بریکنگ نیوز
Home / کالم / حمورابی……. دنیا کا پہلا قانون ساز حکمران

حمورابی……. دنیا کا پہلا قانون ساز حکمران


حمورابی بابل کی سلطنت کا چھٹا بادشاہ تھا جس نے 1792ء قبل از مسیح سے 1750ء قبل از مسیح کے عرصے کے دوران تمام میسو پوٹیما پر حکومت کی کہ جس کا موجودہ نام عراق ہے حمورابی کی وجہ شہرت البتہ اس کے وضع کردہ وہ قوانین ہیں کہ جنہیں تاریخ کی کتب میں کوڈ آف حمورابی کے نام سے لکھا جاتا ہے حمورابی نے 282 قوانین لکھے کہ جنہیں پتھر کی سلیٹوں پر محفوظ کرلیا گیاتھا یہ قوانین دنیا کی آنکھوں سے اس وقت اوجھل ہوگئے جب بابل تباہ ہوا 1901ء کے اوائل میں ایک فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ کو کھدائی کے دوران حمورابی کے قوانین کہ جو پتھر کی سل پر کندہ تھے ملے جو اس وقت بابل میں بولی جانے والی زبان جس کا نام تھا اکیڈین میں لکھے ہوئے تھے ۔

یہ قوانین سماجی پراپرٹی ‘طلاق‘غلاموں اور فوجداری معاملات کے بارے میں وضع کئے گئے تھے282قوانین کو ایک ہی کالم میں درج کرنا تو ممکن نہیں البتہ ہم ان میں سے چند چیدہ چیدہ قوانین نچلی سطور میں قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لئے لکھ دیتے ہیں حمورابی کے ایک قانون میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں نقب لگائے تو اسے نقب لگانے کی جگہ پر ہی قتل کرکے وہاں دفن کردیا جائے اگر کوئی راج معمار یا ٹھیکیدار کسی شخص کیلئے مکان بنائے اور ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے وہ مکان‘ مالک مکان کے سر پر گر پڑے اور اس سے اس کی موت واقع ہوجائے تو اس راج معمارکو قتل کردیا جائے اگر اس مکان کے گرنے سے مالک مکان کا بیٹا مرجائے تو اس کے بیٹے کو قتل کردیا جائے اور اگر اس مکان کے گرنے سے مالک مکان کا کوئی غلام فوت ہوجائے تو وہ راج اس مالک مکان کو سزاکے طور پر ایک غلام فراہم کرے اگر کوئی ڈاکٹر کسی شخص کا آپریشن کرے اور اس سے اس مریض کی موت واقع ہوجائے یا اگر کسی آنکھوں کے ڈاکٹر کے علاج یا آپریشن سے مریض کی آنکھ ضائع ہوجائے تو اس ڈاکٹر کی انگلیاں کاٹ لی جائیں اگر کوئی شخص کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو سزا کے طور پر اس شخص کی بھی آنکھ پھوڑ دی جائے اگر کوئی شخص کسی کی ہڈی توڑ دے تو اسکی ہڈی بھی سزا کے طور پر توڑ دی جائے اسطرح اگرکوئی شخص کسی کا دانت توڑ دے تو اس کا دانت بھی سزا کے طور پر توڑ دیا جائے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باغ میں جاکر اسکا درخت کاٹ دے تو اس کیلئے بھی بھاری سزا ایک قانون میں درج ہے حمورابی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ تاریخ میں پہلا فرد تھا کہ جسکو اس بات کا احساس تھا کہ معاشرے میں امن قائم رکھنے اور معاشرتی اور سماجی برائیوں کے خاتمے کیلئے قانون کے سخت نفاذ اور انصاف کی فراہمی کتنی ضروری ہے۔

بادی النظر میں حمورابی کے وضع کردہ بعض قوانین بڑے بے رحمانہ دکھائی دیتے ہیں پر خدا لگتی یہ ہے کہ جب معاشرہ اس قدر خراب ہوجائے کہ اسکا علاج گولیوں اور شربت سے نہ ہوسکے تو پھر اسے انجکشن یا سرجری سے ہی ٹھیک کیا جاسکتا ہے برصغیر میں بھی حمورابی کی سخت گیر پالیسیوں پر چلنے والا ایک حکمران پیدا ہوا تھا کہ جس کا نام تھا علاؤ الدین خلجی ایک مرتبہ اس نے یہ حکم جاری کردیا کہ دلی میں جو دکاندار بھی سودا بیچتے وقت کم تولنے کا مرتکب پایا گیا تو اسکے جسم سے اس وزن کا گوشت کاٹ لیا جائیگا جتنا کم وزن کاسودا تولا ہوگا بادشاہ کے مخبروں نے دلی کے ایک قصاب کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اس وقت اس قصاب کے جسم سے بادشاہ کے اہلکاروں نے تلوار سے اس قدر گوشت کاٹ لیا کہ جتنا اس نے کم تولا تھا کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد جب تک علاؤ الدین خلجی دلی کا حکمران رہاکسی دکاندار کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ سودا فروخت کرتے وقت کم تولے ۔