بریکنگ نیوز
Home / کالم / داخلی و خارجی: درپیش چیلنجز

داخلی و خارجی: درپیش چیلنجز


پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی جانب سے جارحانہ بیانات اور دھمکیوں اور امریکہ کی نظر میں ’دہشت گردوں‘ کی پشت پناہی جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے جو درحقیقت داخلی و خارجی غیر معمولی خطرناک چیلنجز کا حصّہ ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیریوں کی بغاوت کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارت حکومت نے کشمیریوں کے احتجاج کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی ایک کوشش کے طور پر ثابت کرنے کے لئے اپنی سفارتکاری پر مبنی پراپگنڈہ مہم تیز کردی ہے۔ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے علاقے اوڑی میں فوجی مرکز پر حملے کے بعد بھارت وادی میں اپنے مظالم پر سے توجہ ہٹانے کے لئے ’لائن آف کنٹرول (ایل او سی)‘ پر کشیدگی بڑھا سکتا ہے‘ ایسے میں پاکستان کو انتہائی بدترین صورتحال کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان‘ چین اور مسلم دنیا میں اپنے چند دوستوں کی جانب سے سفارتی حمایت کا سہارا لے سکتا ہے تاہم اسے زیادہ توجہ اپنی دفاعی تیاری اور اپنی سفارت کاری پر مرکوز رکھنی ہوگی۔ پاکستان کو ردعمل کے لئے ایک ایسی پالیسی بنانی چاہئے‘ جس سے نہ صرف حالیہ خطرہ کچھ کم ہو بلکہ اس سے کشمیریوں کو بھی یہ محسوس نہ ہو کہ اُن کی جدوجہد کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا گیا ہے۔

پاکستان کو سب سے پہلے کابل اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے اور بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے‘ جو افغانستان میں امن کے لئے سہ فریقی عمل کے خاتمے کے بعد سے خراب ہیں۔ عراق کی طرح افغانستان میں مداخلت کے بعد سے اپنی سنگین غلطیوں کے باوجود‘ واشنگٹن افغانستان میں پیش آنے والی مشکلات کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔ کابل اور واشنگٹن کا ماننا ہے کہ پاکستان میں موجود محفوظ ٹھکانے افغانستان میں افغان طالبان کی شورش کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں اور امن عمل کے لئے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے ہماری نیک نیتی سے کی گئی کوششوں اور کردار نے ہمیں طالبان کے ساتھی کے طور پر متعارف کروا دیا ہے‘ یہی وقت ہے کہ اب ہم طالبان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ پاکستان کو اس حوالے سے ایک واضح پالیسی بنانی چاہئے کہ وہ افغان طالبان قیادت کی کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا اور مصالحت اور امن عمل کے لئے طالبان اور افغان حکومت یا کابل کے سیاسی عناصر کے درمیان براہ راست روابط کا خیر مقدم کرے گا۔ اگر پاکستان سے خاص طور سے درخواست کی گئی تو ہم اب بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اسی طرح سرحدی معاملات کی بھی بہتر نگرانی کی ضرورت ہے جبکہ حکومت اِن دنوں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غوروخوض کر رہی ہے۔

1990ء کی دہائی میں کشمیر میں حریت پسندوں کا ساتھ دینے اور طالبان کے ساتھ منسلک ہونے سے عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچا۔ ممبئی حملہ کیس میں تاخیر سے بھی یہ تاثر پیدا ہوا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری طرح سے پرعزم نہیں ہے‘ اس سے مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بیرونی عناصر کو جواز بناکر بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے گا‘ لہٰذا اوڑی حملے کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کے لئے ماضی کی طرح بھارت کے ساتھ تعاون کرنے ہی میں بھلائی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں مقیم کشمیری تارکین وطن کو اپنے مصائب اور بنیادی حقوق حاصل کرنے کے حوالے سے عالمی تحریک چلانے کے لئے خود کو متحرک کرنا ہوگا۔ پاکستان کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری رہنماؤں سے مشاورت کرنی چاہئے اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اِس دیرینہ مسئلے کے حل کے لئے رابطوں کا دائرہ کار بڑھانا چاہئے۔