بریکنگ نیوز
Home / کالم / سی پیک : اچھی خبر!

سی پیک : اچھی خبر!


سی پیک منصوبہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کی معاشی و اقتصادی صورتحال کیلئے اچھی خبرہے اور اِس منصوبے کو ’اقوام متحدہ‘ کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ سلامتی کونسل میں سی پیک کی حمایت میں قرارداد منظور کر لی گئی ہے قرارداد میں ایشیائی ملکوں پر علاقائی اقتصادی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے سفارتکاروں کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے سی پیک کی حمایت سے کشمیر پر بھارتی دعویٰ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ترقی و خوشحالی کے حوالے سے چین صرف پاکستان ہی نہیں‘ دنیا کے اکثر ممالک کیلئے ایک مثال اور رول ماڈل ہے۔

پاکستان اور چین کی معیشت کے مابین کوئی مقابلہ اور موزانہ نہیں ہے تاہم وہی چین جسکی معیشت آج آسمان کو چھو رہی ہے‘ ستر کی دہائی تک پاکستان اس کی مالی مدد کرتا تھا 1982ء میں پاکستان کی فی کس آمدنی چین سے زیادہ تھی چینی حکام اسکا برملا اعتراف کرتے ہیں مگر آج پاکستان اور چین کی ترقی‘ خوشحالی اور معیشت کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے مگر چین نے اس دور کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جب پاکستان اس کی مدد کرتا تھا آج اگر وہ دنیا کی معیشتوں میں سرفہرست ہے تو وہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔

چینی دانشور پروفیسر تنگ منگ شنگ کہتے ہیں چالیس سال قبل لوگ ایک سائیکل‘ گھڑی اور سلائی مشین کیلئے جدوجہد کرتے تھے اور جسکے گھر میں یہ تین چیزیں ہوتی تھیں اسے امیر تصور کیا جاتا تھا بیس سال کے بعد لوگ فریج‘ ٹی وی وغیرہ لینا چاہتے تھے‘ مزید دس سال بعد مکان‘ گاڑی وغیرہ کیلئے سوچنے لگے چالیس سال میں لوگوں کا معیار زندگی تین مراحل سے گزرا میں سمجھتا ہوں ہمارا یہی راستہ پاکستان کے لوگوں کا راستہ ہوگا اور آپ بھی خوشحال ہوجائیں گے لیکن سی پیک کیلئے مل کر محنت کرنا ہوگی۔سی پیک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا منصوبہ ہے جس سے نہ صرف خطے اور پڑوس کے ممالک استفادہ کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک کیلئے بھی شراکت داری کے راستے کھلے ہیں پاکستان نے بہت سے ممالک کوسی پیک منصوبے میں شامل ہونیکی دعوت دی اور کئی ممالک نے خود اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے گرم پانیوں تک کسی دور میں سوویت یونین طاقت کے زور پر پہنچنا چاہتا تھا پاکستان نے اس کے منصوبے خاک میں ملا دیئے‘ دنیا کی سپر پاور گرم پانیوں تک پہنچنے کی جستجو میں بکھر کر رہ گئی آج روس پھر دنیا کی دوسری پاور بن رہا ہے اب بھی اسکی گرم پانیوں تک پہنچنے کی خواہش ہے مگر اب اس نے مہذبانہ اور سفارتی طریقہ اختیار کیا ہے جسے پاکستان نے خوش آمدید کہا اسے گوادر پورٹ تک رسائی دی جا رہی ہے۔

چھیالیس ارب ڈالر سے تین سال قبل شروع ہونے والا سی پیک منصوبہ تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے جس سے لاکھوں ملازمتوں کے دروازے کھلیں گے ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں توانائی کے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں‘ آج بجلی کی لوڈشیڈنگ میں واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے ملازمتوں کیساتھ ساتھ ذرائع نقل و حمل سے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے اور بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان کی ترقی کا آغاز ہو چکا ہے جس کی دشمنوں بالخصوص بھارت کو بے حد تکلیف ہے بھارت نے چین پر سی پیک منصوبے کے خاتمے پر زور دیامودی خود چین گئے انکی کابینہ کے ارکان اور سیکرٹری اب تک چین جا رہے اور چین کو رام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر بھارت اس قرارداد کے باوجود ان منصوبوں کی مخالفت ترک کرنے پر آمادہ ہو گا‘ نہ اسکے خلاف سازشوں سے باز آئیگا یہ سب بھارت کی شرارت اور شیطانی ذہنیت کا شاخسانہ ہے۔ ایل اُو سی پر اسکی اشتعال انگیزی جاری ہے سی پیک کے حوالے سے عالمی اتفاق رائے کو پاکستان اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے جس کیلئے مضبوط و فعال سفارتکاری کے ساتھ دفتر خارجہ کے مرکزی کردار کی ضرورت ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر زین العارفین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)