بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر ایجنسی اور چارسدہ جھڑپوں میں 9 دہشتگرد ہلاک ، 3 سکیورٹی اہلکار شہید

خیبر ایجنسی اور چارسدہ جھڑپوں میں 9 دہشتگرد ہلاک ، 3 سکیورٹی اہلکار شہید


خیبر ایجنسی۔پاک افغان بارڈر کے قریب دہشتگردوں نے ایف سی کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس پر پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار سے حملے کو ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی میں 6 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2جوان شہید اور 4 زخمی ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاک افغان بارڈر کے قریب سرحد پار سے دہشتگردوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس پر پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 6 دہشتگرد وں کومار ڈالا اورحملے میں ایف سی کے دو جوان شہید اور 4 زخمی ہوئے ، دہشتگردوں نے ایف سی کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔اہم ابھی تک دہشت گردوں کی شناخت اور ان کے تعلق سے متعلق معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اصف غفور کے مطابق خیبر ایجنسی میں افغانستان سے دہشت گردوں نے ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

اہلکاروں نے جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشت گردمارے گئے جبکہ 2 ایف سی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق عائشہ کورونہ کے علاقے میں فرنٹیئر کانسٹیبلیر کے تربیتی مرکز پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شبقدرکے علاقے عائشہ کورانہ میں ایف سی ٹریننگ سینٹر دو خودکش حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کی کوشش کی لیکن سنٹر کے گیٹ پر تعینات جوانوں نے حملہ پسپہ کرتے ہوئے بروقت جوابی کارروائی کی اور دونوں خودکش بمباروں کو گیٹ تک محدود رکھا جب دہشت گردوں کو سنٹر میں گھسنے کا موقع نہ ملا تو انہوں نے خود کو ایف سی ٹریننگ سینٹر کے گیٹ پر دھماکے سے اڑا دیا جسکے نتیجے میں ایک ایف سی ہلکار شہید جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لئے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ادھر واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ اپریشنشروع کر دیا گیا ۔

دوسری جانب پشاور کے علاقے تہکال میں بھی دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں 2 اہلکا ر زخمی ہو گئے جب کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔اس سے قبل بھی رواں ماہ کے آغاز میں پاک۔افغان سرحد کے قریب مہمند ایجنسی میں افغانستان کی جانب سے دہشت گرد حملے میں پاک فوج کے 5 اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ فوج کی جوابی کارروائی میں 15 سے زائد دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔حملے کے بعد پاکستان میں تعینات افغانستان کے نائب سفیر عبدالناصر یوسفی کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا اور ان سے حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تحقیقات کی رپورٹ پاکستان کے حوالے کی جائے۔یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب لندن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے معاملے پر مثبت پیش رفت کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔

اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں اور وہاں موجود ان کی قیادت کو ملوث قرار دیا ہے۔اس سے قبل گذشتہ ماہ پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے کئی ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا تھا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ دہشت گرد ایک بار پھر افغانستان میں منظم ہورہے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اسی حوالے سے پاکستان نے افغانستان میں موجود 76 دہشت گردوں کی فہرست بھی افغان حکومت کے حوالے کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ یا تو انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے یا ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔دوسری جانب پاک۔افغان سرحد پر طورخم گیٹ بھی سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر غیر معینہ مدت تک بند ہے، جسے گزشتہ ہفتے صرف 2 دن کے لیے کھول کر تشویش ناک حالت میں موجود مریضوں اور دونوں جانب پھنسے ہوئے شہریوں کو اپنے اپنے وطن جانے کی اجازت دینے کے بعد واپس بند کردیا گیا تھا۔۔