل ملا کے صرف 46 بلین ڈالر‘ امریکہ نے افغانستان کے سمندر میں سات سو یا آٹھ سوبلین ڈالر غرق کردئیے ۔ گویا 14-16 سی پیک، اور امریکہ کا تمام سرمایہ دھوئیں میں اُڑ گیا۔ طالبان پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ امریکی اس ناکامی کا غصہ پاکستان پر اتاررہے ہیں۔

اب ہمارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر امریکی آپے سے باہر ہورہے ہیں تو ہمیں تحمل اور دانائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ۔ ہم ژولیدی فکری اور تنک مزاجی کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ اُنہیں چیخنے چلانے دیں، اگر ایسا کرنے سے اُنہیں سکون ملتا ہے ۔ ہمیں اپنا لہجہ دھیما رکھنا ہے ۔ پیرس میں ہونے والے ’’ویت نام امن معاہدے ‘‘ کے دوران شمالی ویت نام کے Le Duc Tho نہایت پرسکون رہے ، یہ ڈاکٹر کسنجر تھے جن کے اعصاب چٹخ رہے تھے۔ چنانچہ پرسکون رہتے ہوئے خاموشی سے ہمیں دیگر آپشنز تلاش کرنے چاہئیں۔ برس ہا برس سے جاری امریکہ پر انحصار کی پالیسی ہمارے لیے اچھی نہیں۔ امریکہ کے ساتھ دوستی ہو، لیکن جس طرح کی ضرورت سے زیادہ دوستی جنرل ضیا اور پھر جنرل مشرف نے کی، اُس سے گریز ہی بہتر۔ اور جس دوران انڈیا امریکہ کے قریب ہوتا جارہاہے، ہمیں اپنی راتوں کی نیند حرام کرنے کی ضرورت نہیں، ہمیں روس کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بھار ت اور امریکہ کی قربت سے روس ہر گز خوش نہ ہوگا، چنانچہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ ہم نے ماسکو کی راہ کبھی اختیار نہیں کی ،لیکن شاید اب اس مسافت کی منزلیں تلاش کرنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ اگر ہمارے حالات تبدیل ہورہے ہیں، تو ہمیں بھی ان کے ساتھ تبدیل ہونا پڑے گا۔ پھر ہمارے چین کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ ہمیں ان کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے ۔۔۔۔ لیکن اپنے مفادات کا سودا کئے بغیر۔ جب تجارتی معاہدوں کی بات ہو تو ہمیں ان کا باریک بینی سے جائزہ لیناہوگا۔ ریاستوں کے درمیان تعلقات میں کوئی فری لنچ نہیں ہوتا، چاہے دوستی کے جتنے مرضی جذباتی نعرے لگائے جائیں۔

اس دوران ہمیں انڈیا کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر پر پریشانی کا شکار ہوتے ہوئے وہ بارڈر ، خاص طور پر لائن آف کنٹرول، کو گرم کرسکتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کی مذمت جاری رکھیں لیکن غیر ضروری نعرہ بازی سے گریز کیا جائے ۔دونوں سرحدوں پر کشیدگی ہمارے لیے سود مند نہیں۔ اُڑی واقعے ، جس میں بھارت کے فوجی بیس پر حملے کے نتیجے میں سترہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے، کے بعد بھارت سے سخت ردِ عمل کی آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ ان بیانات کے مقابلے میں پاکستان کو بیان بازی کی ضرورت نہیں۔ ہم پر ہر بھارتی حماقت کا جواب دینا فرض نہیں ہوجاتا۔ ہمارے دفترِ خارجہ کا پہلا ردِ عمل درست اور جچا تلا ہوا تھا، کہ انڈیا کسی بھی واقعے کا بلاتحقیق پاکستان پر الزام لگانے کی تاریخ رکھتاہے ۔ انڈیا ہم پر ایک معاملے میں سبقت ضروررکھتاہے ، کہ جب بھی خارجہ پالیسی کا معاملہ ہو، اس کامیڈیا ہم آواز ہو کر حکومت کا ترجمان بن جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں۔ہمارے میڈیا کے کچھ حلقے ’’لبرل اور روشن خیال ‘‘ کہلانے کی کوشش میں بھارت اور امریکہ کے موقف کے ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کررہے ہوتے ہیں، جیسا کہ ملک کے ایک اہم اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا کہ آئی ایس پی آر کا بیان ۔۔۔ ’’پاکستان کی سرزمین سے کسی دراندازی کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ اُسی صورت درخوراعتنا ہوگا جب اُن گروہوں کے خلاف کاروائی کی جائے جو مبینہ طور پر سرحد پار ہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ اخبار کا یہ اداریہ تاثر دیتا ہے کہ آئی ایس پی آر کا بیان قابلِ اعتماد نہیں ۔ ا س سے پہلے اداریے میں فاضل مدیرکہتا ہے کہ حملے میں چار جنگجو ملوث تھے جو ’’انڈین حکام کے مطابق لائن آف کنٹرول پار کرکے آئے تھے ، اور اُن کا تعلق بھارت مخالف پاکستانی گروہوں سے ہے۔‘‘ بھارتی وزیرِ داخلہ ، راج ناتھ کی پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کو بھی من وعن بیان کیا گیا۔ ان تمام بیانات، چاہے ان کے پیچھے تصدیق کی سند نہ بھی ، کو اداریے میں شامل کرنے سے کیا پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزام کو تقویت نہیں ملتی؟

ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ جب اُڑی جیسا واقعہ ابھی پیش آیا ہو اور ماحول کی حدت بڑھ رہی ہو توالفاظ کے استعمال میں احتیاط لازم ہوجاتی ہے ۔ انڈین میڈیا اپنی ریاست کی کوئی کمزوری آشکار نہیں ہونے دیتا۔ ہمیں کشمیر کی بات کرتے رہنا ہے ، لیکن جہادی نعروں کا سہارا نہیں لینا۔ امید کی جانی چاہئے کہ وزیرِ اعظم صاحب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی موجودگی کا بھرپور اظہار کریں گے ۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ پر،تمام قوم کی دعائیں اُن کے ساتھ ہیں۔