بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / حسین حقانی: عیاں راچہ بیاں

حسین حقانی: عیاں راچہ بیاں


حسین حقانی کے بارے میں ہم سب اتنا کچھ جانتے ہیں کہ اب انکے کسی نئے سیاسی ناٹک کا ذکر مرزا غالب کے اس شعر کے بغیر نہیں ہو سکتا
کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں توکہتے ہیں
کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
لگتا ہے کہ فانی بدایونی نے بھی یہ شعر انہی کیلئے کہہ رکھا ہے
فانی بس اب خدا کیلئے ذکر دل نہ چھیڑ
جانے بھی دے بلا سے رہا یا نہیں رہا

نظر آ رہا ہے کہ اب ہمیں اپنے سابقہ سفیر کاذکر دل سال چھ ماہ تک ہر روز سننا پڑیگا ہم اہل وطن کی ضیافت طبع کا سامان کرنے کیلئے اپنے وزیر دفاع خواجہ آصف کے تہہ دل سے مشکور ہیں اگرچہ کہ انہوں نے ایسا کوئی وعدہ وعیدتو نہیں کیا مگر آپشن بہر حال انکے پاس موجود ہے امریکہ والوں کو خواجہ صاحب کا آرڈر موصول ہو چکاہے بس اب صرف ڈاؤن پیمنٹ کا انتظار ہے حسین حقانی صاحب بھی تیار بیٹھے ہیں کیمرہ لائٹ اینڈ ایکشن کہنے کی دیر ہے ہم یہاں سے مال دھڑا دھڑ تیار کر کے بھیجتے رہیں گے وضاحت کرتا چلوں کہ مال سے میری مراد میمو گیٹ کا ڈی لکس ایڈیشن ہے آپکی تسلی و تشفی کیلئے عرض ہے کہ حقانی صاحب اگرچہ کہ لگتے بڑے بیوروکریٹ قسم کے ہیں اور تصویر میں توبالکل ہماری طرح انکا غصہ بھی ناک پر دھرا ہوا نظر آتا ہے مگر خدا لگتی بات ہے کہ پہلی ملاقات میں ہم نے انہیں بڑا مرنجان مرنج پایا۔

ہم نے جب بحیثیت ڈائریکٹران سے کہا کہ ڈی لکس ایڈیشن کی ریکارڈنگ ایک مرتبہ شروع ہو گئی تو پھر انہیں ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں جنوبی ایشیا کے معاملات دیکھنے کی فرصت نہ ملے گی یقین جانئے مسکرا کر کہنے لگے کہ یہ کام تو ہوتا ہی رہتا ہے اصلی اور بڑا پراجیکٹ تو میمو گیٹ ہے حقانی صاحب کیونکہ وطن عزیزکی سیاست کے اسرارو رموز کم از کم مجھ سے بہت بہتر جانتے ہیں اسلئے میں نے ان سے پوچھ لیا کہ یہ پاناما سکینڈل کے فیصلے کا ہمارے پروگرام سے کیا تعلق ہے بار دگر مسکرا کر کہنے لگے کہ میاں صاحب کی مراداگر بھر آتی ہے تو پھر ملک میں جشن کا سماں ہو گا میلے ٹھیلے ہوں گے ایسے میں ہمارا پروگرام وہاں نہیں چلے گا مگر ہم اتنی آسانی سے تو اپنی دھرتی ماں سے رشتے ناطے نہیں توڑ سکتے سفیر صاحب پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے کہ میں اس ڈیلکس ایڈیشن کو ہائی کلاس سپر ہٹ تھرلر بنانا چاہتا ہوں ایسا کھیل جس میں میرے دشمنوں کے پرخچے اڑتے ہوئے نظر آئیں مگرمیں ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ تم اسے بالی وڈڈائریکٹر رام گوپال ورماکی انڈر ورلڈمافیااور ڈرگ ڈیلروں پر بنی ہوئی کوئی تہلکہ خیز فلم بنا دو میں نے جھٹ کہا آپ بالکل فکر نہ کریں میں اسے ایک stunning, chilling and terrific قسم کا لا زوال شاہکار بنا دوں گا۔

میں نے دیکھاکہ حقانی صاحب کی باچھیں کھل اٹھیں پھر بتیسی دکھاتے ہوئے بولے تمہاری vocabulary زبردست ہے تم یہ کام کر سکتے ہوپھر انہوں نے ایک جھر جھری لی اور بولے میاں صاحب کیخلاف کسی خطرناک اور ڈرامائی فیصلے کے نتیجے میں آصف زرداری اور عمران خان کا پلڑا بھاری ہوجائیگا اور انہیں لگام دینے کیلئے ہمارا ڈیلکس ایڈیشن میاں صاحب کا بازوئے شمشیر زن ثابت ہو گا ہم آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو ایک مرتبہ پھر ناکوں چنے چبوا دیں گے پرانے کھاتے پھر کھل جائیں گے انکے بال و پر میں اک حشر سا برپا ہو جائیگا میں ایسے ایسے راز ہائے درون خانہ سے پردے اٹھاؤں گا کہ ہمارے سوا تمام چینلز کی ریٹنگ کا دھڑن تختہ ہو جائیگا ۔

ہر طرف میمو گیٹ کے چرچے ہوں گے شام کی خبروں سے بہت پہلے دوپہر کے وقت ہی بازار بند ہو جائیں گے اورپورے ملک میں لوگ بھاگ اپنے کام کاج چھوڑ کر ہمارا پروگرام دیکھنے بیٹھ جایا کریں گے حقانی صاحب موڈ میں تھے لوہا گرم تھا اسلئے میں نے سوچا کہ لگے ہاتھوں سکرپٹ پر بھی بات ہو جائے تھوک نگلتے ہوئے میں نے قدرے حکیمانہ بلکہ خاصے فلسفیانہ انداز میں پوچھا کہ حقانی صاحب کیا یہ ممکن ہے کہ ہم دوسرے ایپی سوڈ کے شروع میں خواجہ صاحب سے پوچھ لیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ اگر غائب ہو گئی ہے تو اب انکے نئے مشترکہ پارلیمانی کمیشن کی رپورٹ کیسے سامنے آئیگی ۔

سفیر صاحب نے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا ہمیں اس سے کیا غرض کہ رپورٹ کس الماری میں بند ہوتی ہے ہم میڈیا والوں نے تو بس ڈگڈگی بجانی ہوتی ہے بندر خود بخود ناچتا ہے اور لوگ تماشہ کرتے ہیں پھر ادھر ادھر دیکھ کر رازدارانہ انداز میں کہنے لگے کہ بھائی یہ رپورٹیں سیل بیکراں ہوتی ہیں اور خاص طور پر وہ رپورٹیں تو سونامی بن جاتی ہیں جن پر میرا نام لکھا ہوتا ہے پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے کہ ایبٹ آ باد کمیشن والی رپورٹ بھی تو الجزیرہ والوں نے پٹخا دی تھی اور وہ اپنے حمود الرحمان کمیشن کا کھاتہ تو انڈیا والے لے اڑے تھے انڈیا کا ذکر سنتے ہی میرے منہ سے بے اختیار نکل گیاکہ حقانی صاحب آپ نے اپنی کتاب Magnificent Delusions کی رونمائی نئی دہلی میں کیوں کی تھی سچ پوچھئے تو مجھے یوں لگا کہ جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو کچھ دیر بعد کہنے لگے میرا خیال تھا کہ تم صرف ڈرامے بناتے ہو سیاست سے تمہارا کوئی غرض واسطہ نہ ہو گا مگر تم تو چھپے رستم نکلے اب تم نے ایک سیاسی سوال پوچھ ہی لیا ہے تو پھر سنو اسکا جواب مگر یہ سوال اتنا گہرا ہے کہ اسکا جواب دینے کیلئے مجھے مرزا غالب کا یہ شعر سنانا پڑیگا
چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
میں کیونکہ سٹپٹایا ہوا تھا اسلئے شعر کی داد دینے کی بجائے یہ کہہ اٹھا کہ آخر انڈیا جاکر اپنے بھائی بندوں کا دل دکھانے کی کیا ضرورت تھی اس مرتبہ انکا غصہ دیدنی تھا آواز کا ٹمپو بلند ہو چکا تھااور آنکھوں سے غیض و غضب جھانک رہا تھاکہنے لگے تم نہیں جانتے کہ انہوں نے میرا دل کتنا دکھایا ہے وہ تو زرداری بھائی اگرمجھے ایوان صدر میں نہ رکھتے تو انہوں نے تو مجھے کال کوٹھڑی میں بند کر دینا تھا اب تک میری تکہ بوٹی ہو چکی ہوتی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا کہ دیکھیں زرداری صاحب کا دل کتنا بڑا ہے۔

آپ نے انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب دیا اسکے باوجودانہوں نے سب کچھ بھلا کر آپکو واشنگٹن میں سفیر مقرر کر دیا اب واشنگٹن پوسٹ میں آپ نے یہ لکھ دیا ہے کہ سی آئی اے کے جاسوسوں کو آپ نے ویزے ان سے پوچھ کر دےئے تھے اب زرداری اور گیلانی کو ایک مرتبہ پھر کمیشن کے سامنے پیش ہونا پڑیگا آپ نے دیکھاکل والی تصویر میں دونوں کے رنگ کتنے زرد تھے کہنے لگے یہ سب خواجہ آصف کا کیا دھرا ہے میں نے کہا کہ مضمون تو آپ نے اپنی مرضی سے لکھا تھا حقانی صاحب نے ایک بلند آہنگ قسم کا قہقہہ لگایا اور کہا کہ یار ایک تو یہاں کے خفیہ والے میرا پیچھا نہیں چھوڑتے پہلے غچہ دیکر سینکڑوں ویزے لگوا لئے اب مضمون لکھوا لیا چلواب تم جاؤ میمو گیٹ کے ڈیلکس ایڈیشن کی تیاری کرو میں خواجہ صاحب کے بیان کا پتہ کرتا ہوں۔