بریکنگ نیوز
Home / کالم / جمہوریت اور شخصیت پرستی

جمہوریت اور شخصیت پرستی


اس سے پیشترکہ ہم جمہوریت اور شخصیت پرستی پر چند سطور رقم کریں بہتر ہو گا کہ نوع انسانی نے شخصی حکومت سے لیکر جمہوریت تک کا جو ارتقا ئی سفر کئی صدیوں میں طے کیا اس کے بارے میں چند الفاظ درج کردئیے جائیں افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ جسے ہم صحیح معنوں میں جمہوریت قرار دے سکتے ہیں وہ تو صرف معدودے چند ممالک میں ہی پھلی پھولی ہے اکثر پرانے فلسفیوں کے جمہوریت کے بارے میں خیالات کچھ زیادہ اچھے نہ تھے ‘ تھامس کارلائل نے کہا تھا کہ میں اس مجموعی دانش کو قطعاً نہیں مانتا کہ جس کی بنیاد ہی انفرادی جہالت پر مبنی ہو اس کے خیال میں یہ کام عقلمند اور دانا سیاستدانوں کاہونا چاہئے کہ وہ غیر روشن خیال ہجوم کو بتائیں کہ اس نے کیا کرنا ہے نہ کہ یہ ہجوم ان کو بتائے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے 508 قبل از مسیح سے لیکر 323 قبل از مسیح تک کہ جب ایتھنز کی پالیسیوں کو وضع کرنے کے تمام اختیارات یونان کے جمہور یعنی Demos کو تفویض کئے گئے تمام فلسفی اسی خیال کے مالک تھے ‘ ماضی کے اکثر فلاسفروں نے جمہور کو جاہل‘اور ڈسپلن او ر اخلاق سے عاری قرار دیا ہے مشہورمورخ اور فلسفی تھسی ڈاہڈ کے خیال میں امراء شاہی انقلابی کاموں کی طرف زیادہ راغب نہیں ہوتے ارسطور کا خیال تھا کہ غالباً بادشاہی نظام ہی بہترین نظام ہے بشرطیکہ بادشاہ اچھے اوصاف کا مالک ہو یونانی کبھی بھی جمہور سے متاثر نہ ہو ئے ان کے نزدیک جمہور کی مثال مشتعل ہجوم کی مانند ہوتی ہے اور پلوٹارچ نے تویہ کہہ کر حد کر دی کہ جمہور کی مثال جانوروں جیسی ہے ہمارے اپنے شاعر مشرق علامہ اقبال کے بھی جمہوریت کے بارے میں خیالات کافی واضح تھے انہوں نے کہا کہ
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
چرچل کا البتہ یہ خیال تھا کہ گو کہ جمہوری نظام بھی خامیوں سے پاک اور مبرا نہیں لیکن اب تک دنیا نے جو بھی گورننس کے نظام آزمائے ان میں جمہوریت کا نظام ہی قدرے بہتر ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ اگر نوع انسان کو اس سے بہتر نظام ملا تو اسکو اپنانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے ‘ وطن عزیز میں تو صحیح معنوں میں کبھی جمہوریت رہی ہی نہیں ہم توہمیشہCult Democracy یعنی شخصیت پرستی پر ہی چلتے رہے کیا ایوب خان‘ ذوالفقار علی بھٹو ‘ ضیاء الحق ‘ بے نظیر ‘ میاں نواز شریف‘ الطاف حسین وغیرہ شخصیت پرستی کے ستون نہ تھے؟ ہم نے تو ادارہ سازی اورریاستی اداروں کی نشوونما کی طرف کبھی دھیان ہی نہ دیا ہماری جمہوریت شخصیت پرستی اور موروثی سیاست کے ارد گرد ہی گھومتی رہی1947ء سے لیکر آج تک اس ملک میں جو سیاسی پارٹی بھی برسر اقتدار آئی بھلے وہ مرکز میں تھی یا کہ صوبوں میں اس نے اپنی اپنی پارٹی کے قائد کے گن گائے میڈیا میں اشتہار بازی کے ذریعے اسے پروموٹ کیا یہ عمل آج بھی جاری ہے اور اگر یہی لوگ کل کلاں بھی ایوان اقتدار میں رہتے ہیں تو یہی صورتحال آئندہ بھی رہنے کا امکان ہے صرف ایک آدھ مذہبی سیاسی جماعت کو چھوڑ کر کہ جس میں انٹرا پارٹی الیکشن کا ایک جامع نظام موجود ہے یقین کیجئے دیگر سب پارٹیوں کے قائدین کو اگر آج چلتا کر دیا جائے تو ان سیاسی پارٹیوں کا پورا نظام ہی درہم برہم ہو جائے وہ زندہ ہی اپنے قائدین کی وجہ سے ہیں فرد واحد پر انحصار خطرناک چیز ہے یہ مفروضہ غلط ہے کہ اگر قائدین ہٹ گئے تو یہ سیاسی پارٹیاں چل نہ سکیں گی ایک مثل مشہور ہے کہ اگر کسی مسجد میں ملا نہ بھی ہو تو اذان دینے والے پیدا ہوجاتے ہیں ہر لیڈرکا نعم البدل مل جاتا ہے کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ وہ ناگزیر ہے۔