بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سند ھ میں شراب کی فروخت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا عبوری فیصلہ کالعدم قرار

سند ھ میں شراب کی فروخت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا عبوری فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے سند ھ میں شراب کی فروخت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے عبوری فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے صوبے میں ایک بار پھر سے شراب کی فروخت کی اجازت دے دی ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹ کو اس معاملہ میں مداخلت کا اختیار نہیں تھا کیونکہ شراب کی ریگولیشن عدالت عالیہ کا کام نہیں ہے۔ پیر کو کیس کی کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس مظہر عالم  پر مشتمل دورکنی بینچ نے کی ۔ دوران سماعت شراب فروخت کرنے والے دکان مالکان کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے خلاف ضابطہ حکم دے کر شراب فروخت کرنے والی دکانوں کے مالکان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

، پہلے بھی ہائیکورٹ نے ایسا حکم دیا تھا جو کوسپریم کورٹ نے ختم کیا تھا جبکہ شراب فروخت کرنے والی دکانوں کے مالکان کی طرف سے دوسرے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ ہائیکورٹ نے شراب کی 120دکانیں بند کردی ہیں حالانکہ عدالت کے سامنے صرف پانچ دکانوں کا معاملہ تھا۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ان دکانوں کے لائسنس تو منسوخ نہیں کئے جس پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ایک ماہ کیلئے کاروبار تو بند کردیا ہے۔سپریم کورٹ نے ایک بار ہمیں ریلیف دیا تو درخواست گذاران نئی درخواست لے کر عداالت پہنچ گئے جس پر ہائیکورٹ نے2مارچ کو پابندی لگا دی۔

جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ 1979کے قانون کے آرٹیکل 3کے تحت شراب بیچنا، اس کودکان پر رکھنا اور بنانے کے معاملہ کو ہائیکورٹ ریگولیٹ نہیں کرسکتی۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت عالیہ نے کس قانون کے تحت حکم جاری کیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں شراب فروخت کرنے کے حوالے سے قانون موجود ہے اس پر عمل ہونا چاہیے۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے اقلیتی ایم این اے رمیش کمار کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے تمام حقائق دیکھ کر فیصلہ سنایا کیونکہ صوبہ میں مروجہ قانون کے آرٹیکل 37پر عمل نہیں ہوا کیونکہ شراب صرف نان مسلم کوخاص دنوں کے دوران شراب فروخت کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہر جگہ شراب کی دکانیں ہیں ،اس حوالے سے کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے ، شراب خانے سکولز ، کالجز،پبلک پارکس کے قریب نہیں ہونے چاہیے ،جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست کیااستدعا میںیہ موقف نہیں اپنایا۔عدالت کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ اس معاملہ میں مداخلت کرکے شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے شراب فروخت کرتا ہے تو اس کیخلاف پولیس کو کارروائی کرنی چاہیے ، پولیس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی جاری رکھے ، عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی مزید سماعت تین رکنی بینچ کرے گا کیونکہ سندھ ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے اس معاملہ میں حکم جاری کیا ہے۔