بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / پی ٹی آئی کاامتحان

پی ٹی آئی کاامتحان


تانگہ پارٹیوں نے بھر پور کوشش کی کہ وہ پانامہ لیکس کے تناظر میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے حوالے سے بڑی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کر کے اپنی دال گلانے کا سامان کریں لیکن ایسا نہیں ہو سکا ، پی پی پی قیادت کا اپنے مفاد کو مقدم رکھنا ، ڈاکٹر طاہرالقادری کا اپنی لائن آف ایکشن میں تبدیلی کرتے ہوئے وطن سے باہر چلے جانا اور اے این پی و ایم کیو ایم وغیرہ کی سرد مہری ’’ انٹی گورنمنٹ ایجی ٹیشن ‘‘ خصوصاََ رائے ونڈ مارچ کے معاملے پر حزب اختلاف بالخصوص پی ٹی آئی اور پی پی پی کو متحد نہیں کر سکے جس کے بعد پی ٹی آئی ’’سولو فلائٹ ‘‘ کرنے جا رہی ہے۔ 30ستمبر کیلئے پی ٹی آئی کا اعلان کردہ احتجاجی پروگرام اسکی رابطہ عوام مہم کا اہم ترین مرحلہ ہے جس کے دوران پانامہ لیکس انکشافات اور دیگر عوامل کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو عوام کی حمایت سے محروم کرنے اورآنے والے عام انتخابات کے حوالے سے عوام کی رائے پی ٹی آئی کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔2014ء کے دھرنے ،انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ، ضمنی انتخابات میں کچھ کامیابیوں اور زیادہ ناکامیوں، بلدیاتی انتخابات کے معرکوں میں خیبر پختونخوا میں بہتر جبکہ پنجاب میں مایوس کن کارکردگی کے مظاہروں ، آزاد کشمیر انتخابات میں شکست اور حال میں راولپنڈی ، لاہور اور کراچی میں پی ٹی آئی کی ریلیوں میں عوام کی توقع سے کم شرکت نے تاثر دیا ہے کہ تحریک انصاف ملک گیر سطح پرآج عوام میں اتنی مقبول نہیں رہی جتنی 2013ء کے عام انتخابات یا2014ء کے اسلام آباد دھرنے کے موقع پر تھی NA-162 ساہیوال کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا اپنی نشست کھودینا بھی اس تاثر کو مضبوط کررہا ہے ۔ لہٰذا 30ستمبر کا رائے ونڈ احتجاج پی ٹی آئی کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے ۔

کیونکہ اگر اس روز بھی پی ٹی آئی ایک متاثر کن تعداد میں عوام کو اپنے احتجاج میں شر یک نہ کر سکی تو یہ امر مذکورہ تاثر کو مزید تقویت دے گا۔تحریک انصاف کے 30ستمبر کے احتجاج سے متعلق ایک اہم سوال یہ ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اس پروگرام پر کس طرح اثر انداز ہوں گے؟۔مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے لے کر اب تک پارٹی کے اندرونی اختلافات اور بالائی و زیریں قائدین کی باہمی رنجشیں تسلسل کے ساتھ میڈیا میں زیر بحث رہی ہیں۔یہ اندرونی اختلافات کبھی مبہم تو کبھی واضح انداز میں اپنے وجود کا احساس دلاتے رہے ہیں تاہم ایک ایسے موقع پر جب پی ٹی آئی حکومت مخالف تحریک کو بھر پور انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے ان اختلافات کا کھل کر سامنے آنا پارٹی کیلئے انتہائی نقصان دہ قرار دیا جارہا ہے ۔ پی ٹی آئی کے یوتھ ونگ اور لیبر ونگ سمیت ذیلی تنظیمیں پارٹی کے مرکزی قائد جہانگیر ترین کے فیصلوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ پارٹی عہدوں پر ہونے والی نئی نامزدگیوں کے حوالے سے بھی پارٹی راہنماؤں اور کارکنوں کو شدید تحفظات لا حق ہیں ایسی صورتحال میں ایک بھر پور احتجاج کی تیاری کیلئے ماحول بظاہر سازگار نظر نہیں آرہا۔ جس پارٹی میں اندرونی اختلافات اس قدر زور و شور سے اپنے وجود کا احساس دلا رہے ہوں اس کے لئے ایک منظم انداز میں عوام کو سڑکوں پر لانا انتہائی کٹھن ہوتا ہے۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کے وہ مخلص قائدین اور کارکن ہی پارٹی کی ساکھ بچا سکتے ہیں جن کی پارٹی سے وابستگی نظریاتی نوعیت کی ہے اور جنھیں عہدوں یا دیگر مفادات کا قطعاََ کوئی لالچ نہیں ۔ یعنی اگر پی ٹی آئی کا 30ستمبر کا شو وابستہ توقعات کے مطابق رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کے نظریاتی اور مخلص راہنماؤں و کارکنوں کو پارٹی کے اندراب بھی غلبہ حاصل ہے ۔اس طرح پارٹی کی اندرونی مضبوطی کی حقیقت بھی سامنے آجائے گی۔

بہ حیثیت مجموعی یہ کہنا تو غلط نہ ہو گا کہ پی ٹی آئی کی تحریک کیلئے سیاسی میدان مئی 2014 ء میں جس قدر تیار تھا اِس وقت ویسا نہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 30ستمبر کے قریب آتے آتے کیا پی ٹی آئی کے تازہ احتجاجی پروگرام کواُسی نوعیت کی عوامی اور میڈیا پذیرائی حاصل ہو سکے گی جو پچھلی تحریک کو حاصل ہوئی تھی؟۔اس کے علاوہ یہ سوال بھی قابل غور ہیں کہ اگر رائے ونڈ کا احتجاج مطلوبہ عوامی پذیرائی حاصل نہ کر سکا تو کیا تحریک انصاف پانامہ لیکس کے تناظر میں حکومت کے خلاف تحریک کے دوران’’ مزید‘‘ آگے جانے کی پوزیشن میں رہے گی ؟ ۔ اس صورت میں وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبے کواُس سطح پر لے جانے کیلئے جہاں پر حکومت کو شدید دباؤ میں لا سکے جس قوت و توانائی کی ضرورت ہے کیا پی ٹی آئی اس کا مظاہرہ کر پائے گی ؟ اور اگر پانامہ لیکس کے تناظر میں پی ٹی آئی کی تحریک اہداف کے حصول میں ناکام رہتی ہے تو کیا اس کے آنے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔؟