بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / ہم پختون اور قانون

ہم پختون اور قانون


سلیم میرے جگری دوست ہیں ڈاکٹر ہیں اور نہایت دیانتدار۔ کبھی کسی میڈیکل ریپ سے کوئی تحفہ وصول کیا اور نہ ہی کبھی مریض سے علاج کے بارے میں جھوٹ بولا انگلینڈ سے تربیت یافتہ ہیں پچھلے الیکشن میں انکے بیٹے کریم نے پورے گھرانے کو مجبور کیا کہ موجودہ حکمران پارٹی کو ووٹ دیا جائے جب حکومت بنی تو ایک مرحلے پرحکومت کی طرف سے تمام اسلحہ کی رجسٹریشن شروع ہوئی ڈاکٹر سلیم چونکہ پشاور سے باہر رہتے ہیں اسلئے پختون روایات کے مطابق گھر میں اسلحہ ضرور رکھتے ہیں زیادہ تر اسلحہ لائسنس یافتہ ہے تاہم انہوں نے بیٹے کو بتایاکہ اسلحے کی نہ صرف رجسٹریشن ضروری ہے بلکہ ہر سال لائسنس کی تجدید بھی لازمی ہے۔

اس پر کریم نے ناک بھوں چڑھائی تو باپ نے بیٹے کو یاد دلایا کہ الیکشن میں انصاف کے نام پر ووٹ دیا ہے توقانون کا احترام بھی لازم ہے کہ معاشرے میں ہر شہری قانون کو جواب دہ ہے۔ میں خود پختون ہوں اسی معاشرے کا حصہ ہوں پختون روایات ‘انکی غلط تعبیر‘ غیرت اور پختون ولی کے نام سن سن کر کان پک گئے ہیں یہ میرا ہی دل جانتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کا احترام بے غیرتی کے مترادف سمجھا جاتا ہے گھر کی سطح سے لیکرسیاست تک قانون توڑنا کوئی جرم ہی نہیں سمجھتا اسکا سب سے بڑا مظاہر ہ پچھلے ہفتے سے اخباروں میں بیانات سے ظاہر ہے جب ملاکنڈ میں حکومت نے کَٹ گاڑیوں کیخلاف مہم شروع کی تو سیاست دانوں نے باقاعدہ جلوس نکال کر احتجاج شروع کیا۔ مجھے اس دیدہ دلیری پر افسوس ہورہا ہے کہ ایک غیر قانونی کام کا کس طرح سے دفاع کیا جارہا ہے پوری دنیا میں کہیں بھی ایسی لاقانونیت نہیں کہ ملک کے ایک حصے میں گاڑیاں رجسٹریشن کے بغیر سڑکوں پر دندناتی پھرتی ہوں اور پولیس، حکومت اور عوام تماشا دیکھ رہے ہوں ۔صرف عوامی مقبولیت کیلئے نعرہ لگانے والی نیشنلسٹ پارٹیوں کا غیر قانونی اقدام کیلئے تو میدان میں آنا آسان ہے لیکن جب مردم شماری میں اسی پختون کی شمولیت کا مرحلہ آیا تو انہوں نے عوام کی تربیت کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی کسی رہنمائی کی کوشش کی پختونخوا میں مردم شماری کے موقع پر عوام کی طرف سے بھی کوئی جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا۔

قانون کے احترام کا روزمرہ مشاہدہ آپ موٹر وے پر کرسکتے ہیں جونہی آپ پنجاب سے پختونخوا میں داخل ہوتے ہیں آپ کو موٹر وے پر پیدل افراد کی آزادانہ نقل و حرکت نظر آئیگی میں نے اپنی آنکھوں سے صوبائی پولیس کی موبائل گاڑیوں کو موٹر وے پر مخالف سمت سے ڈرائیوکرتے دیکھا ہے موٹر وے کے دونوں اطراف لگی باڑ ہر دوسرے دن کٹی ہوتی ہے بلکہ رات کے وقت توسوزوکی پک اپ میں آکر پوری کی پوری حفاظتی باڑ کاٹ کر لادلی جاتی ہے ۔گھروں میں اسلحہ رکھنا بھی پختون ولی کا مظہر سمجھا جاتا ہے اور اسکے لائسنس کو تو گولی ماریں، گھر میں بھی اسے حفاظت سے نہیں رکھا جاتامیں کئی ایسے تعلیم یافتہ بدقسمت خاندانوں کو جانتا ہوں کہ کیسے ایک بچے نے کلاشنکوف چلاکر ایک دو افراد کی جان لی ہر کسی کو معلوم ہے کہ ہوائی فائرنگ غیر قانونی ہے۔ مہلک ہے۔

ہر دفعہ بے گناہ افراد کی جان چلی جاتی ہے لیکن مجال ہے جو خاندان کے تعلیم یافتہ افراد نے بھی کوئی مہم چلائی ہو۔ پچھلے کرکٹ میچ میں پختونخوا کی کامیابی کو بے تحاشا ہوائی فائرنگ کرکے منایا گیا فیس بک پر ہر کسی نے وہ ویڈیو دیکھی ہوگی جس میں بابِ پشاور پر ایک نوجوان لڑکی گاڑی کے سن روف میں سے نکل کر کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ کررہی ہے۔ سڑک پر توقانون کا احترام یہاں کسی گالی سے کم نہیں میرے ایک دوست ہیں جو امریکہ میں بیس پچیس سال گزار کر آئے ہیں ۔ ایک دن میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے جب میں نے ان کو سڑک پر مخالف سمت سے ڈرائیو کرتے دیکھاسمگلنگ کے سامان کی باربرداری کیلئے سائیکل سواروں، موٹر سائیکلوں، موٹر سائیکل سے بنی غیر قانونی تین پہیوں والی گاڑیوں کی خطرناک نقل و حرکت سے تو ہر کوئی واقف ہے جس میں نہ صرف اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں اپنے پیچھے ایک خاتون کو بھی موت کے منہ میں ڈا ل کر پھرتے ہیں میرے پاس ہر ماہ ایک دو ایسے نوجوان لائے جاتے ہیں جو بجلی کی گیار ہ ہزار وولٹ تاروں سے محض کنڈہ ڈالنے کیلئے بے خطر چمٹ گئے ہوں اور تو اور، پشاور سے نکل کر کسی قصبے میں سیٹ بیلٹ باندھ کر ڈرائیونگ تو کیجئے۔ لوگ تمسخر اڑاتے ہیں کہ وہ دیکھو ایک پختون سیٹ بیلٹ باندھ کر جارہا ہے چند سال قبل میرے پاس ایک درآمد شدہ گاڑی تھی جس میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی شکل میں گاڑی سے نہایت تیز سائرن کی آواز نکلتی جب میں چند ماہ کیلئے باہر گیا تو میرے ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ کو باندھ کر اپنے نیچے پھنسالیا تھا یعنی گاڑی کے کمپیوٹر کو دھوکہ دینے کیلئے بیلٹ کے بکل کو بند کردیا تھا جب میں واپس آیا تو سرپیٹ لیا صرف ایک اسی بیلٹ کے ٹھیک کرنے کیلئے مجھے لگ بھگ پچاس ہزار کا تاوان بھر نا پڑا لیکن اسکا فائدہ مجھے یوں ہوا کہ اسکے بعد شہر ہی میں میرا ایک خطرنا ک حادثہ ہوا اور اس میں پوری گاڑی درمیان میں سے پھٹ گئی لیکن مجھے خراش تک نہیں آئی کہ ائر بیگ اور سیٹ بیلٹ نے میری حفاظت کی۔

ہر کسی کو معلوم ہے کہ سعودی عرب سمیٹ تمام گلف ممالک میں منشیات لے جانا جرم ہے اور سعودی میں تو ہر ہفتے کسی نہ کسی پختون کی گردن سرعام اُڑائی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک دوست نے ایک سرٹیفیکیٹ مانگا کہ ان کا ڈرائیور دبئی میں پچھلے چار ماہ سے جیل میں ہے۔ جرم ؟ اپنے ساتھ درد کش گولیاں لیکر گیا تھا جن میں کوڈین شامل تھی لیکن اسکے پاس ڈاکٹر کا نسخہ نہیں تھا مشرقِ وسطیٰ میں پختونوں کی اتنی بڑی آبادی ہے تاہم نہ وہ قانون سے واقفیت اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی پرواہ۔ نتیجتاً مزدوری کیلئے جاتے ہیں اور جیل کی ہوا کھا کر آجاتے ہیں ۔

میں نہیں جانتاکہ کیسے اپنے پختون بھائیوں اور بزرگوں کوقانون کا احترام سکھا سکوں تعلیم نے کام نہیں کیامسجد میں تو مولانا خود لاؤڈسپیکر سے قانون کی دھجیاں اُڑا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے ورکرز کو اُلٹا شہ دیتی ہیں کہ قانون انکی جوتی تلے ہے وہ سیاستدان زیادہ مقبول ہوتا ہے جو انکو جرم کرنے پر پولیس سے دھونس دھاندلی سے چھڑواکر لائے قوم پرستوں کے جلسے اسلحے کے سائے تلے ہوتے ہیں پولیس بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے اور معاشرے کے دباؤ میں آجاتی ہے افسر شاہی میں اچھے خاصے پختون افسران ہیں لیکن کوئی اس بدقسمت صوبے کو کوئی پالیسی دے سکا اور نہ معاشرے کو سدھار سکا سیاست اور افسر شاہی میں پختون خواتین کا دم غنیمت ہے اگر انہیں کام کرنے دیا جائے ماؤں کی تربیت ہی معاشرے کو سدھار سکتی ہے لیکن پختون کلچر میں اس بیچاری کی کون سنتا ہے یوں یہ خودکش قوم اپنی تباہی کی طرف خوشی خوشی گامزن ہے۔