Home / کالم / اقتصادی صورتحال

اقتصادی صورتحال

پاکستان کی داخلی اقتصادیات روپے پر منحصر ہے جبکہ بیرونی اقتصادیات کا انحصارامریکی ڈالر پر ہے اگر ہم پاکستان کی داخلی و خارجی اقتصادیات کا اجمالی جائزہ لیں تو یہ مذکورہ ڈالرز میں آمدن و اخراجات کا مجموعہ ہے پاکستان کی درآمدات یعنی ڈالرز کی صورت اخراجات توجہ طلب ہیں پانچ برس پہلے پاکستان کی درآمدات 35ارب ڈالر تھیں جو بڑھ کر قریب 45 ارب ڈالر ہو چکی ہیں اور پانچ سال میں درآمدات میں ہونیوالا یہ اضافہ 28فیصد کی شرح سے ہو رہا ہے درآمدات پر اٹھنے والے یہ اخراجات اسلئے بھی خطرناک ہیں کیونکہ ہماری آمدن یعنی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مد میں وصول ہونیوالے ڈالرز کی تعداد کم ہو رہی ہے

پانچ سال پہلے پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر کے مساوی ہوا کرتی تھیں تو یہ کم ہو کر سالانہ 20ارب ڈالر ہو چکی ہیں اور گذشتہ پانچ برس کے دوران برآمدات میں ہونے والی یہ مسلسل کمی 20 فیصد کے تناسب سے ہو رہی ہے اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیل زر میں بھی کمی آئی ہے اگر ہم رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کا موازنہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے سے کریں تو ڈالروں کی صورت اخراجات اور ڈالروں کی صورت آمدن میں 90فیصد کمی آئی ہے!پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا اصل ذریعہ بھاری شرح سود پر حاصل کئے جانے والے قرضہ جات ہیں لیکن باوجود قرض لینے کے بھی یہ ذخائر نہ صرف کم بلکہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں

اگر ہم گذشتہ چند ماہ کے اعدادوشمار دیکھیں تو ہمارے پاس بیرونی کرنسی کے ذخائر 19ارب ڈالر سے کم ہو کر 17 ارب ڈالر ہو چکے ہیں اور اگر زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہتا ہے بالخصوص ایک ایسی صورتحال میں جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے اور ایک سال کے دوران تقریباً دگنی بڑھ چکی ہے تو اقتصادی ابتری پر مبنی صورتحال میں اسکے سوا کوئی چارہ دکھائی نہیں دے رہا کہ پاکستان مالی سال دوہزار اٹھارہ کے دوران مجبوری کے عالم میں ایک مرتبہ پھرآئی ایم ایف کے پاس جائے اور بھاری شرح سود پر مزید قرضے حاصل کرے‘

پاکستان کی داخلی و خارجی اقتصادی صورتحال کا یہ منظر نامہ ذہن میں رکھتے ہوئے ایک نظر سی پیک منصوبے پر بھی ڈالیں جسے پاکستان کی جملہ مشکلات کا حل قرار دینے والے اسے درآمدات و برآمدات میں بڑھتے ہوئے فرق کا حل بھی قرار دیتے ہیں تصور کرتے ہیں کہ چین کی طرف سے ملنے والے قرضہ جات میں سے 35 ارب ڈالر توانائی کے پیداواری منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے جس سے پاکستان پر بیرونی قرضہ جات کی واپسی کا سالانہ بوجھ 5.3 ارب ڈالر ہو جائے گا جبکہ انشورنس کی مد میں سالانہ 2 ارب ڈالر کی ادائیگی الگ سے کرنا ہوگی۔

پاکستان کی خارجہ اقتصادی صورتحال جو کہ ’امریکی ڈالروں‘ پر بنیاد رکھتی ہے ہر گزرتے دن کیساتھ بد سے بدتر ہو رہی ہے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حال ہی میں یہ اقدام کیا گیا ہے کہ 404 ایسی اشیاء کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے دی جانیوالی رعایت سوفیصدی ختم کر دی گئی ہے ان غیرضروری اشیاء کی درجہ بندی میں تیل کے علاوہ دیگر ایسی اشیاء شامل ہیں جن کا شمار بنیادی ضروریات میں نہیں ہوتا سٹیٹ بینک کے اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اپنے حصے کا کام نہیں کر رہی اور یہی وجہ تھی کہ سٹیٹ بینک کو درمیان میں کود کر پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو سنبھالا دینے کی کوشش کرنا پڑی۔

سال دوہزار تیرہ کے اوائل کی بات ہے جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اسی صورت تیزی سے کم ہو رہے تھے تو حکومت نے ’آئی ایم ایف‘ سے 36ماہ کیلئے6.4 ارب ڈالر کی صورت قرضوں پر قرض لینے کی ایک سہولت سے فائدہ اٹھایا اور آج پاکستان پھر وہیں کھڑا ہے جہاں سال 2013ء کے اوائل میں کھڑا تھا کہ ہمیں اپنے تیزی سے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر کو عارضی طور سے ہی سہی لیکن کچھ مستحکم کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا سال دوہزار تیرہ اور آج کے اقتصادی حالات کا موازنہ کیا جائے تو فرق صرف یہ آیا ہے کہ آج جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے تو پاکستان کے ذمے واجب الادا غیرملکی قرض کی سالانہ اقساط دوگنا بڑھ چکی ہیں

یاد رہے کہ آئندہ 14ماہ کے دوران پاکستان نے لازماً 6.5 ارب ڈالر کا قرض اور اس کا سود ادا کرنا ہے۔پاکستان کے پاس اسکے سوا اب کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جائے کیونکہ ہماری اقتصادیات کا بیرونی حصہ تیزی سے کمزور ہو رہا ہے

اس ابتر اقتصادی صورتحال پر اکنامک کورآڈی نیشن کمیٹی کے ایک اجلاس میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے لیکن یا تو ہماری حکومت کی استعداد نہیں یا پھر وہ چاہتی نہیں یا یہ دونوں امکانات کی وجہ سے وہ پاکستان کی ابتر اقتصادی صورتحال کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے میں سنجیدگی سے غوروخوض اور عملی اقدامات نہیں کر رہی سٹیٹ بینک نے ملک کے سبھی بینکوں کے سربراہوں سے ملاقات کے دوران ڈالرز کی بیرون ملک ترسیل روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت اور سالانہ 10ارب ڈالر تک ترسیل زر کی شرط عائد کی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)