بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے دوبارہ ترمیم بدقسمتی ہے،چیئرمین سینٹ

فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے دوبارہ ترمیم بدقسمتی ہے،چیئرمین سینٹ


اسلام آباد۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے دوبارہ ترمیم بدقسمتی ہے‘ یہ انتہائی افسوسناک دن ہے‘ دو سال قبل پارلیمنٹ کے ایوانوں سے وعدہ کیا گیا تھا مدت کے اختتام کے بعد دوبارہ توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی‘ اب آئین میں دوبارہ خلل ڈالا جارہا ہے‘ حکومت اگر سینٹ کمیٹی کے بلوں کو ورکنگ پیپرز کے طور پر ہی استعمال کرلیتی یہ دن دوبارہ نہ دیکھنا پڑتا‘ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی توسیع حکومت یا کسی ج ماعت کی ترجیح نہیں ہے‘ ملک کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں اور ان غیر معمولی حالات میں فوجی عدالتوں کی توسیع ضروری ہے‘ تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت نے قومی مفاد میں متفقہ فیصلہ کیا ہے ‘ پیر کو بل قومی اسمبلی سے منظور ہوجائے گا‘ اس مدت کے دوران عدالتوں کی اصلاحات کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے‘۔

قومی سلامتی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جبکہ قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت نے اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا ہوتا تو دوبارہ توسیع کی ضرورت نہ پڑتی‘ حکومت کی یقین دہانیوں کی وجہ سے کڑوا اور زہریلا گھونٹ دوبارہ پی رہے ہیں‘ اعتماد کے حوالے سے حکومت کا ریکارڈ اچھا نہیں‘ ایک بار پھر ہم بل سے دوبارہ ڈسے جانے والے ہیں۔ جمعہ کو ان خیالات کا اظہار ایوان بالا میں فوجی عدالتوں کے حوالے سے توسیع کے معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ اخبارات کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے بدقسمت ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہوگیا ہے آج یہ افسوسناک دن ہے دو سال قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مدت کی تکمیل کے بعد دوبارہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی اب دو سال مکمل ہوگئے ہیں آئین میں دوبارہ خلیل ڈالا جارہا ہے۔ سینٹ کمیٹی آف دی ہول نے آرمی ایکٹ اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بلوں پر غور کیا گیا تھا حکومت اگر ان بلوں کو ورکنگ پیپرز کے طور پر ہی استعمال کرلیتی تو آج یہ دن دوبارہ نہ دیکھنا پڑتا۔

آرمی ایکٹ کے سن سٹ کلاز کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کئے حکومت اقدامات کرے تاکہ دو سال بعد پھر یہ قدم دوبارہ نہ اٹھانا پڑے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا کہ حکومت نے بلوں کو نظر انداز نہیں کیا دونوں بلوں پر کام کررہی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی توسیع حکومت یا کسی جماعت کی ترجیح نہیں ہے اور نہ ہی ہونی چاہئے۔ ملک کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں اور ملک میں غیر معمولی حالات ہیں اور دہشت گردی کی تازہ لہر کی وجہ سے یہ اقدام اٹھانا مجبوری بن گئی ہے۔ ساری قوم متاثر ہورہی ہے اس کے علاوہ کوئی متبادل آپشن موجود نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے قومی مفاد میں متفقہ فیصلہ کیا ہے اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ یہ فیصلہ ملک کے لئے ضروری ہے امریکہ میں بھی غیر معمولی حالات میں ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

ضرب عضب آپریشن اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے ملک میں بہتری آئی ہے اب آپریشن رد الفساد جاری ہے پیر کو فوجی عدالتوں کے حوالے سے بل قومی اسمبلی منظور ہوگا اور پھر ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے کاتمے کے دوران عدالتی اصلاحات کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں گے اور قومی سلامتی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو قومی سلامتی کے امور کی مانیٹرنگ کرے گی اور قرارداد کے ذریعے کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور دونوں ایوانوں سے ممبران لئے جائیں گے امید ہے ان دو سالوں میں حالات بہتر ہوجائیں گے اور پھر توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بل پر اتفاق کیا ہے لیکن ہمارے تحفظات 2015 میں بھی تھے۔ جو بہت سنگین اور شدید تحفظات تھے نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور فوجی عدالتوں میں توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن بیس پوائنٹس پر بالکل عمل درآمد نہیں ہوا ایک بار پھر ہم بل سے دوبارہ ڈسے جانے والے ہیں ۔ حکومت پر پھر ایک اعتماد کیا ہے حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ جو پاکستان پیپلز پارٹی کا رانا مطالبہ ہے ہمیں یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں آرمی ایکٹ میں بہتر ترامیم لائی جائے گی حکومت کی یقین دہانیوں کی وجہ سے کڑوا اور زہریلا گھونٹ دی رہی ہے حکومت کا اعتماد کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نہیں ہے ہم شاید بہت سادہ اور بھولے لوگ ہیں اس لئے اعتماد کررہے ہیں حکومت نے کارکردگی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی ہے دو سال بعد امید ہے سول معاملات میں مداخلت کے حوالے سے کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔