بریکنگ نیوز
Home / کالم / یہ درست نہیں

یہ درست نہیں


ایک رواج پڑ گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کو صوبائی رنگ دیا جا رہا ہے سیاست میں اختلافات کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں اس لئے کہ پارٹیاں بنتی ہی تب ہیں جب اختلافات جنم لیتے ہیں مگر اختلافات کو اسی زمرے میں لیناچاہئے اسے کسی بھی طرح صوبائیت کا جامہ نہیں پہنانا چاہئے ۔ کافی عرصے سے دیکھا جا رہا ہے کہ اگر اختلاف اگر دو سیاسی لیڈروں کا ہے تو اسے صوبائی رنگ دے دیا جاتا ہے اختلاف وزیر داخلہ سے یا انکے کسی فرمان سے ہے تو اس اختلاف کو سندھ سے پنجاب کے اختلاف کا رنگ دے دیا جاتا ہے اور یہ کام کوئی عام آدمی نہیں بلکہ بڑے لیڈر کر رہے ہیں جنکی ذمہ داری قوم کو یکجا رکھنے کی ہے

نیب ایک مرکزی ادارہ ہے اسکی حدود پورا پاکستان ہے پاکستان کے جس بھی حصے سے کوئی غلطی نظر آتی ہے جو نیب کے دائرہ اختیار میں ہے تو وہ اس پر ایکشن ضرور لیتی ہے کچھ عرصے سے اس ادارے کو تنقید کا ہدف بنایا جارہا ہے خصوصاً اسکے چیئرمین پر کھل کر تنقید کی جا رہی ہے تنقید بڑی پارٹیوں کے سربراہوں کی جانب سے ہو رہی ہے یوں نظر آتا ہے کہ جواختلاف پارٹیوں کا آپس میں ہے وہ نیب کے سربراہ کے سر منڈھا جا رہا ہے آئینی طور پر نیب کے سربراہ کا چناؤ وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے باہمی مشورے سے ہوتا ہے اور موجودہ چیئرمین کا چناؤ بھی دونوں کے مشورے سے ہوا ہے

اب اگر کسی بھی پارٹی کے کسی بھی رکن کو نیب پکڑتی ہے تو وہ پارٹی سے زیادہ صوبائی معاملہ ہو جاتا ہے اسلئے کہ صوبوں میں حکومتیں مختلف پارٹیوں کی ہیں اور مرکز اور پنجاب میں حکومت مسلم لیگ ن کی ہے اب اگر کوئی سندھ کا لیڈر کسی بھی کرپشن کے کیس میں نیب کو مطلوب ہوتا ہے تو سندھ سے حملہ پنجاب پر کیا جاتا ہے اسلئے کہ پنجاب میں حکومت ن لیگ کی ہے اسی طرح جو کیس سرحد میں ہوتا ہے اسکاحملہ بھی پنجاب پر کیا جاتا ہے بظاہر تو یہ معمولی بات نظر آتی ہے اسلئے کہ یہ پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہیں مگر در اصل یہ صوبائیت کو ہوا دینے والی بات ہے اگر کسی کو نیب نے کسی کیس میں ملوث کر کے پکڑا ہے تو وہ اپنا جوا ب نیب کو دے سکتا ہے اور اپنا کیس لڑ سکتا ہے اس میں مرکزی حکومت یا پنجاب کی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے

پنجاب سے بھی بیسیوں مقدمات نیب میں چل رہے ہیں مگر کسی نے اس کو سندھ یا کے پی کی سازش نہیں کہا مگر ان صوبوں سے براہ راست پنجاب اور مرکز کو لتاڑا جا رہا ہے ہمارے خیال میں یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔سیاسی اختلافات ہوں گے تو سیاست دانوں کے ہوں گے عوام میں کوئی اختلاف نہیں ہے عوام چاہے پنجاب کے ہوں ، کے پی کے ہوں‘ سندھ کے ہوںیا بلوچستان کے ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے یہ سارے پاکستانی ہیں اور پاکستان کا سوچتے ہیں مگر جسطرح ہمارے سیاسی لیڈران اپنے اختلافات کو صوبائی رنگ دے رہے ہیں

اس سے ڈر ہے کہ عوام میں بھی یہ نسلی اور صوبائی تعصب پھوٹ پڑیگااسلئے ہمارے سیاسی لیڈروں کو صوبائی سطح پر نہیں سوچنا چاہئے بلکہ جو اختلاف مرکز یا کسی ادارے سے ہے تو وہ اسی تک محدود رکھا جائے اگر نیب یا ایف آئی ا ے کسی سے پوچھ گچھ کرتی ہے تو وہ کسی صوبے کی نہیں ہے وہ پورے پاکستان کی ہے اور ان اداروں کوحق ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں اگر کوئی آئین کیخلاف بات ہو رہی ہے یا قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اس کی پکڑ کریں اسلئے کہ یہ ان اداروں کا آئینی حق ہے دوسری بات یہ کہ ادارے آزاد ہیں ان پر کسی قسم کا حکومتی دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا اگر کسی کے ہاتھ صاف ہیں اور ان اداروں نے کسی کو ناجائز پکڑا ہے تو اسکے لئے عدالتیں موجود ہیں

وہ وہاں سے انصاف حاصل کر سکتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ ان اداروں نے کاروائی کسی شک کی بنا پر کی ہو اگر ایسا ہے توانہی اداروں سے انصاف مل جائیگا اور اگر یہاں سے ممکن نہ ہو تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تو موجود ہیں یہ بھی ظاہر ہے کہ عدالتیں ہر قسم کے سیاسی یا حکومتی دباؤ سے پاک ہیں معاملات کو اسی سطح پر رکھیں کہ جہاں ہیں انکو عوام میں اختلافا ت ڈالنے کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔